براہ راست نشریات

دعوتِ فکر: چیلنجوں کا جواب، مقدار نہیں، معیار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
عصری چیلنجوں کا جواب

صادق رضا مصباحی

ممبئی

مضمون میں مصنف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ دور کے چیلنجوں کا مقابلہ صرف نئے ادارے، تنظیمیں اور وسائل بڑھا کر نہیں کیا جا سکتا۔
اصل ضرورت معیاری، مضبوط اور دیرپا کام کی ہے۔
وہ اس رجحان پر تنقید کرتے ہیں کہ معمولی شعور حاصل ہوتے ہی ہر شخص نئی تنظیم یا ادارہ قائم کرنے کو کامیابی سمجھ لیتا ہے، جبکہ حقیقی مسئلہ افراد سازی، استحکام اور مخاطب کی ضروریات کو سمجھنے کا ہے۔

عصرِ حاضر نے جب سے ترقی کی نئی راہیں اختیار کی ہیں، مسابقت اور مقابلہ آرائی کی ایسی فضا قائم ہو گئی ہے کہ ہر شخص دوسروں سے آگے نکلنے کی فکر میں مبتلا ہے۔ 

اس دوڑ میں کسی کے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ پلٹ کر یہ دیکھ سکے کہ اب تک کتنا سفر طے ہوا، منزل کتنی قریب آئی اور حاصل کیا ہوا۔

جسے بھی
تھوڑا سا ’شعور‘
حاصل ہوتا ہے،
وہ اپنی تنظیم،
ادارہ، گروپ،
اسکول یا مدرسہ
قائم کرنے میں
لگ جاتا ہے

یہ مقابلہ دراصل ان سوالات اور چیلنجوں کا نتیجہ ہے جو ہر دور اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ اصل مقصد ان چیلنجوں کا ایسا جواب دینا ہے جو زمانے کی نفسیات سے ہم آہنگ، عصری تقاضوں کے مطابق اور مستقبل کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہو۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تمام تر دوڑ دھوپ واقعی ان چیلنجوں کا مؤثر جواب بن رہی ہے؟
اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہمارے ہاں ’چیلنجوں کے جواب‘ کا صحیح مفہوم پوری طرح واضح نہیں ہو سکا۔
مقابلہ اور مسابقت یقیناً اچھی چیزیں ہیں، بشرطیکہ ان کی بنیاد اخلاص اور خیر پر ہو، لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ زمانہ صرف نتیجہ دیکھتا ہے، طریقۂ کار نہیں۔
وہ اس بات سے غرض نہیں رکھتا کہ جواب دینے کے لیے کتنی محنت کی گئی یا کتنی مشکلات برداشت کی گئیں، بلکہ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ حاصل کیا ہوا۔
اگر کوئی شخص صبح سے شام تک مسلسل محنت کرے، مگر دن کے اختتام پر اس کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے، تو ایسی محنت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ 

islamic prayer worship and men in mosque with chi 2026 01 09 10 15 32 utc

وقت بھی ضائع ہوا، جسم بھی تھک گیا، ذہن بھی مضمحل ہو گیا، مگر نتیجہ صفر رہا۔ 

اس لیے اصل کامیابی مصروف رہنے میں نہیں بلکہ نتیجہ خیز مصروفیت میں ہے۔

ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کام کے پھیلاؤ کو ہی کامیابی سمجھ لیتے ہیں۔ 

وسائل جمع کر لیتے ہیں، عمارتیں بنا لیتے ہیں، ادارے قائم کر لیتے ہیں، مگر یہ سوال کم ہی پوچھتے ہیں کہ ان سب کے ذریعے عصرِ حاضر کے کتنے مسائل واقعی حل ہوئے ہیں۔ 

بیماری کی درست تشخیص کے بغیر علاج بے سود ہوتا ہے، اور اگر تشخیص درست ہو مگر دوا مناسب نہ ہو تو مریض کبھی صحت یاب نہیں ہوتا۔

حقیقت یہ ہے کہ آج کے چیلنجوں کا جواب وسائل کی کثرت میں نہیں بلکہ کام کے معیار میں پوشیدہ ہے۔ 

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق چھوٹے پیمانے پر بھی کام کریں، لیکن وہ کام مضبوط، پائیدار، جامع، دور رس اور نتیجہ خیز ہو۔ 

ایسا مختصر مگر مؤثر کام ہی دراصل زمانے کے سوالات کا جواب بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

آج ہمارے سامنے سب سے بڑا مرحلہ افراد سازی کا ہے۔ اداروں اور عمارتوں کی کمی اب نہیں رہی۔ 

مدارس، اسکول، مراکز اور تنظیمیں پہلے سے کہیں زیادہ موجود ہیں، افراد کی بھی کمی نہیں، مگر اس کے باوجود مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ 

اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ تعداد کا نہیں بلکہ معیار کا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ توسیع کے بجائے استحکام پر توجہ دی جائے۔ 

مضبوط بنیاد کے بغیر صرف پھیلاؤ کسی قوم کو آگے نہیں لے جا سکتا۔

چیلنجوں کا جواب
تعداد میں اضافہ
نہیں بلکہ معیار
میں بہتری،
توسیع نہیں
بلکہ استحکام ہے

اگر غیر جانب داری سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے جدید چیلنجوں کا حقیقی مقابلہ کیا ہی نہیں۔
ہم نے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے نئے سوال پیدا کیے، غلط فہمیاں بڑھائیں اور انتشار کو فروغ دیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہر طرف اختلافات اور تقسیم کا جنگل اُگ آیا۔
آج جس شخص کو معمولی سا شعور حاصل ہوتا ہے، وہ فوراً اپنی الگ تنظیم، ادارہ، گروپ، اسکول یا مدرسہ قائم کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے اور اسی کو خدمتِ دین سمجھ لیتا ہے، حالانکہ قرآن کریم نے اس رویے کو تحزب قرار دیا ہے۔
یوں ہر شخص اپنی ڈفلی اور اپنا راگ الاپنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔
صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بہت سے چھوٹے اداروں نے بھی اپنے الگ الگ نصاب ترتیب دے رکھے ہیں، حالانکہ ان کی تعداد اور وسائل نہایت محدود ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہی جدید چیلنجوں کا جواب ہے؟

تقریروں، کتابوں اور تحریروں کا انبار لگ چکا ہے، مگر غلط فہمیاں کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہیں۔ 

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پڑھے ہوئے اہلِ علم کم اور صرف لکھنے والے زیادہ ہو گئے ہیں۔ اسی طرح خوبصورت عمارتیں، نئے شعبے اور جدید ڈیپارٹمنٹ تو قائم ہو رہے ہیں، مگر معاشرے کے بنیادی سوالات آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

accept islam 4
(فوٹو: سبق)

اسی طرح بہت سے مدارس اور تعلیمی اداروں میں جدید تقاضوں کے نام پر کمپیوٹر لیب قائم کر دی جاتی ہے، مگر نہ اساتذہ موجود ہوتے ہیں، نہ باقاعدہ تربیت، نہ استعمال۔ کمپیوٹر مہینوں بند پڑے رہتے ہیں اور صرف دکھاوے کے لیے کبھی کبھار چند گھنٹوں کی کلاس لے لی جاتی ہے۔ 

کیا اسے جدید چیلنجوں کا جواب کہا جا سکتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ عمارتیں، وسائل یا شعبے بڑھانا نہیں، بلکہ ان میں روح پیدا کرنا ہے۔ 

جواب کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی پسند دوسروں پر مسلط کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے مخاطب کی ضرورت، مزاج، نفسیات اور پسند کو سمجھیں۔

جواب وہی ہے جو زمانے کی ضرورت پوری کرے، نہ کہ صرف ہماری خواہشات کی تکمیل کرے۔ 

اپنی پسند کو زمانے کی پسند اور اپنے ذوق کو پوری دنیا کا ذوق سمجھ لینا دانش مندی نہیں بلکہ خوش فہمی ہے، اور شاید خوش فہمی سے بڑی کوئی غلط فہمی آج تک ایجاد نہیں ہوئی۔

اسی لیے آج کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ چیلنجوں کا جواب تعداد میں اضافہ نہیں بلکہ معیار میں بہتری، توسیع نہیں بلکہ استحکام، اور ظاہری سرگرمی نہیں بلکہ مؤثر اور نتیجہ خیز عمل ہے۔

1 تبصرہ

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے