سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات محض ایک مقامی ایونٹ تک محدود نہیں تھیں۔
مزید پڑھیں
خامنہ ای کی تدفین کی 6 روزہ تقریبات میں غیر ملکی بلاگرز اور انفلوئنسرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں کچھ امریکی شہری بھی شامل تھے جنہوں نے تہران پہنچ کر ایران سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
غیر ملکی انفلوئنسرز کی شرکت
برطانوی اخبار ’ٹائمز‘ کے مطابق ایرانی آرگنائزیشن فار کلچرل اینڈ اسلامک ریلیشنز کے سربراہ محمد مہدی ایمانی پور نے بتایا کہ تقریباً 400 غیر
ملکی بلاگرز اور انفلوئنسرز نے خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کی۔
ان شرکا میں ایسی امریکی شخصیات بھی شامل تھیں جن کے سوشل میڈیا پر لاکھوں پیروکار موجود ہیں۔
❤️🇮🇷 DOWN WITH ZIONISTS - live from Enghelab Square in Tehran, Iran pic.twitter.com/qf10xrGj0R
— Jackson Hinkle 🇺🇸 (@jacksonhinkle) July 7, 2026
جیکسن ہینکل اور کمیونسٹ پارٹی کا کردار
ان شرکا میں 26 سالہ امریکی انفلوئنسر جیکسن ہینکل نمایاں تھے اور وہ تہران میں ایک اسٹیج پر امریکہ اور اسرائیل مخالف نعرے لگاتے ہوئے بھی نظر آئے۔
ہینکل ’کمیونسٹ پارٹی آف امریکہ‘ کے شریک بانی ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر رُوس اور ایران کے حق میں بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں۔
خامنہ ای کا جنازہ اور امریکی سیاست میں ہلچل
امریکی انفلوئنسرز کی تہران آمد پر ٹرمپ کے حامی شدید برہم
غیر ملکی بلاگرز اور انفلوئنسرز کی شرکت
روز تک جاری رہنے والی تعزیتی تقریبات
جیکسن ہینکل سمیت کئی امریکی شخصیات نے تہران میں شرکت کی۔
امریکی قدامت پسندوں نے اس اقدام کو غداری قرار دے دیا۔
واپسی پر ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ تیز۔
کرسٹوفر ہیلالی کا مؤقف
ریاست ورمونٹ کے منتخب عہدیدار کرسٹوفر ہیلالی نے سی این این کو بتایا کہ ان کا یہاں موجود ہونا ضروری تھا۔
ہیلالی، جو خود کو امریکی سامراج کے خلاف مزاحمت کا حامی قرار دیتے ہیں، نے خامنہ ای کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو بیرونی مداخلت کے خلاف اپنے ملک کا دفاع کر رہے تھے۔
کالا والش اور میکس بلومینتھل
امریکی کارکن کالا والش نے تہران میں حجاب پہنے ایک انٹرویو میں خامنہ ای کو دنیا کا عظیم ترین سامراجی دشمن رہنما قرار دیا۔
صحافی اور ’دی گرے زون‘ ویب سائٹ کے بانی میکس بلومینتھل نے بھی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی اور اس جنازے کو تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا۔
بیانیے کی جنگ اور بین الاقوامی ردعمل
خامنہ ای کے جنازے میں دنیا بھر سے اہم افراد کی شرکت محض ایک جنازے تک محدود نہیں تھی بلکہ اسے ایران کے خلاف جاری بیانیے کی جنگ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
ایران نے اسے اپنی داخلی وحدت دکھانے کے لیے استعمال کیا ہے ، جبکہ مغربی میڈیا نے اسے حکومتی پروپیگنڈے اور میڈیا پر عائد پابندیوں کے تناظر میں دیکھا ہے۔
امریکا میں غم و غصہ
امریکیوں کی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت نے واشنگٹن میں خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
سابق حکومتی معاون سباستیان گورکا جیسے افراد نے اسے غداری قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وطن واپسی پر ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔
مبصرین کے مطابق خامنہ ای کی آخری رسومات میں ان افراد کی شرکت نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف یہ تقریب ایران کے لیے سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر سامنے آئی تو دوسری جانب یہ مغرب میں سیاسی اور نظریاتی تقسیم کا باعث بھی بنی ہے۔