کھیل نے قوم،
نسل، زبان
اور مذہب سے
بالاتر جذباتی
تعلقات پیدا
کیے ہیں
یورپی فٹبال کلبوں کے 59 فیصد کھلاڑی غیر ملکی یا دوسرے ممالک میں پیدا ہونے والے ہیں۔
ایشیائی کلبوں کے 47 فیصد کھلاڑی مقامی ریاست سے باہر کی اصل رکھتے ہیں۔افریقی کلبوں میں 32 فیصد کھلاڑی غیر ملکی ہیں۔
لاطینی امریکہ کے کلبوں میں یہ شرح 25 فیصد ہے۔
موجودہ عالمی کپ میں شریک قومی ٹیموں کے تقریباً 34 فیصد کھلاڑی ایسے ہیں جن کی پیدائش یا اصل کسی دوسرے ملک سے تعلق رکھتی ہے۔
اگر مانچسٹر سٹی جیسے معروف کلب کو دیکھا جائے تو اس کے تقریباً 81.5 فیصد کھلاڑی غیر ملکی ہیں، اور اسی طرح ریال میڈرڈ سمیت کئی بڑے کلب بھی عالمی نوعیت کی کھلاڑیوں کی ساخت رکھتے ہیں۔
گزشتہ سال کے فیفا کلب ورلڈ کپ میں 32 میں سے 14 کلب ایسے تھے جن کے زیادہ تر کھلاڑی غیر ملکی تھے، یعنی تقریباً 44 فیصد ٹیموں میں غیر ملکی اکثریت موجود تھی۔
دوسری جانب عالمگیریت نے کھیلوں کے میدان میں کئی نئی حقیقتوں کو بھی جنم دیا ہے، جن میں:
- ایک عالمی کھیلوں کی منڈی، جہاں ایجنٹس، معاہدے، منتقلیاں، سرمایہ کاری اور اربوں ڈالر کے سودے ہوتے ہیں۔
- کھیلوں کی صلاحیتوں کی بین الاقوامی نقل و حرکت، جہاں کھلاڑی مسلسل ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوتے ہیں اور ان کا تعلق روایتی شناخت کے بجائے پیشہ ورانہ رشتوں سے قائم ہوتا ہے۔
- بڑے کلبوں کے درمیان باصلاحیت کھلاڑیوں کے حصول کے لیے شدید مقابلہ، بالکل اسی طرح جیسے ریاستیں خام مال، منڈیوں یا اعلیٰ افرادی قوت کے لیے مقابلہ کرتی ہیں، جو انسان کو ایک معاشی شے Commodification میں تبدیل کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔
- ایک ہی کلب کے اندر ثقافتی عالمگیریت، جہاں مختلف ممالک، مذاہب، نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی، کوچ، ڈاکٹر، منتظمین اور سرمایہ کار ایک ہی مقصد کے لیے کام کرتے ہیں، جبکہ ان کے مداح دنیا بھر میں موجود ہوتے ہیں۔
- کھیلوں کی صلاحیتوں کو تلاش کرنے اور پروان چڑھانے کے لیے عالمی سطح پر اسکاؤٹنگ نیٹ ورکس کا تیزی سے پھیلاؤ۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ اس حقیقت کو نظرانداز نہ کیا جائے کہ کھیلوں کی عالمگیریت نئی قسم کی میکانکی وفاداریاں بھی پیدا کر رہی ہے۔
بہت سے شائقین اپنے پسندیدہ کلب کے ساتھ اس انداز میں وابستہ ہو جاتے ہیں جیسے وہ ان کی قوم، قبیلہ یا مذہب ہو۔
کلب ایک ’علامتی وطن‘ Symbolic Homeland کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جہاں رنگ، لوگو، جرسیاں اور نعرے قومی پرچموں اور قومی شناخت کی طرح اہمیت حاصل کر لیتے ہیں۔
اسی وجہ سے بعض اوقات اسٹیڈیموں میں ہونے والے ہنگامے ایسی علامتی جنگوں کا روپ دھار لیتے ہیں جو ویسٹ فیلین ریاستی تنازعات کی یاد دلاتی ہیں۔
کئی کھلاڑی اپنے ہی ملک کے کلبوں یا قومی ٹیموں کے خلاف کھیلتے ہیں، گویا وہ روایتی وفاداری کو چھوڑ کر پیشہ ورانہ وابستگی کو اختیار کر رہے ہوں۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ عالمگیریت دوہرا اثر رکھتی ہے۔
ایک طرف وہ نئی عضوی وابستگیاں پیدا کرتی ہے جو سرحدوں سے ماورا ہوتی ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ کلبوں کو ایک نئے ’علامتی وطن‘ میں تبدیل کر کے نئی اجتماعی شناختیں بھی تشکیل دیتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کھیلوں کے میدان میں عالمگیریت نے عضوی اور میکانکی وفاداریوں کے درمیان توازن کو نئے انداز سے ترتیب دیا ہے۔
شاید یہی بات معروف ماہرِ عمرانیات انتھونی گڈنز کے اس خیال کی عکاسی کرتی ہے کہ کھیل ایک ایسا میدان ہے جہاں عضوی اور میکانکی دونوں طرح کی وفاداریاں ایک نئی عالمی فضا میں ایک ساتھ موجود رہتی ہیں۔