اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔
حج کے دوران طواف، سعی، عرفات، مزدلفہ اور منیٰ میں شدید ازدحام کے باعث مرد و زن کا اختلاط ناگزیر ہو جاتا ہے۔
ایسے مواقع پر نگاہوں کی حفاظت، دل کی پاکیزگی اور حرم کی عظمت کا احساس انتہائی ضروری ہے۔
بزرگانِ دین نے ایسے واقعات نقل کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حرم میں گناہ کا وبال عام مقامات کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔
حاجی اپنے پورے سفر کے دوران زبان، آنکھ، ہاتھ اور دیگر اعضاء کی حفاظت کرے، بدنگاہی، گالی گلوچ، جھگڑے اور ہر قسم کے گناہوں سے بچے، کیونکہ سرزمینِ حرم میں نہ صرف گناہ بلکہ بعض اوقات گناہ کے ارادے پر بھی گرفت کا اندیشہ بیان کیا گیا ہے۔
حج کا سفر قیمتی لمحات کا مجموعہ ہے۔
اس لیے وقت کو فضول مشاغل میں ضائع کرنے کے بجائے طواف، نماز، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، استغفار، درود شریف اور دعا میں صرف کرنا چاہیے۔
حرمین شریفین میں ادا کی جانے والی عبادات کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے، اس لیے ہر لمحے سے بھرپور فائدہ اٹھانا ایک مومن کی سعادت ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام حجاج کرام کے حج کو قبول فرمائے، انہیں گناہوں سے محفوظ رکھے اور حرمین شریفین کے بابرکت ایام اور لمحات کی صحیح قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔