براہ راست نشریات

ایران: کوئی بھی جہاز پیشگی اجازت کے بغیر ہرمز سے نہیں گزرے گا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔
تہران کے اس فیصلے نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے، جبکہ امریکا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ بدستور آزاد جہاز رانی کے لیے کھلی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ امریکی افواج نے گزشتہ رات ایران میں انتہائی سخت حملے کیے، جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ 

دوسری جانب واشنگٹن کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی ہے، جبکہ تہران اپنے اعلان پر قائم ہے کہ یہ آبی گزرگاہ بند ہے اور اس میں آمدورفت نئے ضوابط کے تحت ہی ممکن ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی نیٹ ورک NBC کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول کے مطابق جاری ہے، حالانکہ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

مزید پڑھیں

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک ہفتے کے روز ایک معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے، مگر اچانک صورتحال بدل گئی۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ تقریباً ہر چیز ماننے کے لیے تیار تھے، لیکن صرف دو گھنٹے بعد انہوں نے جہازوں پر حملہ کر دیا جس کا حوالہ CNN نے بھی دیا ہے۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے واضح کیا کہ اس کی افواج خطے 

میں مکمل طور پر تعینات اور تیار ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھی جا سکے۔ سینٹکام نے زور دے کر کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کوئی کنٹرول حاصل نہیں اور تجارتی جہاز معمول کے مطابق گزر رہے ہیں۔

ایران امریکہ جنگ

اس کے برعکس ایران نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اب کوئی بھی جہاز پیشگی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکے گا۔ 

تہران کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگی صورتحال کے بعد پرانے بحری انتظامات ختم ہو چکے ہیں۔

ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ سلطنت عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران اپنی خودمختاری سے دستبردار ہو رہا ہے۔ 

ان کے بقول ’آبنائے ہرمز کی صورتحال اب پہلے جیسی نہیں رہے گی، چاہے عمان تعاون کرے یا نہ کرے‘۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران اور عمان نے مسقط میں ہونے والے مذاکرات کا ایک دور مکمل کیا، جس میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل اور اس کے تحفظ کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

ہم سے جڑے رہیں

اطلاعات کے مطابق عمان ایک ایسا منصوبہ تیار کر رہا ہے جس کے تحت بحری آمدورفت کو دو الگ راستوں کے ذریعے منظم کیا جائے گا۔

ایران نے پیشگی
اجازت کے بغیر
کسی بھی جہاز کے
آبنائے ہرمز سے
گزرنے پر پابندی
عائد کر دی

دوسری جانب امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باضابطہ طور پر یقین دہانی کرائے کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور تمام بحری راستے کھلے رکھے جائیں گے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو وہ اپنی سابقہ یقین دہانیوں پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
ایران نے اتوار کو آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان اس وقت کیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔
تہران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جسے اس نے امریکی فضائی کارروائیوں کا جواب قرار دیا۔
ان امریکی حملوں سے قبل آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملہ ہوا تھا۔
ایران نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نے دو ایسے جہازوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے اس کی جاری کردہ بحری ہدایات کی خلاف ورزی کی یا غیر مجاز راستے استعمال کیے۔
تہران نے واضح کیا کہ فی الحال آبنائے ہرمز سے گزرنا ممکن نہیں۔

اس کے جواب میں سینٹکام نے ایک مرتبہ پھر اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی قوانین کے مطابق سفر کرنے والے تمام جہازوں کے لیے کھلی ہے اور امریکی افواج بحری آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گی۔

کشیدگی کا دائرہ خلیجی ممالک تک بھی پھیل گیا، جہاں ایران نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن اور سلطنت عمان میں موجود امریکی اہداف کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ 

آبنائے ہرمز بند

متحدہ عرب امارات نے بھی کئی ایرانی میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ قطر، جو جنگ بندی مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، براہِ راست خطرات کی زد میں آ گیا۔

ادھر ایران کے جنوبی علاقوں میں بھی صورتحال کشیدہ رہی۔ 

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ان کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔ ایرانی میڈیا نے امریکی حملوں میں بحریہ کے ایک اہلکار کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔

 

تازہ ترین فوجی تصادم نے گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو بھی شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور آئندہ 60 روز کے دوران مزید مذاکرات کا آغاز تھا۔ 

چند روز قبل صدر ٹرمپ پہلے ہی جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کر چکے ہیں۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

سفارتی محاذ پر پاکستان نے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ 

پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تنازعات کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور اسلام آباد خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

US Iran Conflict

دنیا کی نظریں اب آبنائے ہرمز پر مرکوز ہیں، جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً ایک پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ 

ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر موجودہ فوجی کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری تجارت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

📚 اس خبر کے ذرائع 9 معتبر ذرائع