امریکہ نے جنوبی ایران میں میزائل، فضائی دفاعی نظام اور پاسدارانِ انقلاب کے بحری ٹھکانوں پر تازہ حملے کیے، جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھیں۔
آبنائے ہرمز کے اطراف شدید دھماکوں، قشم جزیرے پر میزائل حملوں اور خلیج میں بڑھتی کشیدگی نے خطے کو ایک بار پھر وسیع جنگ کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری کشیدگی اتوار کے روز ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی، جب جنوبی ایران میں متعدد شدید دھماکے اس وقت سنے گئے، جب امریکی افواج نے ایرانی میزائل نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور آبنائے ہرمز کے اطراف پاسدارانِ انقلاب کی بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
امریکی خبر رساں ویب سائٹ Axios نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے گرد دو مختلف مقامات پر پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جو بین الاقوامی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق بندر عباس کے مشرقی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم کے ساحلی علاقے میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی کہ جزیرہ قشم پر 10 سے 11 میزائل یا دیگر گولہ بارود گرے۔
جزیرہ قشم کے گورنر حسین امیر تیموری نے بتایا کہ تمام حملے فوجی
اہداف پر کیے گئے اور کسی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ارنا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’دشمن‘ نے جزیرہ قشم کی جانب میزائل داغے۔
300 سے زائد فوجی اہداف پر حملے
اسی دوران امریکی مرکزی کمان ’CENTCOM‘ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا تیسرا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔
بیان کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران امریکی افواج نے ایران کے اندر 300 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
سینٹکام کے مطابق صرف تیسرے مرحلے میں تقریباً 140 فوجی اہداف کو جنگی طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں سے داغے گئے انتہائی درست ہتھیاروں کے ذریعے تباہ کیا گیا۔
ان اہداف میں میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس، بحری تنصیبات، اسلحہ گودام، فوجی ذخائر، مواصلاتی نیٹ ورک اور ایرانی ساحلوں پر نگرانی کے مراکز شامل تھے۔
امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے جنہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
خلیج میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان اتوار کو شدید میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ ہوا۔
ایران نے خلیج کے مختلف ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے اپنے فیصلے کا اعادہ کیا۔
کشیدگی کا دائرہ خلیجی ممالک تک بھی پھیل گیا۔
متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا، جبکہ قطر، جو جنگ بندی مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، بھی حملوں کی زد میں آ گیا، حالانکہ اپریل کے بعد پہلی بار اسے براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔
عارضی معاہدہ خطرے میں
تازہ فوجی تصادم نے امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے عارضی معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
اس معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنا اور آئندہ 60 روز کے دوران مزید مذاکرات کے ذریعے جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
تاہم موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں اس معاہدے کے مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہیں، جبکہ خطے میں وسیع جنگ، عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت پر ممکنہ اثرات کے خدشات بھی تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔