سعودی عرب میں تعمیراتی منصوبوں سے پیدا ہونے والی گردوغبار کی آلودگی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 1.6 کروڑ ریال سے زائد جرمانے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ 24 گھنٹے نگرانی اور فضائی معیار کی فوری مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔
سعودی عرب نے شہری علاقوں میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے تعمیراتی منصوبوں کے خلاف ماحولیاتی نگرانی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیشنل سینٹر فار انوائرمنٹل کمپلائنس NEC نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مرحلے میں نگرانی کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرتے ہوئے 24 گھنٹے فعال رکھا جائے گا، تاکہ تعمیراتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گردوغبار کی آلودگی کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔
مزید پڑھیں
مرکز کے مطابق اس وقت گرد و غبار پر قابو پانے سے متعلق ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر ایک کروڑ 60 لاکھ ریال سے زائد کے جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔
ان اقدامات کا مقصد تعمیراتی شعبے میں ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا، فضائی معیار کو بہتر بنانا اور شہریوں کی صحت کا تحفظ ہے۔
مرکز نے بتایا کہ اس وقت یونیفائیڈ ایئر کوالٹی پلیٹ فارم کی تکمیل پر کام جاری ہے، جس کے ذریعے فضائی معیار کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹھیکیداروں اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے خصوصی پروگرام بھی شروع کیے جا رہے ہیں، خصوصاً شام اور رات کے اوقات میں جاری تعمیراتی کاموں پر زیادہ توجہ دی جائے گی، جہاں گرد و غبار کے پھیلنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
Environmental inspections continue through construction activities in Riyadh to ensure compliance with dust control measures, helping to improve #AirQuality and reduce the environmental impact of construction activities. #EnvironmentalCompliance pic.twitter.com/2wkTq46hsP
— المركز الوطني للرقابة على الالتزام البيئي (@ncecksa) July 9, 2026
ریاض ریجن میں نیشنل سینٹر فار انوائرمنٹل کمپلائنس کے ڈائریکٹر انجینئر فواز آل مجثل نے کہا کہ جرمانوں کا مقصد صرف خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینا نہیں بلکہ تعمیراتی منصوبوں میں مستقل بنیادوں پر ماحولیاتی ضوابط کی پابندی کو یقینی بنانا ہے۔
ان کے مطابق بعض منصوبے ابتدائی مراحل میں ضوابط پر مکمل عمل کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان میں غفلت دیکھنے میں آتی ہے، اسی لیے مسلسل فیلڈ انسپکشن اور 24 گھنٹے نگرانی ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خلاف ورزی سامنے آنے پر متعلقہ ادارے کو فوری اصلاحی اقدامات کا پابند بنایا جاتا ہے، جبکہ ایسی خامیوں کے لیے جنہیں فوری طور پر دور کرنا ممکن نہ ہو، زیادہ سے زیادہ 30 دن کے اندر اصلاحی منصوبہ جمع کرانا لازمی ہوتا ہے۔
مرکز کے مطابق گردوغبار کی نگرانی کے لیے جدید اور جامع نظام استعمال کیا جا رہا ہے، جس میں مسلسل فیلڈ انسپکشن، فضائی معیار ناپنے والے اسٹیشنز، جدید مانیٹرنگ آلات، تعمیراتی مقامات پر نصب سینسرز، شہریوں اور مقیم افراد کی شکایات، اور تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے جمع کرائی جانے والی ماحولیاتی رپورٹس شامل ہیں۔
کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
ماحولیاتی ضابطوں کے تحت تعمیراتی کمپنیوں کے لیے متعدد احتیاطی اقدامات لازمی قرار دیے گئے ہیں، جن میں کھدائی اور زمین کی تیاری کے دوران مسلسل پانی کا چھڑکاؤ، غیر پختہ سڑکوں پر گاڑیوں کی رفتار 10 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم رکھنا، اور تعمیراتی مقام سے باہر نکلنے سے پہلے ٹرکوں اور بھاری مشینری کے ٹائروں کی لازمی صفائی شامل ہے۔
مرکز نے واضح کیا کہ تمام منصوبوں میں ماحولیاتی ضوابط پر عمل درآمد کی سطح یکساں نہیں ہوتی، اسی لیے مسلسل نگرانی اور مؤثر نفاذ ہی مکمل ماحولیاتی مطابقت کو یقینی بنا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق تعمیراتی سرگرمیوں سے خارج ہونے والے باریک گردوغبار کے ذرات فضائی معیار کو متاثر کرتے ہیں اور ان کے مضر اثرات خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
اس لیے گردوغبار میں کمی نہ صرف فضائی ماحول کو بہتر بناتی ہے بلکہ عوامی صحت، معیارِ زندگی اور شہری ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
📚 اس خبر کے ذرائع 1 معتبر ذریعہ
العربیہ نیٹ ورک سعودی عرب کی خصوصی رپورٹ اصل رپورٹ پڑھیں ↗BY: overseaspost.net