براہ راست نشریات

لیونل میسی: فٹبال کی دنیا کا طلسماتی ستارہ اب اختتام کے قریب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
لیونل میسی اپنے فٹبال کیریئر کے آخری پڑاؤ پر اور میدان میں ان کے یادگار لمحات
ارجنٹائن کے عوام نے میسی میں ہمیشہ اپنے قومی ہیرو ڈیاگو میراڈونا کا عکس تلاش کیا (فوٹو: اے آئی)

فٹ بال کی تاریخ میں لیونل میسی کا نام ایک ایسے جادوگر کے طور پر ابھرا، جس نے کھیل کے میدانوں کو اپنے فن سے سحر زدہ کیے رکھا۔

مزید پڑھیں

اب یہ جادوگر اپنے کیریئر کے آخری پڑاؤ پر ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا ایک عظیم کھلاڑی کی پہچان صرف اس کی مہارت ہے یا وہ خاموش زندگی جو ہمیشہ کیمروں کی چکاچوند سے دُور رہی؟

روزاریو سے شہرت کے آسمان تک

میسی کا سفر روزاریو (ارجنٹائن) سے شروع ہوا۔ 4 سال کی عمر میں فٹبال سے لگاؤ، 10 سال کی عمر میں ہارمونز کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

علاج مہنگا تھا، مگر بارسلونا کلب نے یہ ذمہ داری اٹھائی۔ یہاں سے شروع ہونے والا سفر ایک ایسی داستان بن گیا جس نے دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کے خوابوں کو عملی تعبیر دی۔

ورلڈ کپ کی تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں

میراڈونا کا سایہ اور میسی کی جدوجہد

ارجنٹائن کے عوام نے میسی میں ہمیشہ اپنے قومی ہیرو ڈیاگو میراڈونا کا عکس تلاش کیا اور یہ موازنہ لیونل میسی کے لیے ایک بوجھ بن گیا تھا۔

میراڈونا جہاں اپنی جذباتی اور ہنگامہ خیز شخصیت کے لیے جانے جاتے تھے، وہیں میسی نے ہمیشہ میدان کے اندر اپنی کارکردگی اور میدان سے باہر ایک خاموش، گھریلو زندگی کو ترجیح دی۔ 

اس دباؤ کے باوجود انہوں نے 2022ء کے ورلڈکپ میں فتح حاصل کر کے اپنا حق ادا کر دیا۔

لیونل میسی اپنے فٹبال کیریئر کے آخری پڑاؤ پر اور میدان میں ان کے یادگار لمحات
لیونل میسی 2004 میں بارسلونا کے ریئل ٹینس کلب میں (فوٹو: الجزیرہ)

لیونل میسی اور پروفیشنلزم کا نیا دور

میسی کی شخصیت ایک ایسے پروفیشنل کی ہے جو اپنی برانڈ ویلیو اور ساکھ کو برقرار رکھنے میں ماہر ہے۔

ان کے کیریئر میں بارسلونا سے لے کر انٹر میامی تک کا سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ایک عالمی  سوشل انفلوئنسر ہیں۔ 

ان کی کاروباری وابستگیاں اور معاہدے یہ بتاتے ہیں کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کو بخوبی سمجھتے ہیں جہاں ایک کھلاڑی کی تصویر ہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

ہم سے جڑے رہیں

سیاست، کھیل اور خاموشی

ناقدین کا کہنا ہے کہ میسی نے اپنی خاموشی کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔

خواہ اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ اشتہاری معاہدے ہوں یا امریکی وائٹ ہاؤس میں حکومتی تقریبات میں شرکت، میسی نے ہمیشہ کسی بھی سیاسی بحث سے دُوری ہی اختیار کیے رکھی۔

کچھ ناقدین اسے غیر جانبدارانہ رویہ کہتے ہیں تو کچھ اسے  اثر و رسوخ کی بے مقصدیت کا نام بھی دیتے ہیں۔ ان کا یہ خاموش رویہ اکثر ان کے مداحوں کے لیے الجھن کا باعث بھی بنتا ہے۔

لیونل میسی اپنے فٹبال کیریئر کے آخری پڑاؤ پر اور میدان میں ان کے یادگار لمحات
کرسٹیانو (بائیں) اور لیونل میسی (فوٹو: الجزیرہ)

کیا ایک لیجنڈ بھلا دیا جائے گا؟

اب جب میسی کے کھیل کا جادو بتدریج کم ہو رہا ہے، تو دنیا یہ سوچے گی کہ اس سے آگے کیا ہوگا؟

کیا وہ صرف ایک کمرشل آئیکون کے طور پر یاد رکھے جائیں گے، یا ان کی کارکردگی کا وہ تسلسل ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس نے 20 سال تک فٹبال کو ایک نئی جہت دی؟

مبصرین کا کہنا ہے کہ لیونل میسی کی کہانی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ایک کھلاڑی کا عروج اور زوال صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں ہوتا۔ 

میراڈونا اپنے متنازع فیصلوں اور عوامی جذبات کے ساتھ زندہ ہیں، جبکہ میسی ایک بالکل مختلف اور منفرد کھلاڑی کے طور پر تاریخ میں اپنی جگہ بنائیں گے۔

مستقبل میں وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ میسی کی یہ خاموشی وقت کی گرد میں کہیں گم ہو جائے گی یا آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بنے گی۔