فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے امریکا، ایران، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان غیر معمولی سفارتی اہمیت حاصل کی ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور ایران جنگ میں ثالثی نے اسلام آباد کو عالمی مرکز میں پہنچایا، لیکن معیشت اب بھی قرضوں اور بیرونی مالی مدد پر منحصر ہے۔
سوال یہ ہے کہ آیا طاقت کا موجودہ ارتکاز پاکستان کو مضبوط ریاست بنائے گا یا سفارتی عروج داخلی کمزوریوں پر عارضی پردہ ثابت ہوگا۔
جون 2026 کی ایک کشیدہ رات امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ تعطل کی طرف بڑھ رہے تھے۔
دونوں ملک براہِ راست ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھے۔
رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات منتقل کرتے رہے۔
چند گھنٹے بعد ایک نئے سمجھوتے کی راہ نکلتی دکھائی دی۔
7 ہفتے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے رہنما مکہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کررہے تھے۔
اس معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
ان دونوں واقعات کے درمیان پاکستان نے سعودی عرب میں اپنی دفاعی موجودگی بڑھائی، امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر کئے، ایران کے لئے رابطے کا راستہ کھلا رکھا اور اپنی سفارتی کامیابی کو معاشی مدد میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORT عاصم منیر کا بڑا داؤ — اہم نکات ⌄
- ✓پاکستان نے خود کو علاقائی بحرانوں میں ایک اہم رابطہ کار اور ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔
- ✓سعودی عرب، ترکی، چین اور امریکا کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں نے اسلام آباد کی تزویراتی اہمیت بڑھائی ہے۔
- ✓فیلڈ مارشل عاصم منیر خارجہ، دفاعی اور علاقائی پالیسی میں مرکزی کردار بن چکے ہیں۔
- ✓ایران سے متعلق سفارتی رابطوں نے پاکستان کے لیے ثالثی کا نیا موقع پیدا کیا ہے۔
- !پاکستان کی معاشی بحالی اب بھی آئی ایم ایف پروگرام اور بیرونی مالی تعاون سے جڑی ہوئی ہے۔
- !اندرونِ ملک طاقت کے بڑھتے ارتکاز، سیاسی استحکام اور شہری آزادیوں کے حوالے سے سوالات بدستور موجود ہیں۔
یہی وہ حکمت عملی ہے جسے فايننشال ٹائمز نے The Field Marshal’s Gambit یعنی فیلڈ مارشل کا بڑا داؤ قرار دیا۔
اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عاصم منیر صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کررہے، وہ عالمی سطح پر ملک کا مقام بلند کرنے کے ساتھ اندرونِ ملک طاقت اور حکمرانی کا نیا نظام بھی قائم کررہے ہیں۔
مزید پڑھیں
تنہائی سے ثالثی تک پاکستان کی واپسی
افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پاکستان اور واشنگٹن کے تعلقات میں نمایاں سردمہری آگئی تھی۔
امریکا کی توجہ بھارت اور بحرالکاہل کی طرف منتقل ہورہی تھی، جبکہ پاکستان معاشی بحران، سیاسی کشمکش اور بڑھتی ہوئی شدت پسندی میں گھرا ہوا تھا۔
عاصم منیر نے اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے براہِ راست عسکری اور سفارتی رابطوں کو استعمال کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے ذاتی تعلق نے انہیں واشنگٹن تک غیر معمولی رسائی دی، جبکہ ایران، چین اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے پرانے تعلقات نے اسلام آباد کو ایک ایسا رابطہ کار بنادیا جس سے متحارب فریق بات کرسکتے تھے۔
امریکا اور ایران کی جنگ کے دوران یہی توازن پاکستان کا سب سے اہم سفارتی اثاثہ بن گیا۔ اسلام آباد نہ امریکی فوجی اڈوں کا میزبان تھا، نہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات مکمل طور پر منقطع ہوئے تھے۔
پاکستان کے پاس ایٹمی طاقت، بڑی فوج اور مذاکرات کی میزبانی کے لیے ضروری سکیورٹی صلاحیت بھی موجود تھی۔
i OVERSEAS POST | FACT BOX پاکستان کی نئی حکمتِ عملی: فیکٹ باکس ⌄
- مرکزی شخصیت
- فیلڈ مارشل عاصم منیر
- عہدہ سنبھالا
- نومبر 2022
- بنیادی حکمتِ عملی
- دفاع، سفارت کاری اور ثالثی
- اہم خلیجی شراکت دار
- سعودی عرب
- دیگر اہم شراکت دار
- ترکی، چین اور امریکا
- علاقائی سفارتی محور
- ایران اور مشرقِ وسطیٰ
- بنیادی معاشی سہارا
- آئی ایم ایف پروگرام، خلیجی تعاون اور بیرونی سرمایہ کاری
- سب سے بڑا اندرونی سوال
- طاقت کا ادارہ جاتی توازن اور پائیدار سیاسی استحکام
اس عمل کو صرف عاصم منیر کی ذاتی کامیابی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور پاکستانی سفارت کار بھی مذاکرات میں شامل رہے۔
تاہم عالمی ذرائع ابلاغ میں بار بار عاصم منیر کا مرکزی کردار سامنے آنے سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان کی اہم ترین خارجہ پالیسی اب فوجی اور سیاسی قیادت کے مشترکہ، مگر فوجی اثر کے حامل نظام کے تحت چل رہی ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاع بھی، معاشی سہارا بھی
عاصم منیر کی حکمت عملی کا سب سے اہم خارجی ستون سعودی عرب ہے۔
ستمبر 2025 میں دونوں ممالک نے باہمی دفاعی معاہدہ کیا، جس میں کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ قرار دیا گیا۔
مئی 2026 میں رائٹرز نے حکومتی اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے سعودی عرب میں تقریباً 8 ہزار فوجی، جے ایف-17 طیاروں کا دستہ، ڈرون اور فضائی دفاعی نظام تعینات کیا۔
اس کا مقصد ایران جنگ کے دوران سعودی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنا بتایا گیا۔
اسی عرصے میں سعودی عرب نے پاکستان کو تین ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت فراہم کی اور پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے ذخائر برقرار رکھے۔
لیکن ان دونوں فیصلوں کے درمیان کسی باقاعدہ سودے کا ثبوت سامنے نہیں آیا۔
پاکستانی فوج نے بھی دفاعی تعاون کو مالی امداد کے بدلے کی جانے والی کارروائی قرار دینے کی تردید کی۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSIS پاکستان کا نیا کردار کیوں اہم ہے؟ ⌄
پاکستان کی نئی حکمتِ عملی تین اہم محاذوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے:
اس لیے زیادہ درست نتیجہ یہ ہے کہ سکیورٹی اور معیشت الگ سودے نہیں، بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے باہمی انحصار کے دو حصے ہیں۔
پاکستان سعودی سلامتی میں مدد فراہم کرتا ہے، جبکہ ریاض مشکل وقت میں اسلام آباد کے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کو سہارا دیتا ہے۔
7 اگست کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس تعلق کو مزید وسیع کرکے ترکی تک لے گیا۔
اس سے پاکستان مشرق وسطیٰ کے ابھرتے ہوئے سلامتی نظام میں مرکزی ملک بن گیا، لیکن نئی ذمہ داریاں بھی پیدا ہوئیں۔
اسلام آباد ایک طرف ایران کے ساتھ ثالثی کررہا ہے اور دوسری طرف سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے۔
کسی بڑے علاقائی تصادم میں ان دونوں کرداروں کو بیک وقت قائم رکھنا آسان نہیں ہوگا۔
سفارتی عروج، مگر معیشت اب بھی قرض پر
پاکستان کی نئی عالمی اہمیت کے باوجود اس کی معاشی بنیاد بدستور کمزور ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق 2026 میں معاشی سرگرمی بہتر ہوئی، مہنگائی نسبتاً قابو میں رہی، کرنٹ اکاؤنٹ میں توازن آیا اور زرمبادلہ کے ذخائر توقع سے زیادہ بڑھے۔
حقیقی معاشی شرح نمو تقریباً 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIED کیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- عاصم منیر نومبر 2022 سے پاک فوج کی قیادت کررہے ہیں۔
- پاکستان کے سعودی عرب، ترکی، چین اور امریکا کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے بڑھے ہیں۔
- پاکستان نے علاقائی کشیدگی میں رابطہ کاری اور ثالثی کی کوششوں میں حصہ لیا ہے۔
- ملکی معیشت آئی ایم ایف پروگرام اور بیرونی مالی تعاون سے منسلک ہے۔
- فوجی قیادت خارجہ اور قومی سلامتی کی پالیسی میں نمایاں کردار رکھتی ہے۔
تاحال غیر ثابت یا غیر واضح
- سفارتی سرگرمی کتنی بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری میں تبدیل ہوگی، یہ واضح نہیں۔
- نئے دفاعی انتظامات کی عملی ذمہ داریوں کی مکمل حدود سامنے نہیں آئیں۔
- پاکستان کا ثالثی کردار مستقل عالمی حیثیت اختیار کرے گا یا نہیں، یہ حتمی نہیں۔
- بیرونی کامیابی سے اندرونی سیاسی تناؤ فوراً ختم ہونے کی ضمانت نہیں۔
- معاشی بحالی طویل مدت تک برقرار رہے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔
اہم احتیاط: پاکستان کے ’’عالمی مرکز‘‘ بننے کا تصور سفارتی سرگرمیوں اور تزویراتی روابط پر مبنی تجزیہ ہے؛ اسے مکمل طور پر حاصل شدہ نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہ بہتری اہم ہے، مگر مکمل معاشی بحالی نہیں۔
پاکستان اب بھی 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام پر ہے۔
مئی 2026 میں اسے تقریباً 1.32 ارب ڈالر کی نئی رقم تک رسائی ملی، جس سے موجودہ پروگراموں کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 4.8 ارب ڈالر ہوگئیں۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ، مہنگی توانائی، کمزور برآمدات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں بدستور بڑے خطرات ہیں۔
پاکستان نے ایران جنگ میں اپنے سفارتی کردار کے بعد امریکا سے دس ارب ڈالر کی زرِمبادلہ استحکام سہولت بھی مانگی۔
یہ درخواست ظاہر کرتی ہے کہ اسلام آباد سفارتی سرمائے کو معاشی فائدے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
مگر معاشی ماہرین کے مطابق سعودی ذخائر، امریکی سہولت یا آئی ایم ایف کی رقم پاکستان کو وقت تو دے سکتی ہے، مستقل ترقی نہیں۔
اس کے لیے ٹیکس نظام، توانائی کے گردشی قرض، خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں، کم برآمدات اور سرمایہ کاری میں رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READ ایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
پاکستان نے بدلتے علاقائی حالات میں خود کو ایک اہم سفارتی اور سکیورٹی مرکز کے طور پر پیش کیا ہے۔ سعودی عرب، ترکی، چین اور امریکا کے ساتھ بڑھتے روابط نے اس کی تزویراتی قدر میں اضافہ کیا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اس حکمتِ عملی کے مرکزی کردار ہیں۔ ایران سے متعلق رابطوں، خلیجی تعاون اور دفاعی شراکت داری نے پاکستان کے لیے ثالثی اور علاقائی اثرورسوخ کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ عالمی اہمیت سرمایہ کاری، معاشی استحکام اور اندرونی سیاسی توازن میں تبدیل ہوسکے گی۔ خارجی کامیابی نمایاں ہے، مگر اس کا پائیدار نتیجہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔
عام پاکستانی کے لیے عالمی سفارت کاری کی کامیابی کا پیمانہ کسی سربراہی ملاقات کی تصویر نہیں۔
وہ یہ دیکھے گا کہ بجلی کا بل کم ہوا یا نہیں، روزگار پیدا ہوا یا نہیں، روپے میں استحکام آیا یا نہیں اور نئے قرضوں کا بوجھ مزید ٹیکسوں کی صورت میں اس پر منتقل تو نہیں ہوا۔
’سخت ریاست‘ کامیابی کا راستہ یا نیا خطرہ؟
مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ فوجی تصادم کے بعد عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنایا گیا۔
نومبر میں آئینی تبدیلی کے ذریعے انہیں پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا، جس سے تینوں مسلح افواج کی اعلیٰ کمان ان کے تحت آگئی۔
انہیں مدتِ ملازمت کے بعد قانونی تحفظ دیا گیا، جبکہ آئینی مقدمات سپریم کورٹ سے نئی وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کردیے گئے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو جنگ، دہشت گردی اور معاشی بحران کے دوران تیز فیصلوں، مستقل قیادت اور بہتر فوجی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
حزب اختلاف، بعض ججوں اور حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں سے پارلیمان، عدلیہ اور سویلین حکومت کا توازن کمزور ہوا ہے۔
اس سخت حکمت عملی کے بعض مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔
سخت گیر مذہبی جماعتوں کے خلاف کارروائی کے بعد 2026 میں توہینِ مذہب کے رجسٹرڈ مقدمات تقریباً دو تہائی کم ہوئے اور ہجوم کے حملوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست برسوں سے نظر انداز کیے گئے خطرات کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔
لیکن دوسری طرف سیاسی اختلاف، صحافت اور آزادانہ معلومات تک رسائی محدود ہونے کی شکایات بڑھی ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ اور ان کے پاکستانی معاونین پر نئی سفری پابندیاں لگائی گئیں، جبکہ آزادیٔ صحافت کے عالمی انڈیکس میں پاکستان 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر ہے۔
اصل فرق ’سخت ریاست‘ اور ’مضبوط ریاست‘ میں ہے۔
سخت ریاست فوری طور پر مخالفین کو خاموش کرسکتی ہے، مضبوط ریاست قانون سب پر یکساں نافذ کرتی، آزاد ادارے بناتی اور اپنے فیصلوں کا جواب دیتی ہے۔
عاصم منیر کے داؤ کا آخری فیصلہ
عاصم منیر نے پاکستان کو دوبارہ عالمی طاقتوں کے نقشے پر نمایاں کردیا ہے۔
امریکا ان سے بات کرتا ہے، ایران انہیں پیغام رساں مانتا ہے، سعودی عرب پاکستان کو دفاعی شراکت دار سمجھتا ہے اور ترکی کے ساتھ نیا اتحاد بن چکا ہے۔
یہ معمولی کامیابی نہیں۔
لیکن پاکستان کی عالمی واپسی ابھی ملک کی داخلی تبدیلی کا ثبوت نہیں۔
اس بڑے داؤ کی کامیابی کے لیے سفارتی تعلقات کو قرضوں کے بجائے سرمایہ کاری اور برآمدات میں، مرکزی اختیار کو شخصی طاقت کے بجائے ادارہ جاتی صلاحیت میں، اور سکیورٹی کارروائیوں کو خاموشی کے بجائے پائیدار امن میں تبدیل کرنا ہوگا۔
اگر ایسا ہوا تو موجودہ دور پاکستان کی اسٹریٹجک واپسی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
اگر معیشت بدستور بیرونی ذخائر پر چلی، سیاسی نظام سکڑتا گیا اور شورشیں بڑھتی رہیں تو عالمی عروج صرف داخلی کمزوری پر پڑا ہوا ایک چمک دار پردہ ثابت ہوگا۔
↗ OVERSEAS POST | PRIMARY SOURCES رپورٹ کے اصل ذرائع ⌄
ہر لنک اصل ادارے کی ویب سائٹ پر کھلے گا۔