اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

حج کو ضائع ہونے سے بچائیں!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
حج مبرور

حجاج کرام کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ حج کی روح اور مقاصد کو سمجھتے ہوئے اس عظیم عبادت کو گناہوں، بدنگاہی، جھگڑوں اور دوسروں کو تکلیف پہنچانے جیسے اعمال سے ضائع نہ کریں۔
تمام حجاج اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں، اس لیے ان کے ساتھ حسنِ سلوک، صبر اور احترام کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ حرمین شریفین میں قیام کے قیمتی لمحات کو عبادت، ذکر، تلاوت اور دعا میں صرف کیا جائے تاکہ حج مبرور کی سعادت حاصل ہو سکے۔

حج محض چند ظاہری مناسک اور رسومات کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عظیم تربیتی عمل اور روحانی سفر ہے، جس کا مقصد انسان کی اخلاقی، روحانی اور عملی اصلاح ہے۔ 

حج کے حقیقی فوائد اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب حاجی نہ صرف مناسک کو درست طریقے سے ادا کرے بلکہ ان تمام اعمال اور رویّوں سے بھی اجتناب کرے جو اس مقدس عبادت کی روح کے منافی ہوں۔ 

قرآن کریم نے حج کے دوران واضح ہدایت دی ہے کہ نہ شہوانی گفتگو ہو، نہ گناہ کے کام اور نہ ہی جھگڑا و نزاع۔ 

اسی لیے علماء نے ’حج مبرور‘ یعنی مقبول حج کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ انسان نیکیوں کا اہتمام کرے اور گناہوں سے مکمل اجتناب اختیار کرے۔ 

4654654654

مزید پڑھیں

لاکھوں مسلمان دنیا بھر سے حرمین شریفین کا رخ کرتے ہیں۔ 

یہ سب اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں۔ 

ایسے میں کسی حاجی کو تکلیف پہنچانا، اس کے ساتھ بدتمیزی کرنا، اس سے لڑنا جھگڑنا یا اسے اذیت دینا درحقیقت میزبانِ حقیقی یعنی

 اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔

حج کے دوران طواف، سعی، عرفات، مزدلفہ اور منیٰ میں شدید ازدحام کے باعث مرد و زن کا اختلاط ناگزیر ہو جاتا ہے۔ 

ایسے مواقع پر نگاہوں کی حفاظت، دل کی پاکیزگی اور حرم کی عظمت کا احساس انتہائی ضروری ہے۔ 

بزرگانِ دین نے ایسے واقعات نقل کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حرم میں گناہ کا وبال عام مقامات کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ 

65456465

حاجی اپنے پورے سفر کے دوران زبان، آنکھ، ہاتھ اور دیگر اعضاء کی حفاظت کرے، بدنگاہی، گالی گلوچ، جھگڑے اور ہر قسم کے گناہوں سے بچے، کیونکہ سرزمینِ حرم میں نہ صرف گناہ بلکہ بعض اوقات گناہ کے ارادے پر بھی گرفت کا اندیشہ بیان کیا گیا ہے۔ 

حج کا سفر قیمتی لمحات کا مجموعہ ہے۔ 

اس لیے وقت کو فضول مشاغل میں ضائع کرنے کے بجائے طواف، نماز، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، استغفار، درود شریف اور دعا میں صرف کرنا چاہیے۔ 

Untitled

حرمین شریفین میں ادا کی جانے والی عبادات کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے، اس لیے ہر لمحے سے بھرپور فائدہ اٹھانا ایک مومن کی سعادت ہے۔ 

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام حجاج کرام کے حج کو قبول فرمائے، انہیں گناہوں سے محفوظ رکھے اور حرمین شریفین کے بابرکت ایام اور لمحات کی صحیح قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔