امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اپنے وعدے پورے نہ کیے تو وہ مفاہمتی یادداشت کی پابندی جاری نہیں رکھے گا۔
اسی دوران دونوں ممالک کے درمیان فضائی، بحری اور میزائل حملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے عالمی توانائی اور سمندری تجارت پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
خلیج میں جاری کشیدگی پیر کے روز ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی جس نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے عارضی مفاہمتی معاہدے کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا بلکہ عالمی توانائی، بین الاقوامی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کے امن کے حوالے سے بھی نئے خدشات کو جنم دے دیا۔
تہران نے پہلی بار کھلے الفاظ میں عندیہ دیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اپنے وعدے پورے نہ کیے تو ایران بھی گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا پابند نہیں رہے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان ایک مرتبہ پھر فضائی، بحری اور میزائل حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے گرد فوجی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مزید پڑھیں
سفارتی زبان سے فوجی پیغام تک
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں امریکہ کی جانب سے معاشی پابندیاں، سیاسی دباؤ اور فوجی کارروائیاں اس ماحول کو تباہ کر رہی ہیں جس میں کسی بھی معاہدے پر عمل ممکن ہو۔
ان کے مطابق ایران، سلطنتِ عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں جہاز
رانی کے لیے ایک مشترکہ نظام وضع کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم تہران کا الزام ہے کہ واشنگٹن ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے عمان پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
یہ بیان دراصل ایک سفارتی انتباہ بھی ہے اور سیاسی پیغام بھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اب صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر بھی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
اصل تنازع صرف ہرمز نہیں
بظاہر اختلاف آبنائے ہرمز کی نگرانی اور بحری آمدورفت کے قواعد پر ہے، مگر حقیقت میں تنازع اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔
ایران سمجھتا ہے کہ خلیج کے پانیوں کی سلامتی کا فیصلہ خطے کے ممالک کریں، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسے عالمی بحری راستہ قرار دیتے ہوئے کسی بھی یکطرفہ کنٹرول کو مسترد کرتے ہیں۔
اسی بنیادی اختلاف نے مفاہمتی یادداشت کو بھی کمزور کر دیا ہے، کیونکہ دونوں فریق ایک ہی معاہدے کی مختلف تشریح کر رہے ہیں۔
ایران کا عسکری جواب
سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ عسکری میدان میں بھی کشیدگی تیزی سے بڑھی۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں بحرین کا امریکی ڈرون کمانڈ سینٹر، شیخ عیسیٰ ایئر بیس، کویت کا علی السالم فضائی اڈہ اور اردن کا شہزادہ حسن ایئر بیس شامل تھے۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی فضائی حملوں کا براہِ راست جواب ہیں اور اس کے فوجی آپریشن ابھی ختم نہیں ہوئے۔
امریکہ اور ایران آمنے سامنے
ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اپنے وعدے پورے نہ کیے تو تہران بھی مفاہمتی یادداشت کا پابند نہیں رہے گا، جس سے عارضی معاہدے کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔
آبنائے ہرمز اب صرف تیل کی گزرگاہ نہیں بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان طاقت، بحری کنٹرول اور مذاکراتی دباؤ کے اظہار کا مرکزی میدان بن چکی ہے۔
ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ مزید کارروائیوں کا عندیہ بھی دیا گیا۔
سینٹکام کے مطابق ایران میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار، میزائل مراکز، ڈرون تنصیبات اور تیز رفتار حملہ آور کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بحرین، کویت اور اردن نے اپنے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے، خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں خام تیل، گیس، شپنگ، انشورنس، عالمی تجارت اور سپلائی چین پر فوری اور وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بحران کیسے آگے بڑھا؟
- امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی مفاہمتی معاہدہ شدید خطرے میں ہے۔
- آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توانائی اور بحری تجارت کا مرکزی بحران بن گئی ہے۔
- ایران نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔
- امریکہ نے ایران کے اندر متعدد فوجی اور ساحلی اہداف پر حملے کیے۔
- خلیجی ممالک ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی وسیع علاقائی جنگ کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
- اگر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو مفاہمتی یادداشت عملی طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
- ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو تیل اور گیس کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
- بحرین، کویت، اردن اور دیگر علاقائی ممالک مزید دفاعی اقدامات اختیار کر سکتے ہیں۔
- قطر، عمان اور پاکستان پس پردہ سفارتی رابطوں کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
- آنے والے دن طے کریں گے کہ بحران مذاکرات کی طرف لوٹتا ہے یا وسیع جنگ کی طرف بڑھتا ہے۔
اگرچہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اتنا ضرور واضح ہے کہ دونوں ممالک اب محدود کارروائیوں سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کی عسکری صلاحیتوں کو براہِ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔
ہرمز میں نئی کشیدگی
اسی دوران ایرانی بحریہ نے اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو ایسے جہاز روک لیے جنہوں نے مبینہ طور پر بحری قوانین کی خلاف ورزی کی اور اپنے ٹریکنگ سسٹمز بند کر دیے تھے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سمندری سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ مغربی ممالک اسے عالمی جہاز رانی پر دباؤ ڈالنے کی نئی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز اب صرف تیل کی گزرگاہ نہیں بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان طاقت کے اظہار کا سب سے اہم میدان بن چکی ہے۔
خطے میں ہائی الرٹ
ایرانی حملوں کے دعووں کے بعد بحرین، کویت اور اردن نے فوری طور پر اپنے دفاعی نظام فعال کر دیے۔
بحرین میں دوسری مرتبہ خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی گئی۔
کویت نے فضائی دفاعی کارروائیوں کی تصدیق کی، جبکہ اردن نے اعلان کیا کہ اس کی فضائیہ نے ایرانی حدود سے آنے والے چار میزائل تباہ کر دیے اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ بحران اب صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ پورا خطہ اس کے ممکنہ اثرات کی زد میں آ چکا ہے۔
امریکہ کا سخت پیغام
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کے اندر درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار، میزائل تنصیبات، ڈرون مراکز اور تیز رفتار حملہ آور کشتیاں شامل ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق کارروائیوں میں جدید جنگی طیاروں، بحری جہازوں، حملہ آور ڈرونز اور پہلی مرتبہ خودکار حملہ آور بحری ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
واشنگٹن نے ایک بار پھر دو ٹوک انداز میں کہا کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بلکہ بین الاقوامی بحری راستہ ہے، اور امریکی افواج ہر قیمت پر عالمی جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنائیں گی۔
ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکے
امریکی حملوں کے بعد ایران کے متعدد علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
سرکاری اور مقامی ذرائع کے مطابق بندر عباس، قشم، جاسک، بوشہر، اہواز، آبادان، چابہار، دزفول اور ہرمزگان کے دیگر علاقوں میں مختلف فوجی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ماہشہر میں پانی کی فراہمی کے ایک مرکز پر حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 4 زخمی ہوئے، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
کیا سفارت کاری ختم ہو چکی؟
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا تھا، مگر حالیہ پیش رفت نے اس پورے عمل کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
تہران اب معاہدے پر عملدرآمد کو امریکی رویے سے مشروط کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن بحری آزادی کو کسی بھی سیاسی مذاکرات سے الگ مسئلہ قرار دے رہا ہے۔
یہی بنیادی اختلاف آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کا رخ متعین کرے گا۔
بحران کا اگلا مرحلہ کیا ہو سکتا ہے؟
تازہ صورتحال سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ خطہ ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اگر عسکری کارروائیاں اسی رفتار سے جاری رہیں تو آبنائے ہرمز دوبارہ عالمی توانائی کی رسد، خام تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ اگلا حملہ کہاں ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ کیا سفارت کاری دوبارہ جنگ پر سبقت لے سکے گی یا مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے اثرات خلیج سے نکل کر پوری دنیا تک پہنچیں گے۔