خلیج میں جنگ کا نیا مرحلہ، آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی کشیدگی کا مرکز، تیل اور بحری تجارت پر خدشات بڑھ گئے
امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ امریکی فوج نے تقریباً 5 گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی میں ایران کے ساحلی دفاع، میزائل، ڈرون اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، جبکہ تہران نے بحرین، اردن اور آبنائے ہرمز میں جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا۔
تیل بردار جہازوں پر حملوں اور خلیجی ممالک میں بڑھتے فوجی الرٹ کے بعد عالمی توانائی، جہاز رانی اور تجارتی راستوں سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
ایک نظر میں
- امریکی کارروائی: تقریباً 5 گھنٹے تک جاری رہنے والے فضائی حملے
- اہم اہداف: ساحلی دفاعی نظام، میزائل، ڈرون اور بحری تنصیبات
- ایرانی ردعمل: بحرین، اردن اور آبنائے ہرمز میں بیک وقت کارروائیوں کا دعویٰ
- عالمی تشویش: تجارتی جہاز رانی، توانائی کی رسد اور خلیجی سلامتی
- اصل سوال: کیا بحران محدود رہے گا یا ایک وسیع علاقائی تصادم کی شکل اختیار کرے گا؟
Premium Lead Story
چند ہی گھنٹوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر عالمی سیاست، توانائی اور سلامتی کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے منگل کی علی الصبح اس وقت ایک نیا اور زیادہ خطرناک رخ اختیار کیا جب واشنگٹن نے ایران کے خلاف حالیہ بحران کی سب سے بڑی فضائی کارروائی مکمل کرنے کا اعلان کیا، جبکہ تہران نے اس کے فوراً بعد بحرین میں امریکی فوجی مفادات، اردن کی سمت میزائل کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
مزید پڑھیں
یہ محض چند فوجی کارروائیاں نہیں تھیں، بلکہ ایسے اقدامات تھے جنہوں نے خلیج میں طاقت کے توازن، عالمی توانائی کی رسد اور بین الاقوامی تجارت کے مستقبل سے متعلق خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا۔
اسی لیے سفارتی اور مالیاتی حلقوں کی نظریں ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر مرکوز ہیں، جہاں دنیا کے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے خام تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دباؤ مزید بڑھانے کے لیے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری محاصرہ نافذ کرنے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر اضافی محصولات عائد کرنے کی تجویز پیش کر چکے ہیں۔
واشنگٹن اسے عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام قرار دیتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ خلیج کی سلامتی اور آبنائے ہرمز کا انتظام اس کی قومی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔
بحران کی ٹائم لائن
OPLS Timelineامریکہ نے ایران کے خلاف تقریباً پانچ گھنٹے طویل فضائی کارروائی مکمل کرنے کا اعلان کیا۔
بوشہر، بندر عباس، جاسک، کنارک، چاہ بہار اور ابو موسیٰ میں فوجی اہداف نشانہ بنائے گئے۔
ایران نے بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں دو اماراتی آئل ٹینکر میزائل حملے کی زد میں آئے۔
اردن نے ایران سے داغے گئے چار بیلسٹک میزائل مار گرانے کا اعلان کیا۔
یوں چند گھنٹوں کے اندر فضائی حملوں، میزائل کارروائیوں، بحری خطرات اور علاقائی عسکری سرگرمیوں نے یہ واضح کر دیا کہ موجودہ بحران اب صرف امریکہ اور ایران کے درمیان محدود کشیدگی نہیں رہا، بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
واشنگٹن نے دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیوں کیا؟
امریکی سینٹرل کمان ’سینٹکام‘ کے مطابق تازہ فوجی آپریشن تقریباً 5 گھنٹے جاری رہا، جس میں جدید ترین درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔
بیان کے مطابق کارروائی کا ہدف ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا جنہیں واشنگٹن خلیج میں تجارتی جہاز رانی اور اپنے اتحادیوں کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
حملوں میں ساحلی دفاعی نظام، میزائل تنصیبات، ڈرون لانچنگ مراکز، بحری سہولتوں اور متعدد فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق کارروائیاں بوشہر، بندر عباس، جاسک، کنارک، چاہ بہار اور ابو موسیٰ سمیت ان علاقوں میں کی گئیں جو ایران کی بحری دفاعی حکمت عملی میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہی ساحلی علاقوں سے ایران آبنائے ہرمز کی نگرانی کرتا ہے اور اپنی بحری و میزائل صلاحیتوں کو منظم رکھتا ہے۔
سینٹکام نے زور دے کر کہا کہ اس کارروائی کا مقصد ایران کے ساتھ زمینی جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ اس کی ان صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز اور خلیج میں تجارتی جہازوں یا امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایک نظر میں
Key Factsاسی تناظر میں امریکی فوج نے انکشاف کیا کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی مختلف اڈوں پر تعینات ہیں اور تمام یونٹس کو ممکنہ مزید کشیدگی کے پیش نظر مکمل جنگی تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے۔
لیکن ایران نے صرف جواب نہیں، پیغام بھی دیا
امریکی حملے ختم ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد تہران نے واضح کر دیا کہ اس کی حکمت عملی صرف جوابی حملوں تک محدود نہیں ہوگی۔
ایران نے ایسے مقامات کا انتخاب کیا جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے مختلف حوالوں سے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
بحرین میں امریکی بحری موجودگی، آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی جہاز رانی اور اردن کی جغرافیائی حیثیت—تینوں کو ایک ہی بحران کا حصہ بنا کر تہران نے یہ اشارہ دیا کہ اگر اس پر دباؤ بڑھایا گیا تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
اسی حکمت عملی نے موجودہ بحران کو ایک نئی جہت دے دی ہے، کیونکہ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر کتنے حملے کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا یہ کشیدگی خلیج کے دوسرے ممالک، عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کو بھی براہِ راست متاثر کرے گی۔
تہران نے تین محاذ کھول دیئے
امریکی فضائی کارروائی ختم ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد ایران نے واضح کر دیا کہ وہ جواب صرف ایک محاذ تک محدود نہیں رکھے گا۔
اس بار تہران نے ایسے اہداف کا انتخاب کیا جو امریکی فوجی موجودگی، عالمی بحری تجارت اور علاقائی سلامتی، تینوں سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس کی کارروائیاں بحرین، آبنائے ہرمز اور اردن کی سمت مختلف محاذوں پر کی گئیں، تاکہ واشنگٹن کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ اگر ایران پر فوجی دباؤ بڑھایا گیا تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس ہوں گے۔
فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کی یہ حکمت عملی محض جوابی حملہ نہیں بلکہ ’جغرافیائی دباؤ‘ کی پالیسی کی عکاس ہے، جس کے ذریعے تہران اپنے حریف کو ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
بحرین: امریکی بحری موجودگی براہِ راست نشانے پر
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے سے متعلق متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایرانی بیان کے مطابق حملوں میں ڈرون کشتیوں کے کنٹرول سینٹر، ایندھن کے ذخائر، ریڈار نظام، مواصلاتی مراکز، اسلحہ معاونت کی تنصیبات اور الجفیر بحری اڈے میں امریکی اہلکاروں سے متعلق مقامات شامل تھے۔
ان دعوؤں کی فوری آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم بحرینی حکام نے حملوں کے بعد خطرے کے سائرن بجنے کی تصدیق کی اور وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی۔
بحرین خلیج میں امریکی بحری حکمت عملی کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، کیونکہ امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑہ یہیں سے خلیج، بحیرۂ عرب اور بحیرۂ احمر میں اپنی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے۔
اسی وجہ سے اس مقام کا ذکر بھی کشیدگی کو نئی سطح پر لے جانے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔
اصل معرکہ آبنائے ہرمز میں
اگر بحرین فوجی علامت تھا تو آبنائے ہرمز معاشی اعصاب کا مرکز ہے۔
امریکی حملوں کے چند ہی گھنٹوں بعد متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا کہ عمان کے علاقائی پانیوں میں جنوبی بحری راستے سے گزرنے والی دو قومی آئل ٹینکروں ’ممباسا‘ اور ’الباہیہ‘ پر کروز میزائل حملہ کیا گیا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق حملے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے، جن میں 4 کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔
متحدہ عرب امارات نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون اور آزادیٔ جہاز رانی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دونوں جہازوں کو پہلے متعدد مرتبہ متنبہ کیا گیا تھا، مگر انہوں نے ایک ایسے بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کی جسے ایران نے ممنوع قرار دیا تھا۔
ایرانی بیان میں امریکہ پر الزام لگایا گیا کہ وہ تجارتی جہازوں کو ایسے راستوں کی طرف لے جا رہا ہے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
یہ دونوں بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز اب صرف فوجی محاذ نہیں رہی بلکہ اطلاعاتی اور سفارتی جنگ کا بھی مرکز بن چکی ہے، جہاں ہر واقعے کی متضاد تشریحات سامنے آ رہی ہیں۔
یہ خبر کیوں اہم ہے؟
Why It Mattersعالمی توانائی کی شہ رگ
دنیا کے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
تیل اور شپنگ کی قیمتیں
کشیدگی تیل، بحری انشورنس، مال برداری اور سپلائی چین کی لاگت بڑھا سکتی ہے۔
علاقائی جنگ کا خطرہ
بحرین، اردن، عمانی پانیوں اور اماراتی جہازوں کا متاثر ہونا تصادم کے پھیلاؤ کی علامت ہے۔
خلیج میں مقیم پاکستانی
ایندھن، پروازوں، روزمرہ اخراجات اور کاروبار پر بالواسطہ اثرات پاکستانی برادری تک پہنچ سکتے ہیں۔
عالمی ردعمل میں تیزی
اماراتی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد خلیج تعاون کونسل GCC کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور آزادیٔ جہاز رانی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بھارت نے بھی اپنے ایک شہری کی ہلاکت پر ایرانی نائب سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا، جبکہ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی UKMTO نے اطلاع دی کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر پر بھی میزائل حملہ کیا گیا ہے۔
یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ بحران اب صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ان ممالک کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے جن کے شہری، بحری بیڑے یا تجارتی مفادات خلیجی سمندری راستوں سے وابستہ ہیں۔
تیل کی منڈیاں کیوں بے چین ہیں؟
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
سمندری راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچنے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اور خلیجی ممالک سے برآمد ہونے والی مائع قدرتی گیس LNG کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔
اسی لیے یہاں فوجی کشیدگی صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں، شپنگ انشورنس، مال برداری کے اخراجات اور بین الاقوامی سپلائی چین تک پہنچتے ہیں۔
اسی حقیقت کے باعث دنیا کی نظریں صرف میدانِ جنگ پر نہیں بلکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر تجارتی جہاز پر بھی مرکوز ہیں، کیونکہ یہ راستہ عالمی معیشت کی رفتار سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
اردن: بحران کا تیسرا محاذ
بحرین اور آبنائے ہرمز کے بعد کشیدگی کا رخ اردن کی طرف بھی مڑ گیا، جہاں پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی فضائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
تاہم اردنی مسلح افواج نے کہا کہ ایران سے داغے گئے چار میزائل ملکی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیے۔
فوج کے مطابق کارروائی کے دوران نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا مادی خسارہ، جبکہ رائل انجینئرنگ کور نے میزائلوں کے ملبے کو محفوظ بنا کر متاثرہ مقامات کو کلیئر کر دیا۔
عمّان نے ایک بار پھر اس تاثر کو مسترد کیا کہ اس کی سرزمین امریکی فوجی کارروائیوں کا مستقل مرکز ہے۔
اردنی حکام کے مطابق ملک میں موجود تمام فوجی اڈے اردن کی خودمختار تنصیبات ہیں، جبکہ اتحادی افواج کی موجودگی دفاعی تعاون اور مشترکہ تربیت کے معاہدوں کے دائرے میں آتی ہے۔
یہ مؤقف اس لیے بھی اہم ہے کہ اردن مسلسل اس کوشش میں ہے کہ خود کو براہِ راست امریکہ، ایران تصادم کا فریق بننے سے بچائے، اگرچہ جغرافیائی محلِ وقوع اسے اس بحران کے انتہائی قریب رکھتا ہے۔
کیا مفاہمتی راستہ بند ہو رہا ہے؟
تازہ فوجی کارروائیوں نے 17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو اس کے نفاذ کے بعد کے سب سے مشکل امتحان میں ڈال دیا ہے۔
اس یادداشت کا مقصد آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا، تجارتی جہاز رانی کے لیے نسبتاً محفوظ ماحول برقرار رکھنا اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کے خطرے کو محدود کرنا تھا، مگر حالیہ واقعات نے اس مقصد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
امریکہ ایران کی بحری، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو محدود کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جبکہ ایران یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اگر اس پر دباؤ بڑھایا گیا تو اس کا جواب صرف فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایسے مقامات تک بھی پہنچ سکتا ہے جہاں سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل وابستہ ہے۔
اسی لیے سفارتی حلقوں میں اب اصل سوال یہ نہیں کہ کشیدگی بڑھی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا موجودہ بحران کو دوبارہ سفارتی راستے پر لایا جا سکتا ہے۔
جنگ کا اصل میدان صرف محاذ نہیں، معیشت بھی ہے
مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات تیل کی منڈیوں، بحری انشورنس، جہاز رانی، سرمایہ کاری اور عالمی سپلائی چین میں بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہتی ہے یا تجارتی جہازوں پر حملوں کا سلسلہ بڑھتا ہے تو اس کے اثرات خام تیل کی قیمتوں، بحری نقل و حمل کی لاگت اور بین الاقوامی تجارت پر فوری طور پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے عالمی مالیاتی منڈیاں صرف فوجی بیانات نہیں بلکہ خلیج میں ہر بحری پیش رفت کو بھی غیر معمولی توجہ سے دیکھ رہی ہیں۔
اگلے 72 گھنٹے کیوں اہم ہیں؟
موجودہ بحران کا اگلا مرحلہ بڑی حد تک آنے والے چند دنوں پر منحصر ہوگا۔
اگر امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں مزید بڑھاتا ہے تو ایران کے جوابی اقدامات بھی زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں، جبکہ اگر دونوں جانب سے سفارتی رابطے دوبارہ فعال ہوتے ہیں تو کشیدگی کو محدود رکھنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
اسی دوران عالمی بحری کمپنیوں، تیل درآمد کرنے والے ممالک اور مالیاتی اداروں کی نظریں آبنائے ہرمز پر مرکوز رہیں گی، کیونکہ وہاں کی ہر نئی پیش رفت عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اختتام: صرف ایک بحران نہیں، ایک امتحان
امریکہ کے وسیع فضائی حملے، ایران کے متعدد محاذوں پر جوابی اقدامات، بحرین میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے دعوے، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے اور اردن میں میزائلوں کی روک تھام—یہ تمام واقعات مل کر اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اب اصل سوال صرف یہ نہیں کہ امریکہ اور ایران کا اگلا قدم کیا ہوگا، بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا آبنائے ہرمز، جو دہائیوں سے عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، آئندہ بھی بین الاقوامی تجارت کا محفوظ راستہ رہے گی یا بڑی طاقتوں کی مسلسل محاذ آرائی کا مستقل مرکز بن جائے گی۔
اس سوال کا جواب صرف خطے کے امن کے لیے نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کے مستقبل کے لیے بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔
ادارتی نوٹ
اس رپورٹ میں شامل تمام فوجی دعووں اور سرکاری بیانات کو ان کے متعلقہ فریقوں کی نسبت سے پیش کیا گیا ہے۔ جنگی حالات میں معلومات تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے بعد میں سامنے آنے والی سرکاری یا آزادانہ تصدیقات کے مطابق تفصیلات میں تبدیلی ممکن ہے۔