براہ راست نشریات

ہرمز پر امریکی قبضے کی تیاری! ایران کا بحری محاصرہ دوبارہ نافذ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

امریکہ نے ایران پر بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی شپنگ پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اس اہم بحری گزرگاہ کی حفاظت کرے گا، جبکہ ایران نے امریکی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کی قومی سلامتی کا حصہ ہے۔
تازہ کشیدگی نے عالمی تیل، شپنگ اور مہنگائی سے متعلق خدشات دوبارہ بڑھا دیے ہیں۔

Overseas Post | خصوصی رپورٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد فیس عائد کرنے اور اس اہم آبی گزرگاہ کی حفاظت و نگرانی کا نیا منصوبہ بھی پیش کر دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل ہونے والی عارضی مفاہمت تقریباً ختم ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہیں۔ 

اس صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

مزید پڑھیں

امریکی بحری محاصرہ دوبارہ نافذ

امریکی سینٹرل کمانڈ CENTCOM کے ترجمان ٹم ہاکنز نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ آئندہ چند گھنٹوں میں ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کرنا شروع کر دے گی۔

انہوں نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تمام عسکری اور آپریشنل انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور امریکی جنگی بحری جہاز 

آج ہی اس مشن کا آغاز کریں گے۔

یہ فیصلہ اس بحری محاصرے کی واپسی ہے جسے گزشتہ جون میں قطر اور پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد عارضی طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ حالیہ فوجی جھڑپوں اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھانے کے بعد سابقہ انتظامات اب مؤثر نہیں رہے، اس لیے نئی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز بحران

’ہم ہرمز کے محافظ بنیں گے‘

بحری محاصرے کے اعلان کے ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ایسے فیصلوں کا اعلان کیا جنہیں خطے میں امریکی پالیسی کی بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ ایران پر بحری پابندیاں دوبارہ نافذ کر رہا ہے، تاہم یہ پابندیاں صرف ایران یا اس سے وابستہ بحری سرگرمیوں تک محدود ہوں گی، جبکہ دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی آزادی حاصل رہے گی۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ آئندہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کا ذمہ دار ہوگا اور اس مقصد کے لیے وہاں سے گزرنے والی تمام بحری تجارتی کھیپوں پر 20 فیصد سیکیورٹی فیس وصول کی جائے گی۔

 

ان کے مطابق یہ رقم دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ کی نگرانی، سیکیورٹی اور فوجی اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

بعد ازاں فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے عمل میں ہے اور مستقبل میں اس کی انتظامی نگرانی بھی سنبھال سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کے محافظ بن جائیں گے، اور دنیا کو اس تحفظ کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

معاہدہ کیوں ٹوٹا؟

صدر ٹرمپ نے حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تازہ بات چیت تقریباً کامیاب ہو چکی تھی۔

ان کے مطابق مذاکرات تقریباً 11 گھنٹے جاری رہے اور تمام نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، مگر ایرانی وفد نے چند گھنٹوں بعد دوبارہ رابطہ کر کے معاہدے میں نئی تبدیلیوں کا مطالبہ کر دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن نے اسے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، جس کے بعد امریکہ نے دوبارہ سخت اقدامات کا فیصلہ کیا۔

آبنائے ہرمز بند

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ قطر اور پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، جس کے تحت امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیاں نرم کر دی تھیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔

تاہم حالیہ فوجی کارروائیوں نے اس پورے فریم ورک کو دوبارہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

ایران: ہرمز میں مداخلت کی اجازت نہیں

ادھر تہران نے امریکی اعلانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی اور انتظام سے متعلق کسی بھی فیصلے میں بیرونی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران قطر، پاکستان اور سلطنتِ عمان کی ثالثی میں سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ موجودہ کشیدگی مزید جنگ میں تبدیل نہ ہو۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران ہرگز یہ اجازت نہیں دے گا کہ آبنائے ہرمز اس کی قومی سلامتی کے خلاف استعمال ہو۔

بقائی نے امریکی تجویز، جس میں تجارتی جہازوں کو امریکی فوجی تحفظ فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے، کو خطے میں کشیدگی برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کا حل فوجی طاقت نہیں بلکہ سفارت کاری اور باہمی احترام ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کا انتباہ

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تہران کسی بھی صورت واشنگٹن کو آبنائے ہرمز کے انتظام یا نگرانی میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایرانی اجازت کے بغیر اس حساس آبی گزرگاہ میں اپنی مرضی نافذ کرنے کی کوشش کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی کا انحصار امریکی فوجی سرگرمیوں کے خاتمے پر ہے۔

امریکہ ایران جنگ

کشیدگی برقرار

سفارتی بیانات کے ساتھ ساتھ عسکری محاذ پر بھی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ CENTCOM نے اعلان کیا کہ اس کی افواج نے بندر عباس کی بحری تنصیبات پر حملہ کیا، جہاں آبدوزوں اور جنگی بحری جہازوں کی مرمت کی جاتی تھی۔

اس کارروائی میں پہلی مرتبہ سمندری خودکش ڈرونز Maritime One-Way Drones استعمال کیے گئے، جنہوں نے ایرانی بحری ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔

 

امریکی فوج کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا جو تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

سینٹکام نے مزید بتایا کہ امریکی افواج نے کم لاگت والے نئے ڈرونز بھی استعمال کیے، جن کا ڈیزائن ایرانی ’شاہد‘ ڈرونز سے متاثر ہے، تاہم انہیں امریکی ضروریات کے مطابق جدید بنایا گیا ہے۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

دوسری جانب ایران نے بھی مختلف مقامات پر امریکی اہداف کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ متعدد خلیجی ممالک نے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو فعال رکھنے کا اعلان کیا۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

موجودہ بحران کا مرکز صرف امریکہ اور ایران نہیں بلکہ آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی معیشت کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

خلیج سے نکلنے والا تیل اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی راستے سے دنیا کی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

اسی لیے اس آبی گزرگاہ میں معمولی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں میں تیل، گیس، شپنگ اور انشورنس کے اخراجات پر فوری اثر ڈالتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں جب بھی آبنائے ہرمز میں بحران پیدا ہوا، خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، شپنگ کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ واضح طور پر دیکھا گیا۔

Trump Iran Attack

دنیا کی نظریں اب تیل کی منڈی پر

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کرنے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ پر اضافی فیس عائد کرنے کی تجویز عالمی تجارت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔

اگر کشیدگی مزید بڑھی تو بحری انشورنس مہنگی ہوگی، جہازوں کے کرائے بڑھیں گے، خام تیل کی ترسیل متاثر ہوگی اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایندھن اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اس کا اثر صرف بڑی معیشتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خلیجی ممالک، جنوبی ایشیا اور توانائی درآمد کرنے والے تمام ممالک اس کے معاشی اثرات محسوس کریں گے۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

خلیج میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی اس بحران کو محض ایک سیاسی یا عسکری خبر سمجھ کر نظر انداز نہیں کر سکتے۔

اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات روزمرہ زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔

ممکنہ طور پر:

  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
  • اشیائے خورونوش اور درآمدی سامان مہنگا ہو سکتا ہے۔
  • بحری مال برداری کی لاگت بڑھنے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
  • بعض ترقیاتی منصوبوں اور صنعتی شعبوں میں اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
  • عالمی مہنگائی کی نئی لہر خلیجی معیشتوں پر بھی دباؤ ڈال سکتی ہے۔
امریکہ ایران مذاکرات

اگرچہ ابھی ان تمام خدشات کا عملی طور پر ظاہر ہونا باقی ہے، تاہم مالیاتی منڈیاں اس بحران کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں اور سرمایہ کاروں کی نظریں اب آبنائے ہرمز میں ہونے والی ہر نئی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

کیا آگے بھی کشیدگی بڑھے گی؟

اس وقت واشنگٹن اور تہران دونوں سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔

امریکہ آبنائے ہرمز میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا رہا ہے، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری کا مسئلہ قرار دے کر پیچھے ہٹنے سے انکار کر رہا ہے۔

اسی دوران قطر، پاکستان اور سلطنتِ عمان سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

تاہم جب تک عسکری کارروائیاں اور جوابی حملے جاری رہتے ہیں، عالمی منڈیاں، تیل کی قیمتیں اور بین الاقوامی تجارت غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہنے کا امکان ہے۔

اس وقت صرف آبنائے ہرمز نہیں، بلکہ عالمی معیشت بھی دو طاقتوں کی اس نئی کشمکش کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے۔

🌍 اصل ذرائع و حوالہ جات رپورٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے معتبر عالمی اور سرکاری ذرائع 10 معتبر ذرائع