خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات کے درمیان ارجنٹینا نے اتوار کے روز اپنے عظیم فٹبال ہیروز میں سے ایک، سابق قومی کپتان اور بوکا جونیئرز کے لیجنڈ انتونیو راتین کو الوداع کہہ دیا، جو 89 برس کی عمر میں چل بسے۔
یہ المناک خبر ایسے وقت سامنے آئی جب اسی روز ارجنٹینا کی قومی ٹیم نے سوئٹزرلینڈ کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی، مگر اس تاریخی کامیابی پر سوگ کی فضا بھی چھا گئی۔
مزید پڑھیں
بوکا جونیئرز فٹبال کلب نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا:
گہرے دکھ کے ساتھ ہم انتونیو اوبالدو راتین کے انتقال کی خبر دیتے ہیں، جو کلب کی ایک عظیم علامت اور تاریخ کا لازوال باب تھے۔
ہم ان کے اہل خانہ اور چاہنے والوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ الوداع، راتا۔
Con mucho pesar, lamentamos el fallecimiento de Antonio Ubaldo Rattín, ídolo y emblema de nuestra Institución.
— Boca Juniors (@BocaJrsOficial) July 11, 2026
Acompañamos a su familia y seres queridos en este difícil momento.
Hasta siempre, Rata. 💙💛💙 pic.twitter.com/RYODn1j4r0
بوکا جونیئرز کی لازوال داستان
انتونیو راتین کو ارجنٹائن کی تاریخ کے عظیم ترین مڈفیلڈرز اور بوکا جونیئرز کے سب سے بڑے لیجنڈز میں شمار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے 1956 سے 1970 تک مکمل پیشہ ورانہ کیریئر اسی کلب کے ساتھ گزارا۔
اس عرصے میں انہوں نے 382 مقابلوں میں شرکت کی، 28 گول اسکور کیے، 4 مرتبہ ارجنٹائن لیگ کا ٹائٹل جیتنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ 1963 میں ٹیم کو کوپا لیبرٹاڈورس کے فائنل تک بھی پہنچایا۔
بین الاقوامی سطح پر انہوں نے 1959 سے 1969 تک ارجنٹینا کی نمائندگی کی اور 1962 (چلی) اور 1966 (انگلینڈ) کے ورلڈ کپ میں شرکت کی۔
1966 کے عالمی کپ میں وہ قومی ٹیم کے کپتان بھی تھے۔
وہ واقعہ جس نے فٹبال کے قوانین بدل دیے
انتونیو راتین کا نام ہمیشہ 1966 کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے متنازع مقابلے سے جڑا رہے گا۔
اس میچ میں جرمن ریفری روڈولف کریٹلائن نے مبینہ احتجاج اور بدتمیزی کے الزام میں ارجنٹائن کے کپتان کو میدان سے باہر بھیج دیا، حالانکہ اس وقت تک فٹبال میں نہ پیلا کارڈ موجود تھا اور نہ ہی سرخ کارڈ۔
راتین نے میدان چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ریفری ہسپانوی زبان نہیں سمجھتا، جس کے باعث کھیل کچھ دیر کے لیے رک گیا اور سیکیورٹی اہلکاروں کو انہیں میدان سے باہر لے جانا پڑا۔
یہ منظر اس دور کے سب سے متنازع واقعات میں شمار ہوا، جبکہ ارجنٹینا کو شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہونا پڑا۔
Rattín fue uno más de nosotros y amó tanto estos colores que fueron los únicos que eligió defender durante sus 14 años de carrera.
— Boca Juniors (@BocaJrsOficial) July 11, 2026
Caudillo, argentino y eternamente Bostero.
Te vamos a extrañar, Rata querido. 💙💛💙 pic.twitter.com/jryz9CaXDX
اس واقعے کو بعد ازاں ان اہم عوامل میں شمار کیا گیا جن کی بنیاد پر فیفا نے 1970 کے ورلڈ کپ سے پہلی مرتبہ پیلے اور سرخ کارڈ کا نظام متعارف کرایا، تاکہ ریفری اور کھلاڑیوں کے درمیان زبان کی رکاوٹ ختم کی جا سکے اور مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔
عظیم قائد کو خراجِ عقیدت
انتونیو راتین کی وفات پر ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے سوئٹزرلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں سیاہ پٹیاں باندھ کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
🇦🇷 Argentina 3-1 Switzerland 🇨🇭
— beIN SPORTS (@beINSPORTS_EN) July 12, 2026
Highlights ⤵️#FIFAWorldCup pic.twitter.com/8PCFQSE5jY
راتین کے انتقال کے ساتھ ہی ارجنٹائن فٹبال ایک ایسے عظیم قائد سے محروم ہوگئی جس نے نہ صرف بوکا جونیئرز اور قومی ٹیم کے لیے شاندار خدمات انجام دیں بلکہ اپنی شخصیت اور ایک تاریخی واقعے کے ذریعے عالمی فٹبال کے قوانین پر بھی دیرپا اثر چھوڑا۔
’راتا‘ کا نام ہمیشہ فٹبال شائقین کے دلوں میں زندہ رہے گا، صرف ایک عظیم کپتان کے طور پر نہیں بلکہ اس شخصیت کے طور پر بھی جس کی کہانی نے ورلڈ کپ کی تاریخ کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔