براہ راست نشریات

786… حقیقت یا فسانہ؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
786 کی شرعی حقیقت

محمد منیر قمر

الخبر

برصغیر میں ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ کی جگہ 786 لکھنے کا رواج صدیوں سے موجود ہے، مگر کیا یہ واقعی بسم اللہ کا شرعی متبادل ہے؟
یہ مضمون علمِ ابجد، تاریخی پس منظر، شرعی دلائل اور اہلِ علم کی آراء کی روشنی میں اس روایت کا متوازن جائزہ پیش کرتا ہے۔

ہر مسلمان جب کسی کام کا آغاز کرتا ہے تو اس کی زبان پر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا مبارک نام آتا ہے۔ 

’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ محض چند الفاظ نہیں بلکہ ایمان، بندگی، رحمت اور برکت کا ایسا حسین اظہار ہے جس سے ہر نیک عمل کی ابتدا کی جاتی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید کی تقریباً ہر سورت کا آغاز انہی مبارک کلمات سے ہوا ہے، اور رسول اللہﷺ نے بھی ہر اہم کام کو اللہ کے نام سے شروع کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔

بدقسمتی سے برصغیر میں ایک ایسا رواج صدیوں سے پروان چڑھ رہا ہے جس نے رفتہ رفتہ ایک مذہبی روایت کی شکل اختیار کر لی ہے۔ 

مزید پڑھیں

یہ رواج ہے ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ کی جگہ صرف 786 لکھ دینے کا۔ 

ابتدا میں یہ انداز نجی خطوط، دعوت ناموں اور تجارتی دستاویزات تک محدود تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دینی مضامین، کتابوں، رسائل اور بعض مذہبی تحریروں میں بھی اصل عبارت کے بجائے صرف 786 لکھا جانے لگا، یہاں تک کہ بہت سے لوگ اسے بسم اللہ کا قائم مقام سمجھنے لگے۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی 786، بسم اللہ الرحمن الرحیم کا متبادل ہے؟ 

کیا قرآن و سنت میں اس کی کوئی اصل موجود ہے؟ 

یا یہ صرف ایک ایسا رواج ہے جو وقت کے ساتھ مذہبی رنگ اختیار کر گیا؟

ہم سے جڑے رہیں

علمِ اعداد یا علمِ ابجد کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ عربی حروف کو مخصوص عددی قدریں دی جائیں۔ 

ہر حرف کا ایک عدد مقرر کیا جاتا ہے، پھر کسی لفظ کے تمام حروف کی عددی قیمت جمع کر کے ایک مجموعی عدد حاصل کیا جاتا ہے۔ 

اسی طریقے سے بعض اہلِ علم نے ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ کی عددی قیمت 786 بیان کی، اور بعد میں یہی عدد عوام میں اس قدر معروف ہو گیا کہ اصل عبارت کی جگہ استعمال ہونے لگا۔

ابجد کی معروف ترتیب کچھ یوں ہے:

  • ابجد: ا=1، ب=2، ج=3، د=4
  • ہوز: ہ=5، و=6، ز=7
  • حطی: ح=8، ط=9، ی=10
  • کلمن: ک=20، ل=30، م=40، ن=50
  • سعفص: س=60، ع=70، ف=80، ص=90
  • قرشت: ق=100، ر=200، ش=300، ت=400
  • ثخذ: ث=500، خ=600، ذ=700
  • ضظغ: ض=800، ظ=900، غ=1000

یہ ایک عددی نظام ضرور ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض کسی مقدس عبارت کی عددی قیمت جان لینے سے وہ عبارت بھی ادا ہو جاتی ہے؟

ChatGPT Image 12 يوليو 2026، 08 20 24 م

قرآن کریم اس سوال کا جواب خود دیتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب کو اعداد یا رموز میں نہیں بلکہ واضح عربی زبان میں نازل فرمایا، تاکہ لوگ اسے پڑھیں، سمجھیں، اس پر غور کریں اور اس کی ہدایت سے اپنی زندگیاں منور کریں۔ 

اگر محض اعداد ہی مقصد ہوتے تو پوری وحی کو اعداد کی صورت میں نازل کرنا زیادہ آسان تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا۔

سوچیے، اگر سورۂ فاتحہ کے تمام الفاظ کو عددی شکل دے کر صرف ایک مجموعی عدد لکھ دیا جائے تو کیا وہ سورۂ فاتحہ کی تلاوت شمار ہوگی؟ 

کیا اس عدد کے اندر وہ دعا، وہ بندگی، وہ عاجزی، وہ ہدایت اور وہ روحانی تاثیر موجود ہوگی جو قرآن کے اصل الفاظ میں ہے؟ یقیناً نہیں۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

الفاظ صرف آوازوں کا مجموعہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ معانی، احساسات، پیغام اور روح رکھتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ قرآن کی اصل عظمت اس کے الفاظ میں ہے، نہ کہ ان کے عددی مجموعوں میں۔

اسی لیے بہت سے اہلِ علم کا مؤقف ہے کہ 786 کو ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ کا قائم مقام سمجھنا درست نہیں۔ 

اگر کوئی شخص محض سہولت یا علامت کے طور پر اسے لکھتا ہے تو یہ الگ بحث ہو سکتی ہے، لیکن اصل عبارت کو چھوڑ کر صرف عدد پر اکتفا کرنا شرعی اعتبار سے درست نہیں سمجھا گیا۔

تاریخی اعتبار سے بھی علمِ اعداد مختلف تہذیبوں، فلسفیانہ مکاتب اور باطنی رجحانات میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ 

بعض مسلم مصنفین نے یہ رائے پیش کی ہے کہ بعد کے ادوار میں بعض گروہوں نے اسے خفیہ علامات اور رمزیہ ابلاغ کے لیے بھی استعمال کیا۔ 

تاہم ان تاریخی آراء پر اہلِ تحقیق کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے انہیں قطعی حقیقت کے بجائے ایک علمی رائے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ChatGPT Image 12 يوليو 2026، 08 13 02 م

ایک مسلمان کے لیے سب سے محفوظ اور بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ اپنے ہر کام، ہر تحریر اور ہر آغاز میں مکمل ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ لکھے۔ 

یہی قرآن کا طریقہ ہے، یہی رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے اور یہی امت کا اصل شعار بھی ہے۔

آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ دین کی اصل خوبصورتی اسی میں ہے کہ ہم اس کے الفاظ، اس کی تعلیمات اور اس کی اصل روح کو محفوظ رکھیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے پاکیزہ کلام کے جو مبارک الفاظ عطا فرمائے ہیں، ان کی جگہ کسی عدد یا علامت کو اختیار کرنے کے بجائے انہی الفاظ کو محبت، ادب اور یقین کے ساتھ اپنی زبان اور قلم پر جاری رکھنا ہی زیادہ باعثِ خیر و برکت ہے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄