ماہرین فلکیات نے خلا کی وسعتوں سے زمین کی جانب آنے والے ان پُراسرار اشاروں کا معمہ حل کر لیا ہے جنہیں طویل عرصے سے خلائی مخلوق کا پیغام سمجھا جا رہا تھا۔
مزید پڑھیں
سائنسی تحقیق نے ان سگنلز کے اصل قدرتی مرکز کی نشاندہی کردی ہے۔
برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ لہریں دراصل ایک چھوٹے اور انتہائی کثیف ستارے سے نکل رہی ہیں جسے سائنسی زبان میں ’سفید بونا ستارہ‘ کہا جاتا ہے۔
یہ ستارہ اپنی کشش سے اپنے قریبی بڑے ستارے سے مسلسل مادہ کھینچ رہا ہے۔
ان پُراسرار لہروں کو سائنسی اصطلاح میں ’طویل مدتی ریڈیو ٹرانزینٹس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ طاقتور ریڈیو لہریں اور ایکس ریز ہر 1.4 گھنٹے بعد باقاعدگی سے زمین پر موصول ہورہی تھیں جس نے ماہرین کو حیران کر رکھا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سفید بونا ستارہ اپنے ساتھی ستارے سے مادہ کھینچتا ہے تو وہ مادہ اس کے گرد چکر کھاتے ہوئے شدید گرم ہو کر شعاعیں خارج کرتا ہے۔
اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لہریں خلا میں بکھر جاتی ہیں۔
یونیورسٹی آف سڈنی کے پی ایچ ڈی اسکالر کوفی روز نے اس اہم دریافت کے لیے تحقیق کی قیادت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی بار ان سگنلز کے ماخذ کی تصدیق ہوئی ہے جو کہ ایک متغیر ستارہ ہے اور اپنے اوپر مسلسل مادہ جمع کر رہا ہے۔
کوفی روز کے مطابق اب تک ایسی 12 لہریں دریافت ہوئی تھیں جن کی اصل ہمیشہ سے ایک راز بنی ہوئی تھی اور اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایک سفید بونا ستارہ اپنے ساتھی ستارے سے مادہ چھین کر یہ لہریں پیدا کرتا ہے۔
اس نئے دریافت شدہ نظام کو ’ASKAP J1745-5051‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اس میں دو ستارے ایک دوسرے کے انتہائی قریب مدار میں گھوم رہے ہیں۔ ان کے باہمی تعامل اور مقناطیسی میدان کی وجہ سے یہ باقاعدہ ریڈیو لہریں پیدا ہوتی ہیں۔
ماضی میں ماہرین کا خیال تھا کہ یہ دھماکے سست رفتاری سے گھومنے والے نیوٹران ستاروں یا پلسرز سے پیدا ہوتے ہیں، تاہم جدید تحقیق نے ثابت کیا کہ اتنی سست رفتار سے گھومنے والے ستارے ایسے طاقتور سگنلز خارج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
یہ اہم تحقیقی مطالعہ عالمی سطح پر معتبر سائنسی جریدے ’نیچر ایسٹرونومی‘ میں شائع ہوا ہے۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس دریافت سے مستقبل میں کائنات سے آنے والے دیگر اسی نوعیت کے پراسرار اشاروں کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔