سعودی عرب کے شمال مغربی ریجن تبوک کے ساحلی شہر املج میں سمر شہد (شہد کی قسم کا نام) کی پیداوار اور چھٹائی ’فرزنگ‘ کے سیزن کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
قدرتی نباتات، وسیع میدانوں اور سرسبز وادیوں سے مالا مال املج کو مملکت کے ان اہم علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں اعلیٰ معیار کا قدرتی سمر شہد پیدا کیا جاتا ہے۔
رواں سیزن میں اب تک سمر کے شہد کی مجموعی پیداوار 5 ٹن سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ مختلف شہد فارموں پر پیداوار اور فرزنگ کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
مزید پڑھیں
املج اپنی جغرافیائی خصوصیات، معتدل موسمی حالات اور سمر کے درختوں کی کثرت کے باعث شہد کی مکھیوں کی افزائش کے لیے نہایت موزوں علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں پیدا ہونے والا سمر کا شہد منفرد ذائقے، گاڑھی ساخت، قدرتی خوشبو اور غذائی خصوصیات کی وجہ سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ خلیجی ممالک میں بھی مقبولیت رکھتا ہے۔
تبوک ریجن میں وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے جنرل ڈائریکٹر انجینئر امجد بن عبداللہ ثلاب نے بتایا کہ خطہ تبوک قدرتی وسائل، نباتاتی تنوع اور سازگار ماحول کی بدولت شہد کی مکھی پالنے کے شعبے میں نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارت اس شعبے کو قومی زرعی معیشت کا اہم حصہ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وزارت پائیدار دیہی ترقی کے مختلف منصوبوں، بالخصوص ’ریف‘ پروگرام کے ذریعے شہد کی مکھی پالنے والوں کو مالی، فنی اور تربیتی معاونت فراہم کر رہی ہے۔
ان پروگراموں کا مقصد شہد کی پیداوار میں اضافہ، جدید طریقۂ کار کو فروغ دینا، معیار کو عالمی سطح تک پہنچانا اور دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
انجینئر امجد بن عبداللہ ثلاب کے مطابق املج میں شہد کی مکھی پالنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف پیداوار میں نمایاں بہتری آئی ہے بلکہ مقامی شہد کی مارکیٹ ویلیو بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید شہد فارم، بہتر انتظامی طریقۂ کار اور حکومتی معاونت اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سمر کا شہد قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس، معدنیات اور غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے توانائی بخش قدرتی غذا سمجھا جاتا ہے اور روایتی طور پر صحت کے لیے مفید تصور کیا جاتا ہے، جس کے باعث مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں اس کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔
املج میں سمر کے شہد کی پیداوار نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ زرعی سیاحت اور دیہی ترقی کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔
حکومتی اداروں کی سرپرستی اور نحالوں کی محنت کے باعث توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ برسوں میں تبوک ریجن سعودی عرب میں قدرتی شہد کی پیداوار کا مزید اہم مرکز بن کر ابھرے گا۔
سمر کا شہد آج املج کی شناخت بن چکا ہے، اور اس کی اعلیٰ کوالٹی، خالص پن اور غذائی افادیت نے اسے مملکت کے ممتاز زرعی اور قدرتی مصنوعات میں شامل کر دیا ہے، جس سے مقامی نحالوں کو معاشی استحکام حاصل ہو رہا ہے اور سعودی زرعی شعبے کو بھی نئی قوت مل رہی ہے۔