ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا تنازع اُس وقت سامنے آیا جب ایپل نے سان خوسے(کیلیفورنیا) کی فیڈرل کورٹ میں اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔
مزید پڑھیں
ایپل کا الزام ہے کہ اوپن اے آئی نے اس کے سابق ملازمین کو بھرتی کر کے انتہائی خفیہ معلومات حاصل کی ہیں۔
تنازع کی نوعیت اور پس منظر
ایپل کے مطابق اوپن اے آئی نے ایک منظم حکمت عملی کے تحت اس کے اہم ملازمین کو اپنے ساتھ ملایا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں
کمپنیوں نے 2024 میں چیٹ جی پی ٹی کو ایپل کی مصنوعات میں ضم کرنے کے لیے اشتراک کیا تھا۔
مبینہ طور پر ملوث سابق افسران
مقدمے میں ایپل کے 2 سابق ایگزیکٹوز تانگ تان اور جونی آیو کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایپل کا دعویٰ ہے کہ تانگ تان 2024 میں کمپنی چھوڑتے وقت اندرونی دستاویزات اپنے ساتھ لے گئے تھے، جبکہ وہ اب بھی ایپل کے موجودہ ملازمین سے خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل سیکیورٹی کی خلاف ورزی
ایپل نے چانگ لیو نامی ایک اور سابق ملازم پر بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ لیو نے 2026 میں کمپنی چھوڑنے کے باوجود ایپل کے آلات اپنے پاس رکھے اور کمپنی کے نیٹ ورک تک غیر قانونی رسائی حاصل کیے رکھی۔
ایپل کا اوپن اے آئی پر بھاری مقدمہ
سابق ملازمین کے ذریعے خفیہ تجارتی معلومات چوری کرنے کا سنگین الزام
اوپن اے آئی کی حالیہ تجارتی سرمایہ کاری
اوپن اے آئی کا ہارڈویئر ڈیوائسز لانے کا ہدف
ایپل نے تانگ تان اور جونی آیو سمیت سابق افسران کو نامزد کیا۔
سابق ملازمین پر نیٹ ورک تک غیر قانونی رسائی کا الزام ہے۔
یہ مقدمہ اوپن اے آئی کے متوقع آئی پی او کو متاثر کر سکتا ہے۔
اوپن اے آئی کا ردعمل
اوپن اے آئی نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دیگر کمپنیوں کی خفیہ معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
ترجمان کے مطابق کمپنی ان تمام دعووں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی سے اوپن اے آئی کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
منصوبے اور مستقبل کے اثرات
واضح رہے کہ اوپن اے آئی نے مئی 2025 میں 6.5 ارب ڈالر میں آئی او براڈ کاسٹ کمپنی خریدی تھی اور 2027 تک آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ڈیوائسز لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ایپل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اوپن اے آئی کو خفیہ معلومات استعمال کرنے سے روکا جائے۔
مارکیٹ اور کاروباری مضمرات
ماہرین کے مطابق یہ قانونی جنگ اوپن اے آئی کے لیے ایسے وقت میں دباؤ کا باعث بنی ہے، جب وہ اپنے حصص کے آئی پی او کی تیاری کر رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ کیس مارکیٹ میں اوپن اے آئی کی توسیعی حکمت عملی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔
یہ مقدمہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مابین انسانی وسائل اور ڈیٹا کی سیکیورٹی پر جاری جنگ کا عکاس ہے۔ ایپل کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف خفیہ معلومات کا غیرقانونی استعمال روکا جائے بلکہ ہرجانہ بھی ادا کیا جائے۔
اس کیس کا حتمی فیصلہ مستقبل میں اے آئی ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔