10 ذوالحجہ کو حاجی جمرۂ عقبہ کی رمی کرتا ہے، جبکہ 11 اور 12 ذوالحجہ کو تینوں جمرات؛ جمرۂ صغریٰ، وسطیٰ اور عقبہ پر 7، 7 کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
ہر کنکری کے ساتھ ’اللہ اکبر‘ کہنا مسنون ہے۔
عرفِ عام میں ان جمرات کو ’شیطان‘ کہا جاتا ہے مگر درحقیقت یہ وہ مقامات ہیں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو شیطان نے اللہ کے حکم سے روکنے اور بہکانے کی کوشش کی تھی۔ حضرت ابراہیمؑ نے ہر مقام پر شیطان کو 7 کنکریاں ماریں، یہاں تک کہ وہ ذلیل و خوار ہوکر غائب ہوگیا۔
حضرت ابراہیمؑ اور شیطان کا تاریخی معرکہ
روایات کے مطابق جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے کیلئے منیٰ کی طرف جارہے تھے تو شیطان مختلف مقامات پر ظاہر ہوا اور انہیں اللہ کے حکم سے روکنے کی کوشش کی۔
لیکن حضرت ابراہیمؑ نے ہر بار شیطان کو کنکریاں مار کر یہ ثابت کیا کہ اللہ کی رضا کے مقابلے میں کوئی طاقت اہم نہیں۔
یہی واقعہ آج رمیِ جمرات کی صورت میں زندہ ہے، تاکہ امتِ مسلمہ شیطان سے اپنی دائمی دشمنی کو یاد رکھے۔
شیطان، انسان کا ازلی دشمن
قرآنِ کریم بار بار انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ شیطان اس کا کھلا دشمن ہے۔
اسی نے حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کو بہکایا اور جنت سے زمین پر آنے کا سبب بنا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، پس تم بھی اسے دشمن جانو۔
شیطان ہر انسان کو مختلف انداز سے بہکاتا ہے۔
کبھی خواہشات کے ذریعے، کبھی غرور، حسد اور ریاکاری کے ذریعے، اور کبھی گناہوں کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔
اسی لیے رمیِ جمرات انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ وہ ہر وقت شیطان کے حملوں سے ہوشیار رہے۔
رمی، صرف کنکریاں نہیں، ایک عہد ہے
حاجی جب جمرات پر کنکریاں مارتا ہے تو دراصل وہ اپنے نفس اور شیطان کو نشانہ بناتا ہے۔ گویا وہ زبانِ حال سے کہتا ہے:
اے شیطان! اب تو مجھے دھوکہ نہیں دے سکتا، میں اللہ کی نافرمانی کے قریب نہیں جاؤں گا۔
یہ عمل دراصل اللہ تعالیٰ سے ایک عہد ہے کہ انسان حج کے بعد بھی گمراہی، فتنہ اور برائی کے خلاف ثابت قدم رہے گا۔
تکبیر اور ذکرِ الٰہی کا پیغام
رمی کے دوران ہر کنکری کے ساتھ ’اللہ اکبر‘ کہنا اس حقیقت کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اور اسی کی اطاعت انسان کی کامیابی کا راستہ ہے۔
جس قدر انسان اپنے دل میں اللہ کی عظمت کو زندہ رکھے گا، اسی قدر وہ شیطان کے فریب، نفس کی خواہشات اور گناہوں سے محفوظ رہے گا۔