خلیجی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی، مہنگائی کے خدشات میں اضافہ اور امریکی شرحِ سود سے متعلق نئی توقعات نے سونے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال نے خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں مہنگائی اور امریکی شرحِ سود سے متعلق خدشات دوبارہ بڑھ گئے۔
یہی وجہ ہے کہ روایتی محفوظ سرمایہ کاری ہونے کے باوجود سونا ایک فیصد سے زیادہ گر گیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے ڈالر اور امریکی بانڈز کا رخ کیا۔
عام حالات میں جب دنیا کسی بڑی جنگ، فوجی کشیدگی یا جغرافیائی بحران کا شکار ہوتی ہے تو سرمایہ کار سب سے پہلے سونے کا رخ کرتے ہیں، کیونکہ اسے صدیوں سے محفوظ سرمایہ کاری Safe Haven سمجھا جاتا ہے۔
مگر اس مرتبہ عالمی منڈی نے ایک مختلف کہانی سنائی ہے۔
پیر کے روز سونے کی قیمت ایک فیصد سے زیادہ گر گئی، حالانکہ امریکہ اور ایران کے درمیان خلیج میں کشیدگی نئی شدت اختیار کر چکی ہے، آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں
بظاہر یہ صورتحال غیر معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر عالمی مالیاتی منڈیوں کی حرکیات کو دیکھا جائے تو اس کے پیچھے ایک مضبوط معاشی منطق موجود ہے۔
جنگ نہیں، مہنگائی اصل خطرہ بن گئی
اس مرتبہ سرمایہ کاروں نے جنگ کو صرف سکیورٹی بحران کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے توانائی کی عالمی رسد کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان نے فوری طور پر خام تیل
کی قیمتوں کو تقریباً 4 فیصد اوپر پہنچا دیا۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کی سمندری تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے اس راستے میں معمولی رکاوٹ بھی عالمی توانائی کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو نقل و حمل، صنعت، بجلی، خوراک اور تقریباً ہر شعبے کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی دوبارہ سر اٹھانے لگتی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جس نے سونے پر دباؤ ڈال دیا۔
سونا کیوں نیچے آیا؟
عموماً جنگ کے دوران سرمایہ کار سونا خریدتے ہیں، لیکن اس مرتبہ مارکیٹ نے مختلف انداز میں سوچا۔
سرمایہ کاروں نے اندازہ لگایا کہ اگر تیل مہنگا رہتا ہے تو امریکہ میں مہنگائی مزید بڑھے گی، اور ایسی صورت میں فیڈرل ریزرو کے لیے شرح سود کم کرنا آسان نہیں ہوگا۔
بلند شرح سود کا مطلب یہ ہے کہ امریکی بانڈز اور دیگر سود دینے والے اثاثے زیادہ منافع بخش بن جاتے ہیں، جبکہ سونا کوئی سود یا منافع ادا نہیں کرتا۔
اسی لیے سرمایہ کاروں نے سونے کے بجائے ڈالر اور امریکی بانڈز کو ترجیح دینا شروع کر دی، جس سے سونے کی قیمت دباؤ میں آ گئی۔
ڈالر بھی مضبوط، بانڈ ییلڈز بھی بلند
خلیجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ اور امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈ میں بہتری نے بھی سونے پر دباؤ بڑھایا۔
عالمی منڈی میں جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے طلب کم ہو جاتی ہے۔
اسی دوران ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی فروخت کا رجحان دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کار زیادہ خطرے والے اثاثوں سے نکل کر نسبتاً محفوظ ڈالر سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہونے لگے۔
فیڈرل ریزرو کے لیے مشکل فیصلہ
اب پوری دنیا کی نظریں امریکی فیڈرل ریزرو پر ہیں۔
اس ہفتے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کانگریس کے سامنے اپنی پہلی نیم سالانہ رپورٹ پیش کریں گے، جبکہ امریکہ میں صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ CPI، پیداواری قیمتوں کا اشاریہ PPI اور جون کی ریٹیل سیلز سمیت کئی اہم معاشی اعداد و شمار بھی جاری ہوں گے۔
جنگ، تیل اور شرحِ سود کا نیا طوفان!
امریکہ۔ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے خام تیل کو تقریباً 4 فیصد اوپر دھکیل دیا، جس سے عالمی مہنگائی کے نئے خطرات پیدا ہوئے۔
سرمایہ کاروں نے جنگ کو محفوظ سرمایہ کاری کے بجائے مہنگائی اور بلند شرح سود کے خطرے کے طور پر دیکھا، اس لیے سونے کے مقابلے میں ڈالر اور بانڈز کو ترجیح ملی۔
ڈالر کی قدر میں اضافے سے دیگر کرنسیوں کے سرمایہ کاروں کے لیے سونا مہنگا ہو گیا، جس نے طلب کو کم اور قیمتوں پر دباؤ بڑھایا۔
بلند امریکی ٹریژری ییلڈز نے سود دینے والے اثاثوں کو زیادہ پرکشش بنایا، جبکہ سونا کوئی سود ادا نہیں کرتا، اس لیے سرمایہ کاروں کی ترجیح بدل گئی۔
اگر تیل مہنگا رہتا ہے اور CPI یا PPI بلند آتے ہیں تو فیڈرل ریزرو شرح سود کم کرنے میں تاخیر کر سکتا ہے، جو قلیل مدت میں سونے کے لیے منفی ہوگا۔
اگر آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کو سست روی یا کساد بازاری کی طرف لے گئی تو سرمایہ کار دوبارہ محفوظ اثاثوں کی طرف لوٹ سکتے ہیں اور سونا پھر مضبوط ہو سکتا ہے۔
چاندی، پلاٹینم اور پیلاڈیم میں بھی نمایاں کمی ہوئی، جس سے ظاہر ہوا کہ فروخت صرف سونے تک محدود نہیں بلکہ پورے قیمتی دھاتوں کے شعبے میں پھیلی ہوئی ہے۔
خلیجی معیشتوں کو تیل کی بلند قیمتوں سے آمدنی میں فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ پاکستان جیسے درآمدی ممالک پر مہنگائی، درآمدی بل اور زرِ مبادلہ کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
بحران کی معاشی زنجیر
- جنگی کشیدگی کے باوجود سونا اس لیے گرا کیونکہ سرمایہ کاروں کی فوری توجہ مہنگائی اور شرح سود پر مرکوز رہی۔
- تیل کی قیمتوں میں اضافہ فیڈرل ریزرو کے لیے شرح سود کم کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔
- مضبوط ڈالر اور بلند بانڈ ییلڈز نے سونے پر اضافی دباؤ ڈالا۔
- ہرمز کی بندش قلیل مدت میں سونے کے لیے منفی، مگر طویل مدت میں محفوظ سرمایہ کاری کی طلب بڑھا سکتی ہے۔
- پاکستان جیسے درآمدی ممالک پر مہنگائی اور زرِ مبادلہ کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
- امریکی CPI، PPI اور ریٹیل سیلز کے اعداد سونے اور ڈالر کی اگلی سمت طے کریں گے۔
- فیڈرل ریزرو کی شرح سود سے متعلق رہنمائی قیمتی دھاتوں کے لیے فیصلہ کن ہوگی۔
- اگر ہرمز میں کشیدگی بڑھی تو تیل اور ڈالر مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔
- اگر عالمی سست روی کے خدشات غالب آئے تو سونا دوبارہ محفوظ اثاثے کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
- اگلے چند دنوں میں مارکیٹ جنگ سے زیادہ اس کے معاشی نتائج کو قیمتوں میں شامل کرے گی۔
اگر ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مہنگائی توقعات سے زیادہ تیز ہے تو شرح سود کو زیادہ عرصے تک بلند رکھنے کا امکان مزید مضبوط ہو سکتا ہے، اور یہی صورتحال سونے کے لیے قلیل مدت میں منفی ثابت ہو سکتی ہے۔
کیا آبنائے ہرمز واقعی سب کچھ بدل سکتی ہے؟
یہ سوال اس وقت عالمی مالیاتی منڈیوں میں سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔
اگر آبنائے ہرمز مکمل یا جزوی طور پر بند رہتی ہے تو خام تیل کی عالمی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے تیل مزید مہنگا اور مہنگائی مزید بلند ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر اس کے نتیجے میں عالمی معیشت سست روی یا کساد بازاری کی طرف بڑھتی ہے تو منظرنامہ بدل سکتا ہے۔
ایسی صورت میں سرمایہ کار ایک مرتبہ پھر محفوظ اثاثوں کی طرف لوٹ سکتے ہیں، اور سونا دوبارہ اپنی روایتی پوزیشن حاصل کر سکتا ہے۔
اسی لیے موجودہ صورتحال کو مختصر مدتی اور طویل مدتی اثرات کے تناظر میں الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
دیگر قیمتی دھاتیں بھی دباؤ میں
صرف سونا ہی نہیں بلکہ دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی نمایاں فروخت دیکھی گئی۔
چاندی تقریباً 2.8 فیصد گر گئی، جبکہ پلاٹینم اور پیلاڈیم میں بھی دو فیصد کے لگ بھگ کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں نے پورے قیمتی دھاتوں کے شعبے میں منافع وصولی کو ترجیح دی۔
پاکستان اور خلیجی سرمایہ کاروں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
اگر خام تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی معیشتوں کو توانائی کی آمدنی میں فائدہ ہو سکتا ہے، تاہم درآمدی معیشتوں کے لیے مہنگائی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی موجود رہے گا۔
پاکستان جیسے ممالک، جہاں توانائی کی درآمدات پہلے ہی بڑا مالی بوجھ ہیں، وہاں تیل مہنگا ہونے کی صورت میں درآمدی بل، مہنگائی اور زرِ مبادلہ پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
اسی دوران اگر امریکی شرح سود بلند رہتی ہے تو ابھرتی ہوئی معیشتوں سے سرمایہ نکلنے اور ڈالر کے مزید مضبوط ہونے کا امکان بھی موجود رہے گا۔
مارکیٹ آگے کس چیز کا انتظار کر رہی ہے؟
آئندہ چند دن عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
سرمایہ کار 3 بنیادی عوامل پر نظر رکھے ہوئے ہیں:
- آبنائے ہرمز کی صورتحال اور امریکہ، ایران کشیدگی۔
- امریکی مہنگائی کے تازہ اعدادوشمار۔
- فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود سے متعلق رہنمائی۔
اگر کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو تیل اور ڈالر میں مزید اضافہ ممکن ہے، جبکہ سونے کی سمت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سرمایہ کار مہنگائی سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیں یا عالمی معاشی سست روی سے۔
نتیجہ
موجودہ بحران نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیاں صرف جنگ کی خبروں پر ردِعمل نہیں دیتیں بلکہ اس جنگ کے معاشی نتائج کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔
فی الحال سرمایہ کاروں کی نظر میں اصل خطرہ جنگ نہیں بلکہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی، بلند شرح سود اور توانائی کی غیر یقینی صورتحال ہے۔
اسی وجہ سے اس مرتبہ جنگ کے سائے میں بھی سونا چمکنے کے بجائے دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے، جبکہ آئندہ چند دنوں میں فیڈرل ریزرو کے اشارے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال یہ طے کریں گے کہ عالمی منڈیوں کا اگلا رخ کیا ہوگا۔