ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔
تہران کے اس فیصلے نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے، جبکہ امریکا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ بدستور آزاد جہاز رانی کے لیے کھلی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باضابطہ طور پر یقین دہانی کرائے کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور تمام بحری راستے کھلے رکھے جائیں گے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو وہ اپنی سابقہ یقین دہانیوں پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
ایران نے اتوار کو آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان اس وقت کیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔
تہران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جسے اس نے امریکی فضائی کارروائیوں کا جواب قرار دیا۔
ان امریکی حملوں سے قبل آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملہ ہوا تھا۔
ایران نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نے دو ایسے جہازوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے اس کی جاری کردہ بحری ہدایات کی خلاف ورزی کی یا غیر مجاز راستے استعمال کیے۔
تہران نے واضح کیا کہ فی الحال آبنائے ہرمز سے گزرنا ممکن نہیں۔