براہ راست نشریات

خامنہ ای کے جنازے میں امریکیوں کی شرکت، ٹرمپ کے حامی سیخ پا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
علی خامنہ ای کے جنازے میں غیر ملکی انفلوئنسرز کی شرکت اور امریکی سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل کا منظر
امریکی سماجی کارکن جیکسن ہینکل، خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کر رہے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات محض ایک مقامی ایونٹ تک محدود نہیں تھیں۔

مزید پڑھیں

خامنہ ای کی تدفین کی 6 روزہ تقریبات میں غیر ملکی بلاگرز اور انفلوئنسرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں کچھ امریکی شہری بھی شامل تھے جنہوں نے تہران پہنچ کر ایران سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

غیر ملکی انفلوئنسرز کی شرکت

برطانوی اخبار ’ٹائمز‘ کے مطابق ایرانی آرگنائزیشن فار کلچرل اینڈ اسلامک ریلیشنز کے سربراہ محمد مہدی ایمانی پور نے بتایا کہ تقریباً 400 غیر 

ملکی بلاگرز اور انفلوئنسرز نے خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کی۔ 

ان شرکا میں ایسی امریکی شخصیات بھی شامل تھیں جن کے سوشل میڈیا پر لاکھوں پیروکار موجود ہیں۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

جیکسن ہینکل اور کمیونسٹ پارٹی کا کردار

ان شرکا میں 26 سالہ امریکی انفلوئنسر جیکسن ہینکل نمایاں تھے اور وہ تہران میں ایک اسٹیج پر امریکہ اور اسرائیل مخالف نعرے لگاتے ہوئے بھی نظر آئے۔

ہینکل ’کمیونسٹ پارٹی آف امریکہ‘ کے شریک بانی ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘  پر رُوس اور ایران کے حق میں بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں۔

خامنہ ای کا جنازہ اور امریکی سیاست میں ہلچل

امریکی انفلوئنسرز کی تہران آمد پر ٹرمپ کے حامی شدید برہم

400

غیر ملکی بلاگرز اور انفلوئنسرز کی شرکت

06

روز تک جاری رہنے والی تعزیتی تقریبات

01

جیکسن ہینکل سمیت کئی امریکی شخصیات نے تہران میں شرکت کی۔

02

امریکی قدامت پسندوں نے اس اقدام کو غداری قرار دے دیا۔

03

واپسی پر ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ تیز۔

کرسٹوفر ہیلالی کا مؤقف

ریاست ورمونٹ کے منتخب عہدیدار کرسٹوفر ہیلالی نے سی این این کو بتایا کہ ان کا یہاں موجود ہونا ضروری تھا۔

ہیلالی، جو خود کو امریکی سامراج کے خلاف مزاحمت کا حامی قرار دیتے ہیں، نے خامنہ ای کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو بیرونی مداخلت کے خلاف اپنے ملک کا دفاع کر رہے تھے۔

علی خامنہ ای کے جنازے میں غیر ملکی انفلوئنسرز کی شرکت اور امریکی سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل کا منظر
امریکی کارکن کرسٹوفر ہیلالی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے آفیشل ہینڈل سے پوسٹ کی (فوٹو: الجزیرہ)

کالا والش اور میکس بلومینتھل

امریکی کارکن کالا والش نے تہران میں حجاب پہنے ایک انٹرویو میں خامنہ ای کو دنیا کا عظیم ترین سامراجی دشمن رہنما قرار دیا۔

صحافی اور ’دی گرے زون‘ ویب سائٹ کے بانی میکس بلومینتھل نے بھی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی اور اس جنازے کو تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا۔

ہم سے جڑے رہیں

بیانیے کی جنگ اور بین الاقوامی ردعمل

خامنہ ای کے جنازے میں دنیا بھر سے اہم افراد کی شرکت محض ایک جنازے تک محدود نہیں تھی بلکہ اسے ایران کے خلاف جاری بیانیے کی جنگ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

ایران نے اسے اپنی داخلی وحدت دکھانے کے لیے استعمال کیا ہے ، جبکہ مغربی میڈیا نے اسے حکومتی پروپیگنڈے اور میڈیا پر عائد پابندیوں کے تناظر میں دیکھا ہے۔

علی خامنہ ای کے جنازے میں غیر ملکی انفلوئنسرز کی شرکت اور امریکی سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل کا منظر
امریکی سماجی کارکن کالا والش حالیہ برسوں کے دوران ایران کے حق میں اور امریکی پالیسیوں کے خلاف پیش پیش رہی ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

امریکا میں غم و غصہ

امریکیوں کی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت نے واشنگٹن میں خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

سابق حکومتی معاون سباستیان گورکا جیسے افراد نے اسے غداری قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وطن واپسی پر ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔

مبصرین کے مطابق خامنہ ای کی آخری رسومات میں ان افراد کی شرکت نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف یہ تقریب ایران کے لیے سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر سامنے آئی تو دوسری جانب یہ مغرب میں سیاسی اور نظریاتی تقسیم کا باعث بھی بنی ہے۔