یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ باب المندب سے گزرنے والے اتحادی جہازوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حوثیوں کی جانب سے جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔
یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے اتحادی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جہاز رانی کو لاحق کسی بھی حوثی خطرے کا پوری قوت اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیا جائے گا۔
اتحاد کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
سعودی نقطۂ نظر سے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو سیاسی یا فوجی دباؤ کے لیے استعمال کرنا نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔
✓ اہم نکات ⌄
- عرب اتحاد نے باب المندب سے گزرنے والے اتحادی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
- اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ جہازوں کے خلاف حوثی دھمکیوں کا پوری قوت اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیا جائے گا۔
- اتحاد کے مطابق یہ دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور بحری قزاقی کے زمرے میں آتی ہیں۔
- سال 2026 کی پہلی ششماہی میں 300 سے زائد تجارتی جہاز الحدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ کی بندرگاہوں پر پہنچے۔
- اتحاد نے یمنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی مکمل بندش سے متعلق حوثی بیانیے کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔
- صنعاء ایئرپورٹ کی بندش اور یمنی فضائی کمپنی کے طیاروں کی تباہی کی ذمہ داری بھی حوثیوں پر عائد کی گئی ہے۔
سرکاری بیان
یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کے لیے قائم اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمان نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے اتحاد کے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ گزرنے والے جہازوں کے خلاف حوثیوں کی کسی بھی دھمکی کا پوری قوت اور سختی سے جواب دیا جائے گا، کیونکہ یہ دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور بحری قزاقی کے زمرے میں آتی ہیں۔
میجر جنرل المالکی نے کہا کہ یمن کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی بندش سے متعلق دعوے گمراہ کن معلومات اور یمنی حکومت و ہمسایہ ممالک کے خلاف حوثیوں کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ محاصرے سے متعلق حوثیوں کا بیانیہ حقیقت کے منافی اور گمراہ کن ہے۔
سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 300 سے زائد تجارتی جہاز الحدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ کی بندرگاہوں میں داخل ہوئے، جن پر مختلف اقسام کی غذائی اشیا، تجارتی سامان، ایندھن اور تعمیراتی مواد لدا ہوا تھا۔
! یہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
انہوں نے نشاندہی کی کہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش اور یمن کی قومی فضائی کمپنی کے طیاروں کی تباہی کی ذمہ دار خود حوثی ملیشیا ہے۔
اسی طرح حوثیوں نے ہوائی اڈے سے پروازوں کی بحالی کے لیے پیش کی گئی تمام تجاویز اور اقدامات کو بھی مسترد کیا۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بار پھر تصدیق کی کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمان نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے اتحاد کے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے، جبکہ گزرنے والے جہازوں کے خلاف حوثی دھمکیوں کا پوری قوت اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیا جائے گا، کیونکہ ایسی دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور بحری قزاقی کے مترادف ہیں۔
i فیکٹ باکس ⌄
بحران کا پس منظر
یمن کا بحران 2014 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء اور متعدد سرکاری اداروں پر قبضہ کرلیا۔
یمنی حکومت کی درخواست پر سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے مارچ 2015 میں مداخلت کی، جس کا اعلان کردہ مقصد قانونی حکومت کی بحالی اور حوثیوں کی فوجی پیش قدمی روکنا تھا۔
بعد ازاں حوثیوں نے سعودی شہروں، ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو میزائلوں، ڈرونز اور بارودی کشتیوں سے نشانہ بنایا۔
اگرچہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست حملوں میں کمی آئی، لیکن جامع سیاسی معاہدہ نہ ہونے کے باعث کشیدگی کی بنیادی وجوہ برقرار رہیں۔
کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟
موجودہ بحران کی بنیادی وجہ حوثیوں کی جانب سے یمن کے تنازع کو اہم بین الاقوامی بحری راستوں تک پھیلانا ہے۔
حوثی اپنی کارروائیوں کو یمن کے مبینہ محاصرے سے جوڑتے ہیں، جبکہ اتحاد اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے بندرگاہوں پر آنے والے سینکڑوں تجارتی جہازوں کو اس دعوے کے خلاف ثبوت قرار دیتا ہے۔
➜ ممکنہ اگلا منظرنامہ ⌄
سعودی عرب کے نزدیک حوثی دھمکیاں ایران سے منسلک علاقائی دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے بحیرہ احمر میں تجارت، تیل کی برآمدات اور عالمی جہاز رانی کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔
اب کیا ہوگا؟
آنے والے مرحلے میں باب المندب کے قریب بحری اور فضائی نگرانی بڑھائے جانے، اتحادی جہازوں کو حفاظتی قافلوں میں گزارنے اور میزائل و ڈرون خطرات کے خلاف دفاعی نظام فعال رکھنے کا امکان ہے۔
اگر حوثی دھمکیاں عملی حملوں میں تبدیل ہوتی ہیں تو اتحاد حوثی میزائل مراکز، ڈرون تنصیبات اور ساحلی فوجی ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے۔ تاہم عمان، اقوام متحدہ اور دوسرے علاقائی فریق کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز کرسکتے ہیں۔
فی الحال فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ آیا حوثی صرف سیاسی دباؤ برقرار رکھیں گے یا باب المندب میں کسی بحری جہاز کو عملی طور پر نشانہ بنائیں گے۔
ایسا کوئی بھی حملہ یمن کے بحران کو ایک نئی اور زیادہ خطرناک علاقائی کشیدگی میں تبدیل کرسکتا ہے۔