انسانی آنکھ صرف اسی چیز کو دیکھ سکتی ہے جو روشنی منعکس کرے یا خود روشنی خارج کرے، لیکن قرآن کریم ایک ایسے لمحے کا ذکر کرتا ہے جب انسان کی بینائی غیر معمولی طور پر تیز ہو جاتی ہے اور اس پر وہ حقائق آشکار ہوتے ہیں جو پوری زندگی اس سے پوشیدہ رہے۔
کیا یہی وہ لمحہ ہے جب عالمِ غیب انسان کے سامنے آ جاتا ہے؟
اس مضمون میں قرآن، حدیث اور جدید سائنسی مشاہدات کی روشنی میں اسی سوال پر غور کیا گیا ہے۔
انسانی آنکھ اشیا کو اس لیے دیکھتی ہے کہ ان سے منعکس ہونے والی یا ان سے خارج ہونے والی روشنی آنکھ تک پہنچتی ہے۔
اسی لیے گھپ اندھیرے میں انسان کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتا۔
اس اصول کی بنا پر جو چیز نہ روشنی منعکس کرتی ہو اور نہ ہی خود روشنی خارج کرتی ہو، وہ انسانی آنکھ کی براہِ راست نظر سے اوجھل رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم فرشتوں اور جنات کو نہیں دیکھ سکتے، جس طرح ہماری مجرد آنکھ نہ انتہائی باریک جراثیم کو دیکھ سکتی ہے اور نہ ہی کائنات کے نہایت دور دراز اجرام کو۔
مزید پڑھیں
لیکن غور و فکر کی دعوت دینے والی بات اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، جس میں موت کے قریب پہنچنے والے غافل انسان کی کیفیت بیان کی گئی ہے:
﴿لَقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ﴾ (سورۂ ق، آیت: 22)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت انسان کی بینائی غیر
معمولی حد تک تیز، طاقتور اور نافذ ہو جاتی ہے۔
یعنی موت کے لمحے انسان کی آنکھ وہ کچھ دیکھنے لگتی ہے جو دنیا میں اس سے پوشیدہ تھا۔
بعض مفسرین کے نزدیک یہ کیفیت انسان کی وفات کے وقت ہی ظاہر ہو جاتی ہے۔ امام ماتریدیؒ نے اپنی تفسیر ’تأویلات اهل السنة‘ میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے وہ پردے ہٹا دیتا ہے جو حقیقت کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتے تھے، اور ’فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی نظر انتہائی تیز، روشن اور حق کو دیکھنے والی ہو جاتی ہے۔
اسی مفہوم کی تائید رسول اللہ ﷺ کے اس صحیح ارشاد سے بھی ہوتی ہے:
’جب روح قبض کی جاتی ہے تو نگاہ اس کے پیچھے چل پڑتی ہے‘۔ (صحیح مسلم)
موت کے وقت انسان کی آنکھوں کا کھلا رہ جانا اور اوپر کی طرف جم جانا شاید اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ کوئی ایسا منظر دیکھ رہی ہوتی ہیں جو دنیا کے عام انسانوں کی نگاہ سے پوشیدہ ہے۔
ایسا منظر جو اسے حیرت اور ہیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
دنیا میں انسان کی بینائی کو ایک محدود دائرے تک رکھنا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔
اگر انسان ہر وقت عالمِ غیب کی مخلوقات کو دیکھتا رہتا تو شاید وہ معمول کی زندگی گزار ہی نہ سکتا۔
اسی لیے وہ ایمان بالغیب کے ذریعے فرشتوں، جنات، شیاطین اور اللہ تعالیٰ کی دیگر پوشیدہ مخلوقات پر یقین رکھتا ہے، اگرچہ انہیں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتا۔
پھر جب پردہ اٹھنے کا وقت آتا ہے تو مومن کے لیے یہ لمحہ اطمینان، سکون اور خوش خبری کا باعث بنتا ہے۔
وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے فرشتوں کو اپنے گرد محسوس کرتا ہے، اور ممکن ہے اسے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے وہ مناظر بھی دکھائے جائیں جنہیں دنیا میں دیکھنا ممکن نہ تھا۔
شاید اسی لیے بعض نیک لوگوں کے چہروں پر وفات کے وقت مسکراہٹ، سکون اور نور کی کیفیت دیکھی جاتی ہے۔
اس کے برعکس، جو شخص دنیا میں عالمِ غیب کا انکار کرتا رہا یا اس میں شک و شبہ کا شکار رہا، اس کے سامنے پردہ اٹھنے کے بعد وہ تمام حقائق آ جاتے ہیں جنہیں وہ جھٹلاتا تھا۔
تب اس کے چہرے پر خوف، پریشانی اور گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہو سکتے ہیں۔
یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے:
کیا پردہ اٹھنے کے بعد ان غیبی حقائق کا مشاہدہ ہی وہ سبب ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے بعض طبی تحقیقات کے مطابق موت سے چند لمحے قبل دماغ کی سرگرمی غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے؟
اس سوال کا حتمی اور قطعی جواب آج تک سائنس کے پاس موجود نہیں۔
البتہ ایک بات ضرور ہے کہ قرآن، سنت اور سائنسی مشاہدات کے درمیان تعلق کے بارے میں غور و فکر کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسے معاملات میں قطعی دعووں سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ عالمِ غیب کی مکمل حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
متعدد آراء
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته،
ماشاء الله تبارك الله
ایک بہترین تحریر جس میں دلائل کے ساتھ سوچنے اور سمجھنے کیلئے مواد ہے۔
اللہ تعالٰی مزید زور قلم عطا فرمائے آمین یا رب العالمین
بہت شکریہ