ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ مبینہ روابط کی خبروں نے عالمی اور ملکی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مزید پڑھیں
نیویارک ٹائمز و دیگر میڈیا ذرائع کے اس دعوے کے بعد کہ احمدی نژاد کو نظربند کیا گیا ہے، تہران کے سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔
الزامات کی نوعیت اور حقیقت
اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے 13 جولائی کو ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ موساد نے محمود احمدی نژاد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد ایرانی حکومت کے مستقبل کے منظرنامے میں انہیں ایک سیاسی کردار کے طور پر تیار کرنا تھا۔
تاہم اس رپورٹ میں کوئی ٹھوس ثبوت، جیسے تصاویر، آڈیو ریکارڈنگ یا دستاویزات پیش نہیں کی گئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کسی انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش اور اسے کسی شخصیت کی ’ایجنٹ‘ کے طور پر بھرتی کرنے میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔
احمدی نژاد اور ایران کا داخلی منظرنامہ
محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے۔ وہ قدامت پسند حلقوں سے ابھرے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے مرکزِ اقتدار کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوتے گئے۔
خاص طور پر 2009 کے انتخابات اور بعد ازاں وزارتِ انٹیلی جنس کے تنازع کے بعد ان کی راہیں الگ ہوتی گئیں۔
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے ان کے بڑھتے ہوئے اختلافات اس وقت مزید واضح ہوئے، جب انہوں نے 2018 میں ’آزادانہ انتخابات‘ کا مطالبہ کیا اور حکومتی ڈھانچے پر تنقید کی۔
اس کے بعد سے وہ مسلسل صدارتی انتخابات سے باہر رکھے جا رہے ہیں۔
محمود احمدی نژاد کا موقف
احمدی نژاد کے دفتر نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر جھوٹا اور ہالی ووڈ اسٹائل ڈرامہ قرار دیا ہے۔
اُن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے جس کا مقصد ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
احمدی نژاد اور موساد کے مبینہ روابط
سیاسی محاذ آرائی، الزامات کی حقیقت اور تہران کی اندرونی کشمکش
ایران کے سابق صدر کے خلاف اسرائیلی میڈیا کے دعووں نے تہران کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جسے ایک نفسیاتی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔
الزامات اور شواہد
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا لیکن رپورٹ میں کسی قسم کے ٹھوس دستاویزی شواہد یا آڈیو فائلز فراہم نہیں کی گئیں۔
شدید ردعمل
احمدی نژاد کے دفتر نے ان دعووں کو ہالی ووڈ ڈرامہ قرار دے کر مسترد کر دیا، جبکہ ایرانی حکومت کی جانب سے بھی خاموشی ہے۔
نفسیاتی جنگ
ماہرین کے مطابق اس پروپیگنڈے کا اصل مقصد ایرانی معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا اور سابق صدر کو سیاسی طور پر تنہا کرنا ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اب تک ایران کی حکومت، عدلیہ یا ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے کوئی ایسا بیان جاری نہیں ہوا جس میں احمدی نژاد کی نظر بندی یا ان کے خلاف کسی عدالتی کارروائی کی تصدیق کی گئی ہو۔
سیاسی تقسیم اور نفسیاتی جنگ
ماہرین کا کہنا ہے کہ احمدی نژاد کا نام استعمال کرنے کے پیچھے 2 بڑے مقاصد ہو سکتے ہیں۔
- اول یہ کہ اسرائیل یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اس کی رسائی ایرانی نظام کے سابق اعلیٰ حکام تک موجود ہے۔
- دوم کہ یہ ایران کے اندرونی سیاسی دھڑوں کے درمیان جاری کشمکش کا شاخسانہ بھی ہو سکتا ہے۔
ایرانی محقق ہادی الفقہی کے مطابق محمود احمدی نژاد کے خلاف ایسے الزامات کا مقصد معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا اور ایک سابق صدر کی ساکھ کو مشکوک بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حربہ انہیں سیاسی دائرے سے نکال کر سیکیورٹی کے دائرے میں دھکیلنے کی کوشش ہے۔
مبصرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں محمود احمدی نژاد کے موساد کے ساتھ تعاون کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے۔
لہٰذا یہ پورا واقعہ ایک ایسے سیاست دان کی کہانی بیان کرتا ہے جو نظام کے اندر تو ہے مگر مرکزِ اقتدار سے باہر نکالا جا چکا ہے۔ یہ معاملہ حقیقتاً انٹیلی جنس کامیابی سے زیادہ سیاسی تنہائی اور نفسیاتی جنگ کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔