براہ راست نشریات

خلیج میں پھر جنگ بھڑک اٹھی: ایران کے حملے، امریکہ کا جوابی وار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکہ جنگ

خلیج میں جاری کشیدگی نے ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔
ایران نے متعدد خلیجی ممالک اور امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکہ نے ایران کے اندر وسیع فضائی حملے کیے۔
آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی بحران کا مرکز بن چکی ہے اور اسرائیل نے بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے دے دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ کو وسیع علاقائی جنگ کے دہانے پر لے آئی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری عسکری کشیدگی اتوار کے روز ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی جسے حالیہ بحران کا سب سے خطرناک موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ 

تہران نے اپنے فوجی حملوں کا دائرہ قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت تک وسیع کر دیا، جس کے بعد یہ تنازع صرف دو ممالک کے درمیان محدود نہیں رہا بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب امریکی فوج نے ایران کے اندر سینکڑوں فوجی اہداف پر فضائی حملوں کے تیسرے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا، جبکہ خلیجی ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کر دیا اور اسرائیل نے بھی ممکنہ جنگی توسیع کے پیش نظر اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کر دیا۔

مزید پڑھیں

خلیجی ممالک پر بیک وقت حملے

اتوار کی صبح ایران کی جانب سے قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کی سمت بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے گئے، جنہیں ان ممالک کے فضائی دفاعی نظام نے بڑی حد تک راستے ہی میں تباہ کر دیا۔

قطر کی وزارت دفاع کے مطابق مسلح افواج نے ایک میزائل حملہ کامیابی سے ناکام بنایا، جبکہ فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال اور ہر 

ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

قطری وزارت داخلہ نے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ 

اس دوران دوحہ میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جو فضائی دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں، جبکہ حکام مسلسل موبائل فونز کے ذریعے ہنگامی انتباہات جاری کرتے رہے۔

پاکستان ایران امریکہ ثالثی

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بھی تصدیق کی کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سنائی دینے والی آوازیں ایرانی بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں تباہ کیے جانے کی تھیں۔

بحرین نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے تمام معاندانہ اہداف کو کامیابی سے تباہ کر دیا، جس کے بعد خطرہ ختم ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔

ادھر کویت پہلی مرتبہ براہ راست اس بحران کی زد میں آیا، جہاں فوج نے اپنے فضائی حدود میں داخل ہونے والے معاندانہ اہداف کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی، تاہم اہداف کی نوعیت اور نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اردن بھی کشیدگی کی لپیٹ میں

اردن کی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ اتوار کی صبح ایران کے 3 میزائل ملک کی حدود میں گرے، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور صرف معمولی مالی نقصان ریکارڈ کیا گیا۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

اردنی فوج نے واضح کیا کہ انجینئرنگ یونٹس نے فوری طور پر میزائلوں کے ملبے کو محفوظ بنایا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اردن اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو کسی بھی علاقائی جنگ کا میدان نہیں بننے دے گا۔

ایران کا جوابی حملہ سرحدوں سے آگے

ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ امریکہ کے حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں تیسرے مرحلے کی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

ایرانی بیان کے مطابق قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس، سلطنت عمان کی بندرگاہ الدقم میں امریکی بحریہ کی لاجسٹک تنصیبات اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری بیڑے کی معاونت کرنے والے تجارتی جہاز ان کارروائیوں کا ہدف بنے۔

تاہم امریکہ نے فوری طور پر ایران کے ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید نہیں کی، جبکہ امریکی افواج نے خطے میں اپنی دفاعی پوزیشن مزید مضبوط کرنا شروع کر دی۔

امریکہ ایران جنگ

امریکی فضائی کارروائیوں نے قواعد بدل دیے

امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس کے تازہ فضائی حملوں میں میزائل لانچنگ سائٹس، ڈرون مراکز، اسلحہ گودام، مواصلاتی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

واشنگٹن کے مطابق 3 مسلسل فضائی مراحل میں ایران کے اندر 300 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جسے حالیہ برسوں میں ایران کے خلاف امریکہ کی سب سے بڑی عسکری کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اب محدود جوابی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر ایران کی عسکری صلاحیت کو مرحلہ وار کمزور کرنے کی حکمت عملی اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

آبنائے ہرمز... بحران کا مرکز

موجودہ بحران کا سب سے اہم محور آبنائے ہرمز بن چکی ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو غیر معینہ مدت تک بند کرنے کے اعلان کے بعد عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

خلیج جنگ کے دہانے پر

ایران نے حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا، امریکہ کا جوابی وار، اسرائیل بڑی جنگ کی تیاری میں

🚀 خلیجی ممالک پر حملے

ایران کی جانب سے قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کی سمت بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے گئے، جنہیں بیشتر مقامات پر فضائی دفاعی نظام نے راستے ہی میں تباہ کر دیا۔

🛡️ دفاعی الرٹ

قطر، امارات، بحرین اور کویت نے اپنے فضائی دفاعی نظام مکمل فعال کر دیے، شہریوں کو گھروں میں رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی۔

💥 امریکی جوابی وار

امریکی فوج نے تین فضائی مراحل میں ایران کے اندر 300 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، جن میں میزائل سائٹس، ڈرون مراکز اور کمانڈ تنصیبات شامل ہیں۔

🌊 آبنائے ہرمز

ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان نے عالمی بحری تجارت، خام تیل کی ترسیل اور سپلائی چین کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

🇮🇱 اسرائیلی تیاری

اسرائیلی فوج نے ایران کے اندر ممکنہ حملوں کے لیے نئی اہداف فہرست تیار کر لی، جس میں توانائی، بجلی، صنعت اور نقل و حمل کا ڈھانچہ شامل ہے۔

⚠️ مکمل جنگ کا خطرہ

خلیجی ممالک کے براہ راست متاثر ہونے، ایران پر امریکی حملوں اور اسرائیلی تیاریوں نے پورے خطے کو ایک وسیع علاقائی جنگ کے قریب پہنچا دیا ہے۔

مختصر خلاصہ
  • ایران نے قطر، امارات، بحرین اور کویت تک حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا۔
  • خلیجی ممالک نے اپنے دفاعی نظام مکمل فعال کر دیے۔
  • امریکہ نے ایران میں 300 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
  • آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور بحری تجارت کے لیے بحران کا مرکز بن چکی ہے۔
  • اسرائیل نے بڑی جنگ کے امکان کے پیش نظر فوجی تیاری مکمل کر لی ہے۔
🔮 آگے کیا ہوگا؟
  • اگر حملوں کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو خلیجی دفاعی کارروائیاں شدت اختیار کر سکتی ہیں۔
  • آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل، گیس، شپنگ اور انشورنس کی عالمی لاگت بڑھ سکتی ہے۔
  • اسرائیل کی براہ راست شمولیت بحران کو مکمل علاقائی جنگ میں بدل سکتی ہے۔
  • پس پردہ سفارتی رابطے ناکام ہوئے تو عسکری کارروائیاں مرکزی راستہ بن سکتی ہیں۔
  • آنے والے چند دن خطے کے امن، عالمی توانائی اور تجارت کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔
OP Premium Analysis Pro | overseaspost.net

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی بحری راستوں کی آزادی کسی صورت محدود نہیں ہونے دی جائے گی، جبکہ ایران اس گزرگاہ کو اپنی سب سے مؤثر تزویراتی طاقت اور مغربی دباؤ کے خلاف اہم ہتھیار تصور کرتا ہے۔

دنیا بھر میں سمندری راستے سے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اسی لیے وہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر فوری اثر ڈالتی ہے۔

قالیباف کا سخت پیغام

سیاسی محاذ پر ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اعلان کیا کہ یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ یا تو اپنے وعدے پورے کرے یا پھر اس کی قیمت ادا کرے، جس سے یہ اشارہ ملا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود عارضی مفاہمتیں عملی طور پر ختم ہو چکی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ تہران اب سفارتی دباؤ کے بجائے زمینی اور عسکری حقائق کے ذریعے اپنے مؤقف کو منوانا چاہتا ہے۔

آبنائے ہرمز

اسرائیل نے تیاری مکمل کر لی

اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات اب نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج نے ایران کے اندر ممکنہ حملوں کے لیے اہداف کی نئی فہرست تیار کر لی ہے، جس میں تیل و گیس کی تنصیبات، توانائی کا ڈھانچہ، بجلی گھر، صنعتی مراکز اور نقل و حمل کا نظام شامل ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر براہ راست حملہ کیا تو اس کا جواب امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ذریعے بڑے پیمانے پر دیا جائے گا۔

ہم سے جڑے رہیں

کیا خطہ مکمل جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے؟

حالیہ پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ بحران اب محدود جوابی حملوں کے مرحلے سے نکل کر فوجی اڈوں، اہم تنصیبات، تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی بحری راستوں کو براہ راست نشانہ بنانے کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

خلیجی ممالک کے براہ راست متاثر ہونے، ایران کے اندر امریکی فضائی کارروائیوں کے تسلسل اور اسرائیل کی جنگی تیاریوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں کسی بھی غلط اندازے یا محدود کارروائی کے نتیجے میں وسیع علاقائی جنگ بھڑک سکتی ہے۔

اگرچہ پس پردہ سفارتی رابطے اب بھی جاری ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ فی الحال فیصلے مذاکرات کی میز پر نہیں بلکہ میزائلوں، ڈرونز اور فضائی حملوں کے ذریعے ہو رہے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ آنے والے دن اس بحران کی سمت متعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، آیا حالات دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹیں گے یا پورا خطہ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

📚 اس خبر کے ذرائع 10 مستند ذرائع Reutersعالمی خبر رساں ادارہ اصل رپورٹ پڑھیں ↗ Associated Press (AP)بین الاقوامی خبر رساں ادارہ اصل رپورٹ پڑھیں ↗ Axiosامریکی نیوز پلیٹ فارم اصل رپورٹ پڑھیں ↗ Axiosامریکی نیوز پلیٹ فارم اصل رپورٹ پڑھیں ↗ Reutersعالمی خبر رساں ادارہ اصل رپورٹ پڑھیں ↗ Axiosامریکی نیوز پلیٹ فارم اصل رپورٹ پڑھیں ↗ Reutersعالمی خبر رساں ادارہ اصل رپورٹ پڑھیں ↗ The Guardianبرطانوی بین الاقوامی اخبار اصل رپورٹ پڑھیں ↗ Reutersعالمی خبر رساں ادارہ اصل رپورٹ پڑھیں ↗ The Nationalمتحدہ عرب امارات کا بین الاقوامی اخبار اصل رپورٹ پڑھیں ↗
یہ رپورٹ متعدد معتبر بین الاقوامی خبر رساں اداروں، عالمی اخبارات اور نیوز پلیٹ فارمز سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے تاکہ قارئین تک درست، متوازن اور قابلِ اعتماد معلومات پہنچائی جا سکیں۔

BY: overseaspost.net