براہ راست نشریات

سعودی منڈیوں میں کھجوروں کی قیمتیں گر گئیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Saudi Rutab Prices

ریاض کی منڈیوں میں رطب ’تازہ کھجور‘ کے موسم کے آغاز پر قیمتیں 80 ریال تک پہنچ گئی تھیں، تاہم پیداوار بڑھنے کے ساتھ ہی قیمتیں 4 سے 10 ریال تک گر گئیں۔
ماہرین کے مطابق وادی الدواسر، مدینہ، الخرج اور قصیم سے مسلسل سپلائی نے منڈی کو متوازن کر دیا ہے، جبکہ صقعی، مجدول اور سکری مفتول بدستور مہنگی ترین اقسام میں شامل ہیں۔

سعودی عرب میں رطب ’تازہ گیلی کھجور‘ کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی تقریباً 3 ہفتے قبل ریاض کی منڈیوں میں قیمتیں غیر معمولی طور پر بلند تھیں، کیونکہ ابتدائی دنوں میں رسد محدود جبکہ طلب بہت زیادہ تھی۔ 

بعض اقسام کی تازہ کھجور کی قیمت 80 ریال فی کلوگرام تک پہنچ گئی، تاہم مختلف علاقوں سے پیداوار آنے کے ساتھ ہی منڈیوں میں سپلائی میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں قیمتیں مسلسل کم ہوتی گئیں اور اب مختلف اقسام کی قیمتیں معیار اور قسم کے لحاظ سے 4 سے 10 ریال فی کلوگرام کے درمیان آ گئی ہیں۔

مزید پڑھیں

کھجوروں کے معروف مارکیٹر عبداللہ عبدالرحمن الدباغ نے اخبار24 سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کھجوروں کا مارکیٹر کسان اور خریدار کے درمیان ایک اہم رابطہ ہوتا ہے۔ 

وہ کاشتکاروں سے پیداوار وصول کرتا ہے، اسے درجہ بندی ’گریڈنگ‘ کے بعد مارکیٹ میں پیش کرتا ہے اور روزانہ ہونے والی نیلامی کے ذریعے خریداروں تک پہنچاتا ہے، جہاں قیمتوں کا تعین 

رسد، طلب اور کھجور کے معیار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

ChatGPT Image 10 يوليو 2026، 12 56 31 م

انہوں نے بتایا کہ ریاض کی منڈیوں میں سب سے پہلے وادی الدواسر کی تازہ کھجور پہنچتی ہے، کیونکہ اس علاقے میں پھل نسبتاً جلد پک جاتا ہے۔ 

اس کے تقریباً ایک ہفتے سے 10 دن بعد مدینہ منورہ کی کھجور آتی ہے، پھر الخرج کی پیداوار مارکیٹ میں پہنچتی ہے، جبکہ قصیم کی کھجور موسم کے آخری مرحلے میں ریاض کی منڈیوں کا رخ کرتی ہے۔ 

اس کے بعد خشک ہونے والی اقسام، جیسے صقعی وغیرہ، مارکیٹ میں آنا شروع ہوتی ہیں، جبکہ برحی موسم کی آخری آنے والی اقسام میں شمار ہوتی ہے۔

ChatGPT Image 10 يوليو 2026، 12 51 27 م

عبداللہ الدباغ کے مطابق موسم کے آغاز میں قیمتوں کا زیادہ ہونا ہر سال ایک معمول کی بات ہے، کیونکہ ابتدائی دنوں میں مارکیٹ میں مقدار کم ہوتی ہے۔ 

تاہم جیسے جیسے مختلف علاقوں کی پیداوار منڈیوں میں پہنچتی ہے، رسد بڑھتی ہے اور قیمتیں خود بخود نیچے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ موسم کے آغاز میں ایک صندوق کی قیمت تقریباً 80 ریال تھی، لیکن اب زیادہ مقدار آنے کے بعد یہی قیمت کم ہو کر 4 سے 10 ریال فی صندوق تک پہنچ گئی ہے، جس کا انحصار قسم، معیار اور سائز پر ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف اقسام کی قیمتوں میں فرق پیداوار کی مقدار، دستیابی، معیار اور صارفین کی طلب پر منحصر ہوتا ہے۔ 

ChatGPT Image 10 يوليو 2026، 12 56 16 م

ان کے مطابق خشک رطب کی اقسام، جیسے صقعی، مجدول اور سکری مفتول، مارکیٹ میں سب سے مہنگی سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ ان کی پیداوار محدود ہوتی ہے جبکہ ان کی مانگ بہت زیادہ رہتی ہے۔ 

گزشتہ سیزن میں ان اقسام کے 4 کلوگرام کے ایک صندوق کی قیمت 550 ریال سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔

الدباغ نے بتایا کہ یہ اعلیٰ معیار کی اقسام عموماً اگست کے وسط یا آخر میں مارکیٹ میں آتی ہیں، اسی وجہ سے ان کی قیمتیں دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ برقرار رہتی ہیں۔ 

محدود پیداوار اور زیادہ طلب کے باعث صارفین انہیں نہ صرف اپنی استعمال کے لیے خریدتے ہیں بلکہ تحفے کے طور پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔

ChatGPT Image 10 يوليو 2026، 12 56 04 م

ہر سال سعودی عرب میں رطب کا موسم تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ لے کر آتا ہے۔ 

ملک کے مختلف علاقوں سے بڑی مقدار میں تازہ کھجور منڈیوں میں پہنچتی ہے، کاشتکار اعلیٰ معیار کی پیداوار پیش کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں، جبکہ صارفین موسم کے عروج پر وافر سپلائی کے باعث نسبتاً کم قیمتوں پر معیاری رطب خریدنے سے مستفید ہوتے ہیں۔

سعودی خبریں، لیبر، اقامہ اور بزنس قوانین کی مزید خبروں کے لیے کلک کریں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے