گھٹتے ہتھیار اور ایرانی وار، زمینی حملہ امریکا کو جنگی دلدل میں پھنسا سکتا ہے
ایران پر امریکی حملوں کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے، مگر دور مار ہتھیاروں، فضائی دفاعی میزائلوں اور محفوظ فوجی تنصیبات کی کمی واشنگٹن کے لیے نئی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
اگر فضائی کارروائیاں تہران کو جھکانے میں ناکام رہیں تو زمینی مداخلت امریکا کو مہنگی، خونریز اور طویل جنگ میں پھنسا سکتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تصادم اب محدود فضائی کارروائیوں تک نہیں رہا۔
تازہ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے جنگ کو ایسے مرحلے میں داخل کر دیا ہے جہاں واشنگٹن کے عسکری اہداف دستیاب وسائل کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، امریکی جانی و مادی نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایران اب بھی امریکی فوجی اڈوں، خلیجی ممالک اور سمندری راستوں تک جنگ پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بظاہر امریکا اپنی عسکری طاقت کے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔
اس کے جنگی طیارے ایران کے مختلف صوبوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، بحری بیڑہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رہا ہے اور امریکی سینٹرل کمانڈ ایرانی کمانڈ مراکز، فضائی دفاع، میزائل لانچرز، ڈرون تنصیبات اور بحری صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے دعوے کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں
مگر اس طاقت کے پس منظر میں ایک زیادہ تشویش ناک تصویر سامنے آ رہی ہے۔
پینٹاگون کے اندر خدشہ بڑھ رہا ہے کہ اہداف تباہ کرنے کی صلاحیت، جنگ کو طویل عرصے تک محفوظ انداز میں جاری رکھنے یا اسے سیاسی کامیابی میں بدلنے کی ضمانت نہیں۔
امریکا وسیع جنگ کی تیاری میں
’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا ’زیادہ وسیع جنگ‘ کی تیاری کر رہا ہے اور پینٹاگون خطے میں مزید فوجی طیارے بھیجنے کا انتظام کر رہا ہے۔
اسی عہدیدار نے خبردار کیا کہ دور مار ہتھیاروں اور فضائی دفاعی نظام کے ذخائر کم ہونے لگے ہیں، جبکہ ایرانی حملوں سے فوجی سازوسامان کو پہنچنے والے نقصانات مزید فوجیوں اور طیاروں کی تعیناتی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
اس کا کہنا تھا: ’ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ کارروائیاں محفوظ طریقے سے جاری رکھ سکیں، اور میرا نہیں خیال کہ وائٹ ہاؤس کو صورت حال کی سنگینی کا مکمل ادراک ہے۔‘
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی فوج اپنی مجموعی برتری کھو چکی ہے۔
امریکا اب بھی دنیا کی سب سے بڑی اور جدید فضائی و بحری قوت رکھتا ہے۔
اصل مسئلہ عسکری طاقت اور ایک طویل، کثیرالجہتی جنگ جاری رکھنے کی عملی صلاحیت کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
امریکا کے پاس ایران سے کہیں زیادہ عسکری طاقت موجود ہے، مگر اصل امتحان جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ اسے طویل عرصے تک جاری رکھنا اور سیاسی نتیجہ حاصل کرنا ہے۔ گھٹتے دفاعی ذخائر، غیر محفوظ فوجی اڈے اور آبنائے ہرمز میں ایرانی مزاحمت امریکی برتری کو مسلسل بڑھتے عسکری بوجھ میں بدل سکتی ہے۔
ایرانی حملوں سے زیادہ مہنگا امریکی دفاع
امریکا کو صرف ایران پر حملوں کے لیے بم اور میزائل نہیں چاہییں، بلکہ پورے خطے میں پھیلے اپنے فوجی اڈوں، بحری جہازوں، طیاروں اور اتحادی ممالک کی حفاظت بھی کرنا ہے۔
ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے مہنگے دفاعی نظام استعمال ہو رہے ہیں۔
ایران نسبتاً کم قیمت ڈرون یا میزائل داغتا ہے، جبکہ اسے روکنے کے لیے کہیں زیادہ مہنگا دفاعی میزائل استعمال کرنا پڑتا ہے۔
طویل جنگ میں اہم سوال یہ ہے کہ ہتھیار کس رفتار سے استعمال ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ نئے ہتھیار کتنی جلد تیار کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی دفاعی صنعت فوری طور پر اس رفتار سے میزائل نہیں بنا سکتی جس رفتار سے وہ مشرق وسطیٰ میں خرچ ہو رہے ہیں۔
اس صورت حال سے یوکرین کی مدد اور بحر ہند و بحرالکاہل میں چین کے مقابل امریکی عسکری تیاریوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
امریکی فوجی اڈے محفوظ نہیں رہے
ایرانی حملوں سے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات، بیرکوں، ریڈارز، طیاروں کے ہینگرز اور دفاعی نظام کو نقصان پہنچا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ امریکا یہ جنگ مکمل طور پر محفوظ اڈوں سے نہیں لڑ رہا۔
ایران ان اڈوں کے محل وقوع سے واقف ہے اور مسلسل ان کی کمزوریاں آزما رہا ہے۔ امریکا کو بیک وقت ایران پر حملے، اپنے اڈوں کا دفاع، تجارتی جہازوں کی حفاظت، آبنائے ہرمز کی نگرانی اور ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری کرنا پڑ رہی ہے۔
ہر نئی ذمہ داری مزید طیاروں، جنگی جہازوں، فوجیوں اور دفاعی میزائلوں کا تقاضا کرتی ہے۔
خلیجی ممالک اور پاکستانیوں کے لیے کیا مطلب ہے؟ ⌄
- خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ایرانی حملوں کے ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔
- پروازوں، بندرگاہوں اور تجارتی جہاز رانی میں تعطل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
- تیل، خوراک، انشورنس اور نقل و حمل کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
- خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کی ملازمتیں اور روزمرہ آمدورفت متاثر ہوسکتی ہے۔
- پاکستان کو شہریوں کے تحفظ، پروازوں اور ممکنہ ہنگامی انخلا کی تیاری بڑھانا پڑ سکتی ہے۔
- تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کے درآمدی بل، مہنگائی اور روپے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
حملے بڑھ گئے، سیاسی نتیجہ غائب
امریکا نے آج پیر کو ایران کے مختلف صوبوں اور بوشہر کے قریب علاقوں کو نشانہ بنایا، جہاں جوہری بجلی گھر بھی واقع ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائیوں میں فوجی کمانڈ مراکز، فضائی دفاع، ساحلی نگرانی، بحری تنصیبات، میزائل اور ڈرون لانچرز سمیت مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کم کرنا ہے۔
مگر اصل سوال یہ نہیں کہ امریکا ایران میں کتنی تنصیبات تباہ کر سکتا ہے؛ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تباہی تہران کو امریکی شرائط قبول کرنے پر مجبور کرے گی؟
اب تک صورت حال اس کی تائید نہیں کرتی۔
واشنگٹن جب بھی اہداف بڑھاتا ہے، تہران جوابی کارروائیوں کا نقشہ پھیلا دیتا ہے۔
ایران خلیجی ممالک اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو غیر محفوظ بنانے کی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
فضائی بمباری تنصیبات تباہ کر سکتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ اس سے ایرانی قیادت کا سیاسی فیصلہ تبدیل ہو جائے۔
زمینی جنگ کا مہلک جال
سب سے خطرناک امکان امریکی زمینی افواج کی ایرانی ساحلوں، جزیروں یا آبنائے ہرمز سے متصل علاقوں میں تعیناتی ہے۔
نظریاتی طور پر کسی ساحلی مقام پر قبضہ ایرانی خطرہ کم کرنے کا ذریعہ دکھائی دے سکتا ہے، مگر وہاں موجود امریکی فوجی ایران کے میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے کے براہ راست نشانے پر ہوں گے۔
کسی بندرگاہ یا جزیرے پر قابض فوج کو مستقل اڈوں، رسد، فضائی تحفظ، طبی سہولتوں اور اضافی دفاعی نظام کی ضرورت ہوگی۔ یوں ہر نیا امریکی اڈہ ایران کے لیے ایک نیا ہدف بن جائے گا۔
ممکنہ اگلے منظرنامے ⌄
امریکا ایرانی تنصیبات پر حملے جاری رکھے گا، جبکہ تہران میزائلوں، ڈرونز اور بحری کارروائیوں سے جواب دے گا۔
امریکی فوج ایرانی ساحلی مقامات یا جزیروں پر مختصر کارروائی کرسکتی ہے، مگر اس سے وسیع جنگ کا دروازہ کھل سکتا ہے۔
بارودی سرنگوں، جہازوں پر حملوں اور امریکی بحری مداخلت سے عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہوسکتی ہے۔
پاکستان، قطر یا دیگر ثالث ممالک پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے ایک جزیرے یا فوجی مقام پر قبضہ کافی نہیں ہوگا۔ ایران مختلف ساحلی مقامات سے ڈرونز، میزائل اور بارودی سرنگیں استعمال کر سکتا ہے۔
تجارتی جہازوں کی مستقل حفاظت کے لیے بڑے بحری بیڑے اور طویل زمینی موجودگی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ایران کو روایتی جنگ میں امریکا کو شکست دینے کی ضرورت بھی نہیں۔
وہ امریکی فوجیوں کو مسلسل دباؤ میں رکھ کر، وقفے وقفے سے جانی نقصان پہنچا کر اور رسد کی لائنیں نشانہ بنا کر جنگ کو واشنگٹن کے لیے سیاسی بحران میں بدل سکتا ہے۔
ایران جنگ کو سرحدوں تک محدود نہیں رہنے دے گا
ایرانی حکمت عملی کا مقصد امریکا کو جنگ صرف ایرانی سرزمین پر لڑنے کی اجازت نہ دینا ہے۔ اسی لیے تہران امریکی اڈوں، خلیجی ممالک، ہوائی اڈوں اور سمندری راستوں تک جوابی حملوں کا دائرہ بڑھا رہا ہے۔
کویت نے ایرانی ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا اعلان کیا، بحرین میں خطرے کے سائرن بجائے گئے، جبکہ ایران نے اردن اور شام میں امریکی اہداف پر حملوں کے دعوے کیے۔
بعض ایرانی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
اس کے باوجود ایرانی پیغام واضح ہے:
اگر ایرانی شہر امریکی بمباری کے لیے کھلے رہیں گے تو امریکی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک بھی خطرے سے باہر نہیں رہیں گے۔
ہرمز؛ وہ جنگ جو بموں سے ختم نہیں ہوگی
آبنائے ہرمز اس جنگ کا مرکز اور سب سے مشکل مسئلہ ہے۔
امریکا خود کو آزاد بحری آمدورفت کا محافظ قرار دیتا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس راستے کو اپنی سلامتی اور برآمدات کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔
ایران کو ہر جہاز ڈبونے کی ضرورت نہیں۔
بارودی سرنگوں، ڈرونز یا حملے کی دھمکی سے انشورنس کی لاگت بڑھ سکتی ہے اور بین الاقوامی کمپنیاں روایتی راستے چھوڑ سکتی ہیں۔
امریکا میزائل لانچرز تباہ کر سکتا ہے، مگر فضائی حملوں کے ذریعے جہاز ران کمپنیوں کو مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
تجزیہ ⌄
امریکا ایران کی فوجی تنصیبات تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر تہران کی سیاسی مزاحمت ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ایران کی حکمت عملی امریکی فوج کو روایتی جنگ میں شکست دینا نہیں بلکہ اسے ہتھیاروں، وقت، پیسے اور داخلی سیاسی حمایت سے محروم کرنا ہے۔
زمینی مداخلت ایران کو شکست دینے کے بجائے اس کی طویل جنگ اور امریکی استنزاف کی حکمت عملی کو کامیابی کے قریب لے جاسکتی ہے۔واشنگٹن کے سامنے تین مشکل راستے
جنگ میں اب تک 17 امریکی فوجی ہلاک اور 420 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ ایران کے مطابق جولائی میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد کم از کم 50 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
امریکا کے سامنے پہلا راستہ فضائی حملے اور بحری ناکہ بندی جاری رکھنا ہے، مگر یہ خود اس کے ہتھیاروں اور دفاعی نظام کو تھکا رہا ہے۔
دوسرا راستہ زمینی کارروائی ہے، جو عارضی کامیابی دے سکتی ہے لیکن امریکا کو زیادہ خونریز اور طویل جنگ میں پھنسا سکتی ہے۔
تیسرا راستہ مذاکرات کی طرف واپسی ہے۔ ایران نے ثالثوں کے ذریعے پیغامات ملنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ’حقیقی سفارت کاری‘ کا دروازہ کھلا رکھنے کی بات کی ہے۔
اصل خطرہ امریکا کی روایتی عسکری شکست نہیں، بلکہ ایسی جنگ میں پھنس جانا ہے جسے واشنگٹن اپنی شرائط پر ختم نہ کر سکے، بھاری نقصانات کے بغیر وسیع نہ کر سکے اور موجودہ رفتار سے طویل عرصے تک جاری بھی نہ رکھ سکے۔
امریکا ہر رات ایران کی نئی تنصیبات تباہ کر سکتا ہے، مگر فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ اگلی رات کیا ہوگا؟ اگر ایران میزائل اور ڈرون داغنے، فوجی اڈوں پر حملے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کو خوف زدہ کرنے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے تو امریکی برتری فتح کے ذریعے کے بجائے مسلسل بڑھتے ہوئے عسکری بوجھ میں بدل سکتی ہے۔