براہ راست نشریات

اسرائیل: اندرونی بحرانوں نے حکومت گرادی، کیا نیتن یاہو کا کیریئر ختم؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کا اجلاس، بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیل میں سیاسی بحران کا منظر
اسرائیل کی موجودہ صورت حال نیتن یاہو کے سیاسی کیریئر کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے (فوٹو: اے آئی)

اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے جمعہ کی علی الصبح خود کو تحلیل کرنے کی حتمی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ انتخابی عمل ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیل 7 اکتوبر 2023 کے حملے اور اس کے بعد پیدا سیکیورٹی، عسکری و سیاسی بحرانوں کے باعث غیر معمولی سیاسی و سماجی تقسیم سے دوچار ہے۔

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق کنیسٹ کی جنرل اسمبلی نے دوسری اور تیسری ووٹنگ میں جماعتی فنڈنگ بل کی منظوری دی، جس میں 25 ویں کنیسٹ کو تحلیل کرنے کی شق بھی شامل تھی۔

اس بل کے حق میں 62 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ کسی بھی رکن کی جانب سے مخالفت یا غیر حاضری ریکارڈ نہیں کرائی گئی۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ ملک میں جاری گہرے سیاسی اور سماجی تقسیم کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کا اجلاس، بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیل میں سیاسی بحران کا منظر
اسرائیلی پارلیمنٹ نے 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات کی تیاری کے لیے اپنی تحلیل کی منظوری دے دی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

سیاسی منظرنامہ

کنیسٹ کی جانب سے منظوری کے بعد اسرائیل اب باقاعدہ انتخابی دور میں داخل ہو چکا ہے، اس دوران موجودہ حکومت عبوری حیثیت میں کام جاری رکھے گی۔

کنیسٹ کے اسپیکر امیر اوحانا کے مطابق گزشتہ 4 برسوں پر محیط اس پارلیمانی دور میں 9 بجٹ اور سیکڑوں قوانین منظور کیے گئے۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی اتحاد کے لیے اپنی مدت مکمل کرنا ایک بڑی پارلیمانی کامیابی ہے، تاہم اپوزیشن اسے شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔

Logo

اسرائیلی حکومت کا خاتمہ: نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل داؤ پر

پارلیمنٹ تحلیل، 27 اکتوبر 2026 کو نئے انتخابات کا اعلان اور اپوزیشن کی پوزیشن مستحکم

7 اکتوبر کے بحران اور داخلی تقسیم کے بعد اسرائیلی پارلیمنٹ نے خود کو تحلیل کر دیا ہے۔ حالیہ عوامی سروے نیتن یاہو کی عبرتناک شکست اور اپوزیشن بلاک کی واضح اکثریت کی پیشگوئی کر رہے ہیں۔

🗳️ کینسٹ کی تحلیل

پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی نے بل کی حتمی منظوری دے دی جس کے بعد ملک میں عبوری حکومت قائم ہو چکی ہے۔

62

📊 اپوزیشن کی اکثریت

تازہ ترین سروے کے مطابق اپوزیشن بلاک 120 میں سے 62 نشستیں حاصل کر کے حکومت سازی کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔

⚖️ متنازع قوانین

تحلیل سے قبل مذہبی طبقے کو فوجی سروس سے استثنیٰ دینے کی کوشش کی گئی جسے سپریم کورٹ نے فوری معطل کر دیا۔

🚨 فوجی سروس کا تنازع

شدید سیکیورٹی بحران اور فوج کی مانگ کے باوجود سروس کی مدت کو بڑھانے کے بجائے صرف اتنے مہینوں پر برقرار رکھا گیا۔

32

اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم

متنازع قانون سازی

میڈیا رپورٹس کے مطابق تحلیل سے قبل حکومتی اتحاد نے ہنگامی طور پر کئی متنازع قوانین منظور کرلیے ہیں۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق یہ اقدامات عدالتی نظام میں مداخلت اور یہودی مذہبی جماعتوں کو نوازنے کی ایک کوشش تھے۔ ان متنازع فیصلوں نے معاشرے میں پہلے سے موجود خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

ان قوانین میں فوجی سروس کے حوالے سے پالیسیاں سب سے نمایاں ہیں۔ 

اگرچہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر فوج کو 36 ماہ کی سروس درکار تھی، تاہم کنیسٹ نے اسے 32 ماہ پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی طبقے (حریدی) کو فوجی سروس سے استثنیٰ دینے کے قوانین بھی منظور کیے گئے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کا اجلاس، بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیل میں سیاسی بحران کا منظر
حریدی یہودی اسرائیلی فوج میں بھرتی کے خلاف مظاہرے کے دوران (فوٹو: انٹرنیٹ)

تعلیمی اور عدالتی اصلاحات پر تنازع

حکومتی پیکیج میں تعلیمی اداروں میں صنفی بنیاد پر علیحدگی کے قوانین بھی شامل تھے۔

اس کے ساتھ ہی حکومتی قانونی مشیر کے اختیارات کو محدود کرنے اور میڈیا کے ریگولیٹری ڈھانچے میں تبدیلیوں کو بھی پارلیمنٹ سے منظور کرایا گیا، جسے ناقدین جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ حریدی طبقے کے حوالے سے منظور کیے گئے قوانین کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ 

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی مداخلت حکومت اور عدلیہ کے درمیان جاری سرد جنگ کا ایک اہم مظہر ہے جو مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کا اجلاس، بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیل میں سیاسی بحران کا منظر
نیتن یاہو گزشتہ ووٹنگ سیشنز سے بار بار غائب ہونے کے بعد آخری ووٹنگ سیشن میں شریک ہوئے (فوٹو: انٹرنیٹ)

نیتن یاہو کی کمزور پوزیشن

وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جو پہلے کئی اہم اجلاسوں سے غائب رہے، تحلیل کے حتمی اجلاس میں شریک ہوئے۔

ان کی سیاسی ساکھ 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد سے مسلسل متاثر رہی ہے۔ حالیہ سروے کے نتائج ان کے لیے خطرے کی گھنٹی بن کر سامنے آئے ہیں۔

ہم سے جڑے رہیں

معاریف اخبار اور لازار  انسٹی ٹیوٹ کے تازہ ترین پول کے مطابق اپوزیشن بلاک کو 120 میں سے 62 نشستیں مل رہی ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ 9 ماہ کے عرصے میں اپوزیشن کو حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت کے قریب پہنچتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

انتخابی مہم اور مستقبل کے امکانات

کنیسٹ کے تحلیل ہونے کے بعد اب اسرائیل میں انتخابی مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی اور اتحاد سازی میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سیکیورٹی، جنگی اثرات اور داخلی اصلاحات جیسے موضوعات اس انتخابی مقابلے کے بنیادی نکات ہوں گے جو مستقبل کی حکومت کا تعین کریں گے۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

اسرائیلی سیاست کا یہ مرحلہ نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد سے جاری سیکیورٹی اور سیاسی بحران نے ووٹروں کو تقسیم کر دیا ہے۔ 

اگر انتخابات کے نتائج سروے کے مطابق رہے تو یہ نہ صرف نیتن یاہو کے سیاسی کیریئر کا خاتمہ ثابت ہو سکتے ہیں، بلکہ اسرائیل کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں میں بھی ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے