حالیہ مہینوں میں پاکستان دنیا بھر کے میڈیا کی سرخیوں میں رہا ہے۔ کبھی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر تو کبھی اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی امن مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے۔
مزید پڑھیں
اگرچہ بین الاقوامی میڈیا نے اس تمام کامیابی کا سہرا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے سر باندھا ہے، لیکن اس عسکری سفارت کاری کے پیچھے جس سویلین شخصیت نے خاموشی سے پل کا کردار ادا کیا، وہ وزیراعظم شہباز شریف ہیں۔
انہوں نے پاکستانی تاریخ کے اس مشکل ترین توازن کو برقرار رکھا ہے، جہاں سویلین اقتدار اور عسکری قیادت ایک صفحے پر نظر آتے ہیں۔
پنجاب کا ترقی ماڈل
شہباز شریف کی سیاسی طاقت کا سرچشمہ صوبہ پنجاب ہے، جو پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی اور زرعی معیشت کا دل ہے۔
تقریباً 15 سال تک اس صوبے کے وزیراعلیٰ رہنے والے شہباز شریف نے پنجاب کو ایک پسماندہ خطے سے نکال کر ملک کا سب سے خوشحال صوبہ بنایا ہے۔
- شہباز شریف کے دور میں لاہور نے کراچی کو پیچھے چھوڑ کر ملک کا سب سے جدید تجارتی اور صنعتی مرکز بننے کی دوڑ میں شمولیت اختیار کی۔
- صفائی کا نظام ہو، سڑکوں کا جال یا گرین ٹرانسپورٹ، لاہور کو ایک جدید عالمی شہر میں بدلنے کا سہرا شہباز شریف کو جاتا ہے۔
- انہوں نے بیوروکریٹک رکاوٹوں کو توڑ کر سیئول (جنوبی کوریا) سے متاثرہ میٹرو نظام اور استنبول کے تعاون سے بس نیٹ ورک متعارف کروایا۔
- اُن کی توجہ سیاست سے زیادہ ’ڈیلیوری‘ پر رہی، جس نے انہیں عالمی سرمایہ کاروں کی نظر میں ایک معتبر نام بنا دیا۔
عالمی تعلقات اور ٹیکنوکریٹک نیٹ ورک
شہباز شریف 5 زبانوں پر عبور رکھتے ہیں ۔ ان کے لب و لہجے کی شگفتگی نے انہیں عالمی رہنماؤں کے قریب کر دیا ہے۔
- سعودی عرب میں جلاوطنی کے دوران انہوں نے نہ صرف کاروبار کیا بلکہ سعودی قیادت کا اعتماد بھی جیتا۔
- قطر اور بحرین کے شاہی خاندانوں کے ساتھ ان کے قریبی مراسم اور شکار کی کہانیاں مشہور ہیں۔
- انہوں نے ذیشان شاہ جیسے بڑے رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز اور ’جے پی مورگن‘ و ’میک کینزی‘ جیسے اداروں میں کام کرنے والے ماہرین کو پاکستان کی تعمیرِ نو کے لیے راغب کیا۔
- شہباز شریف خلیجی سرمائے کو مغربی تکنیکی مہارت کے ساتھ جوڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔
ڈپلومیسی کا ماہر: پل بنانے والا سیاستدان
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی وزیراعظم اپنی 5 سالہ مدت مکمل نہیں کر پایا۔ لیاقت علی خان سے لے کر عمران خان تک، ہر رہنما کا انجام یا تو قتل، جلاوطنی یا جیل رہا۔
اس بدقسمتی کی سب سے بڑی وجہ فوج کے ساتھ تصادم رہا ہے۔
شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے برعکس ’محاذ آرائی‘ کے بجائے ’مصالحت‘ کا راستہ چُنا۔ جب بھی نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تلخی بڑھی، شہباز شریف نے پل کا کردار ادا کر کے معاملات کو سلجھایا۔
2007 میں جنرل مشرف کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنے میں بھی ان کا خاموش کردار کلیدی تھا۔
مستقبل کی امید: پہلی مکمل آئینی مدت؟
آج جب جنرل عاصم منیر ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر رہے ہیں، تو اس کے پیچھے شہباز شریف کی وہ خاموش ڈپلومیسی کارفرما ہے جو اندرونی خلفشار کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سعودی عرب اور چین، جو پاکستان کے معاشی ستون ہیں، شہباز شریف کی موجودگی میں خود کو پرسکون محسوس کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہباز شریف پاکستان کی تاریخ کے وہ پہلے وزیراعظم بن سکتے ہیں جو عسکری قیادت کے ساتھ ہم آہنگی اور اپنی انتظامی صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل کر لیں۔
شہباز شریف محض ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک ماہر منتظم ہیں جو جانتے ہیں کہ پاکستان جیسے پیچیدہ ملک میں طاقت کے مراکز کو ساتھ لے کر کیسے چلا جاتا ہے۔
ان کی ’خاموش طاقت‘ ہی پاکستان کے بین الاقوامی وقار کی بحالی میں اہم ترین عنصر ہے۔