صادق رضا مصباحی
ممبئی
مصنف نے اس فکری و اصلاحی مضمون میں اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ قلم کی اصل قوت الفاظ میں نہیں بلکہ لکھنے والے کی نیت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
ان کے مطابق آج کتابوں، خطابات اور دعوتی سرگرمیوں کی کثرت کے باوجود مطلوبہ نتائج اس لیے حاصل نہیں ہو رہے کہ اخلاصِ نیت کمزور پڑ چکا ہے۔
جب نیت خالص ہو تو چند الفاظ بھی انقلاب برپا کر دیتے ہیں، جبکہ بے اخلاص تحریریں محض صفحات بھرنے تک محدود رہ جاتی ہیں۔
لکھنا فن ہے، ایک عظیم فن، ایک مقدس فن، ایک باحرمت فن۔
ایسا فن کہ جس کے بارے میں خود قرآنِ کریم قسم کھاتا ہے:
﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ﴾ (القلم: 1)
اگر اس آیت کی گہرائی میں اتر کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قلم کی حرمت ہر لکھنے والے کا مقدر نہیں ہوتی۔
اس کے لیے پاکیزہ جذبہ اور خالص نیت درکار ہے۔
اگر ہم اپنے قلم اور اپنی تحریر کے ساتھ مخلص نہیں ہیں تو الفاظ، محض الفاظ ہی رہ جاتے ہیں، ان میں معانی پیدا نہیں ہوتے۔
الفاظ میں معانی اسی وقت جنم لیتے ہیں جب لکھنے کا جذبہ مکمل طور پر مثبت ہو اور اس میں منفی کیفیات کا شائبہ تک نہ ہو۔
مزید پڑھیں
یہیں ایک نہایت اہم سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے۔ آج پہلے کی نسبت کہیں زیادہ کتابیں شائع ہو رہی ہیں، تقاریر اور خطابات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے، مذہبی چینل شب و روز مصروفِ عمل ہیں، اصلاحی اجتماعات کی تعداد بڑھ چکی ہے، ہر سال لاکھوں طلبہ مدارس سے فارغ ہو رہے ہیں اور دعوت و تبلیغ کے قافلے تا حدِ نگاہ پھیلے ہوئے ہیں۔ لیکن کیا ان تمام سرگرمیوں کے تناسب سے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں؟
اگر نہیں، تو اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
اس کی سب سے بڑی وجہ نیت کا عدمِ اخلاص ہے، جو نتائج اور عدمِ نتائج کے درمیان ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑا ہے اور منزلوں تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
مصنفین اور محررین کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود معاشرے میں حقیقی تبدیلی اس لیے نہیں آ رہی کہ کہیں نہ کہیں مقاصد میں منفی جذبہ شامل ہو جاتا ہے۔
جب نیت منفی ہو تو راستے خود بخود بند ہونے لگتے ہیں اور منزلیں انسان کی پہنچ سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں۔
بظاہر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم منزل تک پہنچ گئے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ منزل نہیں بلکہ ایک سراب ہوتا ہے اور یہی سراب دراصل خوش فہمی کا دوسرا نام ہے۔
اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہمارے مصنفین اور محررین کی ایک بڑی تعداد خوش فہمیوں میں زندگی گزار رہی ہے اور اپنی انہی فرضی ’فتوحات‘ پر نازاں و فرحاں ہے۔
کہنے کو تو آج لکھنے والوں کی کمی نہیں۔
قطار در قطار مصنفین موجود ہیں، مگر وہ صرف لکھتے ہیں، حقیقت میں ’لکھنا‘ کیا ہوتا ہے، اس سے اکثر ناواقف ہیں۔
ان کے الفاظ معانی سے خالی ہیں، اور جہاں معانی نہ ہوں، تاثیر نہ ہو، وہاں نتائج کی امید رکھنا دیوانے کے خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:
“إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ”
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔
کیا یہ حدیث صرف دینی احکام و مسائل کے لیے ہے؟
ہرگز نہیں۔
یہ حدیث ایک آفاقی اور فطری اصول ہے۔
فطرت دین اور دنیا میں کوئی امتیاز نہیں کرتی، وہ ہر جگہ یکساں طور پر نافذ ہوتی ہے۔
اس لیے اس حدیث کو صرف مذہبی معاملات تک محدود نہ سمجھا جائے بلکہ زندگی کے ہر شعبے کے لیے ایک رہنما اصول کے طور پر اپنایا جائے۔
فطرت سے آج تک کوئی بغاوت نہیں کر سکا۔ جس نے کبھی اس کی مخالفت کی، اس کا انجام نہایت بھیانک ہوا اور وہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن گیا۔
اگر آنکھوں میں بصیرت کا نور اور ذہن میں مشاہدے اور مطالعے کی دولت ہو تو ایسی مثالیں ہر طرف سانس لیتی ہوئی نظر آئیں گی۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی واضح حقیقت کے باوجود انسان فطرت سے بغاوت پر آمادہ کیوں ہو جاتا ہے؟
انسان فطری طور پر جلد باز ہے۔
وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ بلندی حاصل کرنا چاہتا ہے، اور اس مقصد کے لیے ہر مثبت و منفی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ فطرت کے خلاف ایک سنگین جرم کا ارتکاب کر رہا ہے۔
اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہی جرم ایک دن اسے بلندی سے گرا کر پستی کی انتہاؤں میں پہنچا دے گا۔
ظاہری رکھ رکھاؤ، تصنع، بناوٹ، آرائش اور تکلفات سے بھرپور زندگیوں کو دیکھ کر ہماری آنکھیں دھوکہ کھا جاتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ہمارے باطن میں شدید انتشار برپا ہوتا ہے اور ہماری اندرونی دنیا کا پورا جغرافیہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔
اس لیے میرے دوست! نیتوں کا قبلہ درست ہونا ضروری ہے۔
جب تک قبلہ درست نہیں ہوگا، نماز بھی مکمل نہیں ہوگی۔
کبھی غور کیا کہ پہلے لوگ کام تو کم کرتے تھے، مگر ان کے اثرات کہیں زیادہ ہوتے تھے؟
اس راز کا صرف ایک ہی نام ہے: نیت۔
آج ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ کاموں میں برکت نہیں رہی۔ بلکہ اب تو یہ شکوہ عام ہو چکا ہے۔
جنابِ عالی! برکت نہ ہونے کا شکوہ کرنے سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہیے۔ اگر وہ چاک نظر آئے تو سمجھ لیجیے کہ اندر کہیں نہ کہیں خرابی موجود ہے، اور پھر اس کی رفوگری کی فکر کرنی چاہیے۔
ورنہ ہماری تمام کوششیں چھلنی میں پانی بھرنے کے مترادف ہیں۔
یہ سفر ہمیں تھکا دے گا، ہمارے قدم زخمی کر دے گا اور آخرکار ہمیں بڑھاپے کی دیواروں سے لا ٹکرائے گا۔
پھر جب ہم پیچھے مڑ کر اپنی زندگی کے نتائج کا جائزہ لیں گے تو احساس ہوگا کہ اثرات اور کامیابیوں کے نام پر ہمارے ہاتھ کچھ بھی نہ آیا۔
ایسا ایک بھی سکہ نہیں، جو ہمارے دل کو حقیقی سکون دے سکے اور آخرت کے لیے سرمایہ بن سکے۔
اس لیے میرے ہم پیشہ اور ہم منصب دوستو!
آؤ، ہم سب بارگاہِ ربِّ اعلیٰ میں صرف ایک دعا کریں:
بارِ الٰہ! ہمارے الفاظ میں معانی رکھ دے۔