عارف عزیز
بھوپال
یہ مضمون احترامِ انسانیت کو تمام آسمانی مذاہب کی مشترکہ روح قرار دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اسلام نے انسانی جان، عزت، مال اور آزادی کے تحفظ کو بنیادی حق بنایا ہے۔
موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی نفرت، تعصب اور تشدد کے مقابلے میں انسان دوستی، رحم اور باہمی احترام ہی پائیدار امن کا راستہ ہیں۔
مضمون اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کو سب سے پہلے اپنی انسانیت کو پہچاننا چاہئے۔
انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی انسانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
وہ سادہ اور فطری زندگی بسر کرتے تھے، جہاں باہمی محبت، اعتماد اور خیر خواہی کا ماحول تھا۔
لیکن جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوا، ضروریاتِ زندگی اور معاشی سرگرمیاں پھیلیں، ویسے ویسے اختلافات نے جنم لیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہی اختلافات شدت اختیار کرتے گئے اور افتراق، ظلم، فساد اور نفرت کی صورت میں سامنے آئے۔
مزید پڑھیں
طاقتور کمزوروں پر ظلم کرنے لگے، انسان ایک دوسرے کو شک و شبہے کی نگاہ سے دیکھنے لگا اور انسانیت سسکنے لگی۔
ایسے نازک دور میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے اپنے انبیائے کرامؑ کو مبعوث فرمایا۔
ہر قوم اور ہر علاقے میں رسول بھیجے گئے تاکہ انسان کو عدل، محبت اور خیر خواہی کا راستہ دکھایا جا سکے۔
اس سلسلے کی تکمیل خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی بعثت سے ہوئی، جنہوں نے انسانی مساوات، عزت اور اخوت کا ایسا عالم گیر پیغام دیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
آپﷺ نے خانۂ کعبہ کے سامنے اعلان فرمایا:
اے اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
ایک اور موقع پر آپﷺ نے اپنے صحابۂ کرامؓ سے فرمایا:
جنت میں رحم دل انسان داخل ہوگا۔
صحابہؓ نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ! ہم سب رحم دل ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
رحم دل وہ ہے جو تمام مخلوق پر رحم کرے۔
ایک روایت میں مزید ارشاد فرمایا گیا:
زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
یہی اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت کا عملی تقاضا ہے۔
حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی بھوک، پیاس، بیماری اور دیگر ضروریات کو اپنی طرف منسوب کرکے بندوں کو ایک دوسرے کی خدمت اور مدد کی ترغیب دی ہے۔
اسی طرح ایک حدیث میں بہترین انسان اسے قرار دیا گیا ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر انسان کے درج ذیل بنیادی حقوق کی حفاظت ضروری ہے:
- انسان اور انسانیت کا احترام۔
- انسانی جان کا تحفظ۔
- انسانی مال کی حفاظت۔
- انسانی عزت و آبرو کی حفاظت۔
- مذہب اور رائے کا احترام۔
- ضروریاتِ زندگی کی فراہمی اور کفالت۔
- خواتین کے حقوق اور عزت و ناموس کا تحفظ۔
یہ وہ بنیادی انسانی حقوق ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ اکرمﷺ نے پوری انسانیت کو عطا فرمائے ہیں۔
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے اسلام کے اسی تصورِ انسانیت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
آدمیت احترامِ آدمی
باخبر شو از مقامِ آدمی
یعنی آدمیت دراصل انسان کے احترام کا نام ہے، اس لیے انسان کے حقیقی مقام و مرتبے کو پہچانو۔
یہی پیغام تقریباً ہر مذہب کی روح ہے۔
تمام آسمانی مذاہب نے محبت، رواداری، احترامِ انسانیت اور باہمی خیر خواہی کی تعلیم دی ہے۔ کسی بھی مذہب نے انسانوں کے درمیان نفرت، تعصب اور دشمنی کو فروغ نہیں دیا۔
اسلام میں یہ تعلیم سب سے زیادہ جامع اور واضح انداز میں موجود ہے، لیکن افسوس کہ ہم وقتی جذبات، غصے اور تعصبات کے زیرِ اثر اس عظیم تعلیم کو فراموش کر دیتے ہیں۔
ہم غلطی کا جواب غلطی سے اور دشمنی کا جواب دشمنی سے دینے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرہ مزید تقسیم اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
آج جب دنیا مذہبی، نسلی، لسانی اور سیاسی تعصبات کی آگ میں جل رہی ہے، پہلے سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ انسان، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، زبان، قوم، ملک یا تہذیب سے ہو، سب سے پہلے اپنے انسان ہونے کو پہچانے۔
وہ اس بات کا خیال رکھے کہ اس کے قول، فعل اور رویّے سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔
احترامِ انسانیت ہی امن، محبت اور پائیدار معاشرے کی بنیاد ہے۔
اسی بھولے ہوئے سبق کو یاد دلانے کے لیے علماء، مفتیانِ کرام، مصنفین، دانشور، صحافی اور مصلحین ہر دور میں اپنی ذمہ داری ادا کرتے رہے ہیں، اور آج کے دور میں اس پیغام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
کیونکہ جب تک انسان، انسان کا احترام نہیں کرے گا، دنیا میں حقیقی امن، انصاف اور بھائی چارہ قائم نہیں ہو سکتا۔