غزہ کے علاقے البریج کیمپ میں 13 سالہ عادل راجہ العشی کا بچپن اُس سے ہمیشہ کے لیے چھین لیا گیا، جب وہ اپنے گھر سے باہر دوستوں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے میں مصروف تھا۔
مزید پڑھیں
اسرائیلی توپ خانے نے ہمیشہ کی طرح اچانک گولہ باری کرکے ہنستے کھیلتے بچوں کی زندگیوں کو تاریک کردیا۔ اس اچانک اسرائیلی شیلنگ کے بعد کھیل کا میدان دھویں، گردوغبار اور خون میں بدل گیا۔
گولے کے ٹکڑے عادل کے چہرے پر لگے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی بائیں آنکھ کی بینائی اور بائیں کان کی سماعت سے محروم ہو گیا۔ اسرائیلی شیلنگ نے اسے مستقل معذوری میں مبتلا کردیا۔
دل چیر دینے والے اس المناک واقعے کے بعد سے عادل البریج کیمپ میں اپنی دادی کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔
غزہ میں معصوم بچپن پر حملہ
شیلنگ کا نشانہ بننے والے 13 سالہ عادل اور غزہ کے بچوں کی المناک داستان
اسرائیلی شیلنگ نے فٹبال کھیلنے والے 13 سالہ عادل سے اس کی بینائی اور سماعت چھین لی، جو جنگ کے ہولناک اور دیرپا انسانی اثرات کا ایک زندہ اور دردناک ثبوت ہے۔
🚨 معصوم ہدف
البریج کیمپ میں عادل اپنے گھر کے باہر دوستوں کے ساتھ فٹبال کھیلنے میں مصروف تھا کہ اچانک گولہ باری کا شکار ہو گیا۔
🩹 مستقل معذوری
چہرے پر گولے کے دھماکہ خیز ٹکڑے لگنے کی وجہ سے عادل بائیں آنکھ کی بینائی اور بائیں کان کی سماعت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گیا۔
📈 بچوں کی شہادتیں
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے اب تک ہزاروں معصوم بچے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
📊 مجموعی تناسب
غزہ کی جنگ میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی یہ تعداد مجموعی فلسطینی جانی نقصانات کا ایک بہت بڑا اور ہولناک حصہ ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اب وہ بینائی اور سماعت کے بغیر اپنی روزمرہ کی زندگی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے، کیونکہ اسرائیلی فوج کی درندگی نے اس کی زندگی کا معمول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روک دیا ہے۔
عادل کی کہانی غزہ کے اُن ہزاروں بچوں کی نمائندگی کرتی ہے، جو اس جنگ میں اپنی جانوں کے ساتھ ساتھ مستقل طرح کی معذوریوں کا شکار ہوئے ہیں۔
اس جنگ نے فلسطینی بچوں کا بچپن چھینا اور ان کے مستقبل کو بھی تاریک کردیا جو ابھی شروع ہی ہوا تھا۔
سوشل میڈیا پر عادل کی تصاویر اور اس کی المناک کہانی نے صارفین کی کافی توجہ حاصل کی ہے، جنہوں نے اسے ان ہزاروں کہانیوں میں سے ایک قرار دیا ہے جو غزہ میں جا بجا ملبے تلے بکھری پڑی ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ عادل جو کبھی فٹ بال کے پیچھے بھاگتا تھا، اب صرف اپنے علاج کی تکمیل اور اسکول جانے کے خواب دیکھتا ہے۔
وہ ایک ایسی نارمل زندگی کا خواہشمند ہے جو اس کے ہم عمر دیگر بچوں کو میسر ہے، لیکن اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ نے اسے معذور کردیا ہے۔
بلاگرز اور انسانی حقوق کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ عادل جیسے متاثرہ بچوں کو علاج اور نفسیاتی مدد دی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر بچے کا حق ہے کہ وہ محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرے، نہ کہ زندگی بھر جنگ کے زخموں اور معذوری کا بوجھ اٹھائے پھرے۔
فلسطینی وزارت صحت کے انفارمیشن یونٹ کے سربراہ زاہر الوحیدی کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے دوران اب تک 21 ہزار 638 سے زائد بچے شہید ہو چکے ہیں۔
یہ کل شہدا کی مجموعی تعداد کا تقریباً 30 فیصد ہے، جو بچوں پر جنگ کے تباہ کن اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔