براہ راست نشریات

ورلڈ کپ کی تاریخ بدلنے والے ارجنٹینا کے عظیم کپتان انتونیو راتین چل بسے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
انتونیو راتین انتقال
ميسی نے انتونیو راتین کے انتقال پر سوگ کے اظہار کے لیے سیاہ بینڈ پہن رکھا ہے (ایسوسی ایٹڈ پریس)

خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات کے درمیان ارجنٹینا نے اتوار کے روز اپنے عظیم فٹبال ہیروز میں سے ایک، سابق قومی کپتان اور بوکا جونیئرز کے لیجنڈ انتونیو راتین کو الوداع کہہ دیا، جو 89 برس کی عمر میں چل بسے۔

یہ المناک خبر ایسے وقت سامنے آئی جب اسی روز ارجنٹینا کی قومی ٹیم نے سوئٹزرلینڈ کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی، مگر اس تاریخی کامیابی پر سوگ کی فضا بھی چھا گئی۔

مزید پڑھیں

بوکا جونیئرز فٹبال کلب نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا:
گہرے دکھ کے ساتھ ہم انتونیو اوبالدو راتین کے انتقال کی خبر دیتے ہیں، جو کلب کی ایک عظیم علامت اور تاریخ کا لازوال باب تھے۔ 

ہم ان کے اہل خانہ اور چاہنے والوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ الوداع، راتا۔ 

بوکا جونیئرز کی لازوال داستان

انتونیو راتین کو ارجنٹائن کی تاریخ کے عظیم ترین مڈفیلڈرز اور بوکا جونیئرز کے سب سے بڑے لیجنڈز میں شمار کیا جاتا ہے۔ 

انہوں نے 1956 سے 1970 تک مکمل پیشہ ورانہ کیریئر اسی کلب کے ساتھ گزارا۔

اس عرصے میں انہوں نے 382 مقابلوں میں شرکت کی، 28 گول اسکور کیے، 4 مرتبہ ارجنٹائن لیگ کا ٹائٹل جیتنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ 1963 میں ٹیم کو کوپا لیبرٹاڈورس کے فائنل تک بھی پہنچایا۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

بین الاقوامی سطح پر انہوں نے 1959 سے 1969 تک ارجنٹینا کی نمائندگی کی اور 1962 (چلی) اور 1966 (انگلینڈ) کے ورلڈ کپ میں شرکت کی۔ 

1966 کے عالمی کپ میں وہ قومی ٹیم کے کپتان بھی تھے۔

وہ واقعہ جس نے فٹبال کے قوانین بدل دیے

انتونیو راتین کا نام ہمیشہ 1966 کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے متنازع مقابلے سے جڑا رہے گا۔

اس میچ میں جرمن ریفری روڈولف کریٹلائن نے مبینہ احتجاج اور بدتمیزی کے الزام میں ارجنٹائن کے کپتان کو میدان سے باہر بھیج دیا، حالانکہ اس وقت تک فٹبال میں نہ پیلا کارڈ موجود تھا اور نہ ہی سرخ کارڈ۔

راتین نے میدان چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ریفری ہسپانوی زبان نہیں سمجھتا، جس کے باعث کھیل کچھ دیر کے لیے رک گیا اور سیکیورٹی اہلکاروں کو انہیں میدان سے باہر لے جانا پڑا۔ 

یہ منظر اس دور کے سب سے متنازع واقعات میں شمار ہوا، جبکہ ارجنٹینا کو شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہونا پڑا۔

اس واقعے کو بعد ازاں ان اہم عوامل میں شمار کیا گیا جن کی بنیاد پر فیفا نے 1970 کے ورلڈ کپ سے پہلی مرتبہ پیلے اور سرخ کارڈ کا نظام متعارف کرایا، تاکہ ریفری اور کھلاڑیوں کے درمیان زبان کی رکاوٹ ختم کی جا سکے اور مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔

عظیم قائد کو خراجِ عقیدت

انتونیو راتین کی وفات پر ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے سوئٹزرلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں سیاہ پٹیاں باندھ کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

 

راتین کے انتقال کے ساتھ ہی ارجنٹائن فٹبال ایک ایسے عظیم قائد سے محروم ہوگئی جس نے نہ صرف بوکا جونیئرز اور قومی ٹیم کے لیے شاندار خدمات انجام دیں بلکہ اپنی شخصیت اور ایک تاریخی واقعے کے ذریعے عالمی فٹبال کے قوانین پر بھی دیرپا اثر چھوڑا۔

’راتا‘ کا نام ہمیشہ فٹبال شائقین کے دلوں میں زندہ رہے گا، صرف ایک عظیم کپتان کے طور پر نہیں بلکہ اس شخصیت کے طور پر بھی جس کی کہانی نے ورلڈ کپ کی تاریخ کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔