براہ راست نشریات

اتحادی افواج: حوثی دھمکیوں کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
حوثی دھمکیاں باب المندب

یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ باب المندب سے گزرنے والے اتحادی جہازوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حوثیوں کی جانب سے جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔

یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے اتحادی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جہاز رانی کو لاحق کسی بھی حوثی خطرے کا پوری قوت اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیا جائے گا۔

اتحاد کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

 سعودی نقطۂ نظر سے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو سیاسی یا فوجی دباؤ کے لیے استعمال کرنا نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔

اہم نکات
  • عرب اتحاد نے باب المندب سے گزرنے والے اتحادی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
  • اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ جہازوں کے خلاف حوثی دھمکیوں کا پوری قوت اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیا جائے گا۔
  • اتحاد کے مطابق یہ دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور بحری قزاقی کے زمرے میں آتی ہیں۔
  • سال 2026 کی پہلی ششماہی میں 300 سے زائد تجارتی جہاز الحدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ کی بندرگاہوں پر پہنچے۔
  • اتحاد نے یمنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی مکمل بندش سے متعلق حوثی بیانیے کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔
  • صنعاء ایئرپورٹ کی بندش اور یمنی فضائی کمپنی کے طیاروں کی تباہی کی ذمہ داری بھی حوثیوں پر عائد کی گئی ہے۔

سرکاری بیان

یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کے لیے قائم اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمان نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے اتحاد کے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ گزرنے والے جہازوں کے خلاف حوثیوں کی کسی بھی دھمکی کا پوری قوت اور سختی سے جواب دیا جائے گا، کیونکہ یہ دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور بحری قزاقی کے زمرے میں آتی ہیں۔

میجر جنرل المالکی نے کہا کہ یمن کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی بندش سے متعلق دعوے گمراہ کن معلومات اور یمنی حکومت و ہمسایہ ممالک کے خلاف حوثیوں کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ محاصرے سے متعلق حوثیوں کا بیانیہ حقیقت کے منافی اور گمراہ کن ہے۔ 

سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 300 سے زائد تجارتی جہاز الحدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ کی بندرگاہوں میں داخل ہوئے، جن پر مختلف اقسام کی غذائی اشیا، تجارتی سامان، ایندھن اور تعمیراتی مواد لدا ہوا تھا۔

! یہ کیوں اہم ہے؟
آبنائے باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارتی جہاز، تیل بردار ٹینکر اور مختلف سامان لے جانے والے بحری قافلے گزرتے ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے جہازوں کو نشانہ بنانے یا ان کی آمدورفت روکنے کی کسی بھی کوشش سے نہ صرف سعودی عرب اور یمن کی سلامتی متاثر ہوگی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل، شپنگ انشورنس اور اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
باب المندب میں ایک کامیاب حملہ بھی بڑی شپنگ کمپنیوں کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور کرسکتا ہے، جس سے نقل و حمل کے اخراجات اور ترسیل کا دورانیہ بڑھ جائے گا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش اور یمن کی قومی فضائی کمپنی کے طیاروں کی تباہی کی ذمہ دار خود حوثی ملیشیا ہے۔ 

اسی طرح حوثیوں نے ہوائی اڈے سے پروازوں کی بحالی کے لیے پیش کی گئی تمام تجاویز اور اقدامات کو بھی مسترد کیا۔

میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بار پھر تصدیق کی کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمان نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے اتحاد کے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے، جبکہ گزرنے والے جہازوں کے خلاف حوثی دھمکیوں کا پوری قوت اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیا جائے گا، کیونکہ ایسی دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور بحری قزاقی کے مترادف ہیں۔

i فیکٹ باکس
سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی
متعلقہ اتحاد یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والا عرب اتحاد
مرکزی مقام آبنائے باب المندب
اتحاد کا اقدام اتحادی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کا آغاز
اتحاد کی وارننگ حوثی دھمکیوں کا پوری قوت اور سختی سے جواب دیا جائے گا
قانونی مؤقف جہازوں کو دی جانے والی دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور بحری قزاقی ہیں
تجارتی جہاز 2026 کی پہلی ششماہی میں 300 سے زائد جہاز یمنی بندرگاہوں پر پہنچے
متعلقہ بندرگاہیں الحدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ
جہازوں پر موجود سامان غذائی اشیا، تجارتی سامان، ایندھن اور تعمیراتی مواد
صنعاء ایئرپورٹ اتحاد نے بندش اور یمنی طیاروں کی تباہی کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد کی
کسی بحری جہاز پر عملی حملہ باب المندب کی کشیدگی کو وسیع علاقائی فوجی تصادم میں تبدیل کرسکتا ہے۔

بحران کا پس منظر

یمن کا بحران 2014 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء اور متعدد سرکاری اداروں پر قبضہ کرلیا۔ 

یمنی حکومت کی درخواست پر سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے مارچ 2015 میں مداخلت کی، جس کا اعلان کردہ مقصد قانونی حکومت کی بحالی اور حوثیوں کی فوجی پیش قدمی روکنا تھا۔

بعد ازاں حوثیوں نے سعودی شہروں، ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو میزائلوں، ڈرونز اور بارودی کشتیوں سے نشانہ بنایا۔ 

اگرچہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست حملوں میں کمی آئی، لیکن جامع سیاسی معاہدہ نہ ہونے کے باعث کشیدگی کی بنیادی وجوہ برقرار رہیں۔

کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟

موجودہ بحران کی بنیادی وجہ حوثیوں کی جانب سے یمن کے تنازع کو اہم بین الاقوامی بحری راستوں تک پھیلانا ہے۔ 

حوثی اپنی کارروائیوں کو یمن کے مبینہ محاصرے سے جوڑتے ہیں، جبکہ اتحاد اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے بندرگاہوں پر آنے والے سینکڑوں تجارتی جہازوں کو اس دعوے کے خلاف ثبوت قرار دیتا ہے۔

ممکنہ اگلا منظرنامہ
1 اتحادی افواج باب المندب اور بحیرہ احمر میں بحری و فضائی نگرانی بڑھا سکتی ہیں، جبکہ جہازوں کو اضافی حفاظتی انتظامات کے ساتھ گزارا جاسکتا ہے۔
2 حوثی فوری طور پر بڑے حملے کے بجائے کسی جہاز کو روکنے، ڈرون بھیجنے یا محدود میزائل حملے کے ذریعے اتحاد کے ردعمل کو جانچ سکتے ہیں۔
3 کسی اتحادی یا تجارتی جہاز پر عملی حملے کی صورت میں حوثی میزائل مراکز، ڈرون تنصیبات اور ساحلی فوجی ٹھکانوں کے خلاف جوابی کارروائی کا امکان بڑھ جائے گا۔
4 اقوام متحدہ، عمان اور دیگر علاقائی فریق ممکنہ فوجی تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی رابطے اور ثالثی کی کوششیں تیز کرسکتے ہیں۔
سب سے خطرناک صورت حال وہ ہوگی جب حوثی دھمکیاں کسی عملی بحری حملے میں تبدیل ہوجائیں؛ ایسی کارروائی یمن کے بحران کو ایک وسیع علاقائی تصادم میں بدل سکتی ہے۔

سعودی عرب کے نزدیک حوثی دھمکیاں ایران سے منسلک علاقائی دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے بحیرہ احمر میں تجارت، تیل کی برآمدات اور عالمی جہاز رانی کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔

اب کیا ہوگا؟

آنے والے مرحلے میں باب المندب کے قریب بحری اور فضائی نگرانی بڑھائے جانے، اتحادی جہازوں کو حفاظتی قافلوں میں گزارنے اور میزائل و ڈرون خطرات کے خلاف دفاعی نظام فعال رکھنے کا امکان ہے۔

اگر حوثی دھمکیاں عملی حملوں میں تبدیل ہوتی ہیں تو اتحاد حوثی میزائل مراکز، ڈرون تنصیبات اور ساحلی فوجی ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے۔ تاہم عمان، اقوام متحدہ اور دوسرے علاقائی فریق کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز کرسکتے ہیں۔

فی الحال فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ آیا حوثی صرف سیاسی دباؤ برقرار رکھیں گے یا باب المندب میں کسی بحری جہاز کو عملی طور پر نشانہ بنائیں گے۔ 

ایسا کوئی بھی حملہ یمن کے بحران کو ایک نئی اور زیادہ خطرناک علاقائی کشیدگی میں تبدیل کرسکتا ہے۔

اصل سرکاری ذرائع OFFICIAL SOURCES باب المندب، اتحادی جہازوں کے تحفظ اور حوثی بحری دھمکیوں سے متعلق سرکاری بیانات 3 سرکاری ذرائع
اتحادی افواج اور سعودی حکومت کے سرکاری بیانات
اتحادی افواج کا اصل بیان — یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبأ میجر جنرل ترکی المالکی کا مکمل بیان، باب المندب سے گزرنے والے 300 سے زائد تجارتی جہازوں کا ذکر، اتحادی جہازوں کے تحفظ اور حوثی دھمکیوں کے ذرائع کو سختی اور قوت سے جواب دینے کا اعلان۔ اتحادی افواج کا مکمل بیان اصل بیان کھولیں ↗ سعودی وزارتِ خارجہ کا سرکاری بیان — سعودی پریس ایجنسی واس سعودی عرب نے یمنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے محاصرے سے متعلق حوثی الزام مسترد کرتے ہوئے بحری جہازوں اور جہاز رانی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔ سعودی سرکاری بیان واس کی خبر کھولیں ↗ اتحادی افواج کے ترجمان کا سرکاری ایکس اکاؤنٹ اتحادی افواج کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے سرکاری بیانات، عسکری وضاحتوں، کارروائیوں اور تازہ پیش رفت کے لیے مختص آفیشل اکاؤنٹ۔ آفیشل سوشل اکاؤنٹ اکاؤنٹ کھولیں ↗
300+ تجارتی جہازوں کے محفوظ گزرنے کا ذکر
باب المندب عالمی تجارت کی اہم بحری گزرگاہ
سخت جواب دھمکیوں کے ذرائع کے خلاف کارروائی کا اعلان
ادارتی نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں اتحادی افواج کے ترجمان کا مکمل سرکاری بیان، سعودی وزارتِ خارجہ کا اعلان اور اتحادی افواج کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے جاری معلومات بنیادی مراجع کے طور پر استعمال کی گئی ہیں۔ BY: overseaspost.net