براہ راست نشریات

ترقی کا سفر: قطر چند برس میں گیس کی عالمی صنعت کا بادشاہ کیسے بنا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
قطر میں مائع قدرتی گیس (LNG) کا پلانٹ اور راس لفان انڈسٹریل سٹی کا برآمدی منظر
قطر نے عالمی کمپنیوں کے ساتھ مضبوط اشتراک کیا تاکہ جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری حاصل ہو (فوٹو: اے آئی)

قطری گیس انڈسٹری کی عالمی کامیابی کی داستان 1995ء میں شروع ہوئی، جب ملک نے محدود تیل کے وسائل کے باوجود ایک تاریخی اور جرأت مندانہ اقتصادی سفر کا آغاز کیا۔

مزید پڑھیں

سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی بصیرت انگیز قیادت میں  قطر نے اپنی معیشت کو صرف تیل پر انحصار کرنے کے بجائے دنیا کی سب سے بڑی مائع قدرتی گیس (LNG) ایکسپورٹر کے طور پر منوایا۔

تزویراتی وژن اور نارتھ فیلڈ میں سرمایہ کاری

90ء کی دہائی میں گیس کی قیمتیں کم اور نکالنے کی ٹیکنالوجی مہنگی تھی، تب بھی قطر نے ’نارتھ فیلڈ‘میں خطیر سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا۔

یہ فیصلہ توقعات کے مطابق گیم چینجر ثابت ہوا، کیونکہ نارتھ فیلڈ آج دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس فیلڈ تسلیم کیا جاتا ہے، جس نے قطر کو عالمی توانائی مارکیٹ میں نمایاں مقام دلایا اور گیس کی عالمی صنعت کا بادشاہ بنایا۔

قطر
مزید خبریں، تجزیے اور رپورٹس کے لیے کلک کریں

عالمی شراکت داری اور تکنیکی ترقی

قطر نے بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے ساتھ مضبوط اشتراک بنایا تاکہ جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری حاصل کی جا سکے۔ قطر گیس اور راس گیس جیسی کمپنیوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر پیداواری لائنیں شروع کی گئیں۔

دسمبر 1996ء میں جاپان کو گیس کی پہلی کھیپ کی برآمد قطری گیس انڈسٹری کا پہلا بڑا سنگ میل تھی۔

قطر میں مائع قدرتی گیس (LNG) کا پلانٹ اور راس لفان انڈسٹریل سٹی کا برآمدی منظر
شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے دور میں قطر کی معیشت 24 گنا تک بڑھی (فوٹو: انٹرنیٹ)

بنیادی ڈھانچہ اور خود انحصاری

2004ء میں ’ناقلات‘ کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ گیس کی نقل و حمل کے لیے غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار ختم کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ راس لفان انڈسٹریل سٹی کو گیس پروسیسنگ اور ایکسپورٹ کے مرکز کے طور پر تیار کیا گیا، جو آج دنیا کی سب سے بڑی LNG برآمدی بندرگاہ بھی ہے۔

اقتصادی نمو کے ناقابل یقین اعداد و شمار

عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے اعداد و شمار کے مطابق شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے دور میں قطر کی معیشت 24 گنا تک بڑھی۔

1995ء میں قطر کی جی ڈی پی تقریباً 8 ارب ڈالر تھی جو 2013ء تک 199 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ 2006ء میں حقیقی ترقی کی شرح 28 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔

قطری گیس کی عالمی بادشاہت

محدود وسائل سے عالمی توانائی کے مرکز تک کا سفر

1995

معاشی سفر کا آغاز

تیل پر انحصار ختم کر کے نارتھ فیلڈ میں تاریخی سرمایہ کاری کا فیصلہ۔

1996

پہلی عالمی برآمد

جاپان کو مائع قدرتی گیس کی پہلی کامیاب کھیپ روانہ کی گئی۔

2004

ناقلات کمپنی کا قیام

گیس کی نقل و حمل کے لیے غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار کا مکمل خاتمہ۔

2027

مستقبل کا ہدف

سالانہ گیس پیداواری صلاحیت کو 126 ملین ٹن تک بڑھانے کا منصوبہ۔

خیر العقول معاشی ترقی: جی ڈی پی کا موازنہ (ارب ڈالر)

معیشت کا حجم (سال 2013) 199
معیشت کا حجم (سال 1995) 8

اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم

مستقبل کا لائحہ عمل اور پائیداری

قطر نے 2005ء میں ’قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی‘ قائم کی تاکہ مالی فوائد کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔

موجودہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے دور میں 2027ء تک گیس کی سالانہ پیداواری صلاحیت کو 126 ملین ٹن تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو عالمی توانائی تحفظ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

معیشت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر نظر رکھیں، کلک کریں

قطر کا ماڈل یہ ثابت کرتا ہے کہ جرأت مندانہ سرمایہ کاری اور درست تزویراتی سمت سے ایک محدود وسائل والا ملک بھی عالمی معیشت کا مرکز بن سکتا ہے۔

آج قطر نہ صرف گیس کی پیداوار میں سرفہرست ہے بلکہ عالمی توانائی تحفظ کے لیے ایک ناگزیر پارٹنر کی حیثیت رکھتا ہے۔