مضمون میں مصنف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ دور کے چیلنجوں کا مقابلہ صرف نئے ادارے، تنظیمیں اور وسائل بڑھا کر نہیں کیا جا سکتا۔
اصل ضرورت معیاری، مضبوط اور دیرپا کام کی ہے۔
وہ اس رجحان پر تنقید کرتے ہیں کہ معمولی شعور حاصل ہوتے ہی ہر شخص نئی تنظیم یا ادارہ قائم کرنے کو کامیابی سمجھ لیتا ہے، جبکہ حقیقی مسئلہ افراد سازی، استحکام اور مخاطب کی ضروریات کو سمجھنے کا ہے۔
یہ مقابلہ دراصل ان سوالات اور چیلنجوں کا نتیجہ ہے جو ہر دور اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ اصل مقصد ان چیلنجوں کا ایسا جواب دینا ہے جو زمانے کی نفسیات سے ہم آہنگ، عصری تقاضوں کے مطابق اور مستقبل کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہو۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تمام تر دوڑ دھوپ واقعی ان چیلنجوں کا مؤثر جواب بن رہی ہے؟
اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہمارے ہاں ’چیلنجوں کے جواب‘ کا صحیح مفہوم پوری طرح واضح نہیں ہو سکا۔
مقابلہ اور مسابقت یقیناً اچھی چیزیں ہیں، بشرطیکہ ان کی بنیاد اخلاص اور خیر پر ہو، لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ زمانہ صرف نتیجہ دیکھتا ہے، طریقۂ کار نہیں۔
وہ اس بات سے غرض نہیں رکھتا کہ جواب دینے کے لیے کتنی محنت کی گئی یا کتنی مشکلات برداشت کی گئیں، بلکہ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ حاصل کیا ہوا۔
اگر کوئی شخص صبح سے شام تک مسلسل محنت کرے، مگر دن کے اختتام پر اس کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے، تو ایسی محنت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
اگر غیر جانب داری سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے جدید چیلنجوں کا حقیقی مقابلہ کیا ہی نہیں۔
ہم نے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے نئے سوال پیدا کیے، غلط فہمیاں بڑھائیں اور انتشار کو فروغ دیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہر طرف اختلافات اور تقسیم کا جنگل اُگ آیا۔
آج جس شخص کو معمولی سا شعور حاصل ہوتا ہے، وہ فوراً اپنی الگ تنظیم، ادارہ، گروپ، اسکول یا مدرسہ قائم کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے اور اسی کو خدمتِ دین سمجھ لیتا ہے، حالانکہ قرآن کریم نے اس رویے کو تحزب قرار دیا ہے۔
یوں ہر شخص اپنی ڈفلی اور اپنا راگ الاپنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔
صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بہت سے چھوٹے اداروں نے بھی اپنے الگ الگ نصاب ترتیب دے رکھے ہیں، حالانکہ ان کی تعداد اور وسائل نہایت محدود ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہی جدید چیلنجوں کا جواب ہے؟
1 تبصرہ
بہترین موضوع اور شاندار تبصر ہ