نثار احمد حصیر القاسمی
حیدر آباد دکن
اسلام مال و دولت کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ دولت کو اللہ کی رضا، عدل اور خدمتِ خلق کے لیے استعمال کیا جائے۔
اندلس کے عظیم قاضی منذر بن سعید کے دو تاریخی واقعات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ عدل، حق گوئی اور اخلاص حکمرانوں کو بھی راہِ راست پر لا سکتے ہیں، جبکہ اسراف، غرور اور عیش پرستی انسان کو اللہ کی گرفت کے قریب کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کو اپنی عظیم نعمت اور فضل قرار دیا ہے۔
اس کے ذریعے انسان اپنی ضروریات پوری کرتا، عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارتا اور دوسروں کی مدد کرتا ہے۔
لیکن یہی دولت جب تکبر، اسراف، ظلم اور اللہ کی نافرمانی کا ذریعہ بن جائے تو نعمت، نقمت میں بدل جاتی ہے۔
اسلامی تاریخ میں قاضی منذر بن سعید کے دو واقعات اس حقیقت کو نہایت مؤثر انداز میں واضح کرتے ہیں۔
اندلس کے عظیم قاضی منذر بن سعید اپنی دیانت، حق گوئی اور عدل کے لیے مشہور تھے۔ خلیفہ عبدالرحمن ناصر نے اپنی محبوب ملکہ کے لیے ایک شاندار محل تعمیر کروایا اور بعد میں اس کی توسیع کا ارادہ کیا۔
مزید پڑھیں
محل سے متصل ایک یتیم بچے کا گھر تھا۔
بادشاہ نے اسے خریدنے کے لیے قیمت پیش کی، مگر یتیم کے وصی نے قاضی کی اجازت کے بغیر فروخت سے انکار کر دیا۔
بادشاہ نے قاضی کو حکم بھیجا کہ خرید و فروخت نافذ کر دی جائے، لیکن قاضی نے واضح کیا کہ پیش کی گئی قیمت منصفانہ نہیں۔
بعد میں انہوں نے یتیم کا گھر منہدم کروا دیا، مگر اس کا ملبہ فروخت
کرکے یتیم کے لیے اس سے زیادہ رقم حاصل کر دی، جبکہ زمین اسی کی ملکیت برقرار رکھی۔
انہوں نے اپنے فیصلے کی بنیاد سورۂ کہف کے اس واقعے پر رکھی جس میں حضرت خضرؑ نے غصب سے بچانے کے لیے کشتی میں نقص پیدا کیا تھا۔
جب بادشاہ کو حقیقت معلوم ہوئی تو اس نے قاضی کے عدل کو سراہا اور انصاف کے سامنے سر جھکا دیا۔
قاضی منذر بن سعید کا دوسرا واقعہ بھی نہایت سبق آموز ہے۔
عبدالرحمن ناصر نے مدینۃ الزہراء میں ایک ایسا محل تعمیر کروایا جس کے مرکزی گنبد کی اندرونی چھت سونے اور چاندی سے مزین تھی۔
افتتاح کے موقع پر اس نے فخر سے حاضرین سے پوچھا کہ کیا کسی بادشاہ نے اس جیسا کارنامہ انجام دیا ہے؟ درباری تعریف کرنے لگے، مگر قاضی خاموش رہے۔
بادشاہ نے ان سے رائے پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ انہیں گمان نہ تھا کہ شیطان آپ کو اس حد تک لے جائے گا کہ آپ کافروں کے طرزِ عمل سے مشابہت اختیار کر لیں۔
یہ سن کر بادشاہ ناراض ہوا تو قاضی نے سورۂ زخرف کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تمام لوگ ایک ہی راستے پر نہ آ جاتے تو کافروں کے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دی جاتیں۔
قرآن کی یہ آیات سن کر خلیفہ پر رقت طاری ہوگئی۔ وہ رو پڑا، اپنی غلطی تسلیم کی اور اس پرتعیش عمارت کو منہدم کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ مخلص نصیحت اگر اخلاص اور حکمت کے ساتھ کی جائے تو اس کا اثر ضرور ہوتا ہے۔
قرآن کریم نے مال کو اللہ کا فضل قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب انسان عیش و عشرت، تکبر اور ظلم میں مبتلا ہو جائے تو یہی دولت اس کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظالم لوگ اس آسائش کے پیچھے لگ گئے جس میں انہیں رکھا گیا تھا، اور وہ مجرم بن گئے۔
اسلام کا معاشی نظام صرف دولت کمانے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اس کے منصفانہ استعمال کا بھی حکم دیتا ہے۔
مالداروں کے مال میں غریبوں اور محروموں کا حق رکھا گیا ہے تاکہ معاشرے میں توازن قائم رہے، نہ ایک طرف بے لگام عیاشی ہو اور نہ دوسری طرف فقر و افلاس۔
قرآن بار بار اسراف، فضول خرچی اور دولت کی نمائش سے روکتا ہے۔
تاریخ بھی گواہ ہے کہ جب خوشحال طبقہ اللہ کی ہدایات سے غافل ہو جاتا ہے تو وہ اصلاح کی ہر آواز کی مخالفت کرتا ہے، اپنی دولت اور طاقت کے بل پر حق کو دبانے کی کوشش کرتا ہے اور معاشرے میں فساد کا ذریعہ بنتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت بھی یہی منظر تھا۔
مکہ کے دولت مند سردار ایمان لانے والے کمزور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور اپنی دولت کو اللہ کی رضا کی دلیل سمجھتے تھے۔
قرآن نے ان کے اس غرور کو رد کیا اور واضح کیا کہ عزت و برتری کا معیار دولت نہیں بلکہ تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی ہے۔
آج بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آتی ہے۔
جب مال حلال و حرام کی تمیز کے بغیر جمع کیا جائے، اس پر غرور کیا جائے اور اسے ظلم، اسراف اور نمود و نمائش میں خرچ کیا جائے تو وہ معاشرے میں فساد، بے انصافی اور اخلاقی زوال کا سبب بنتا ہے۔
اس کے برعکس اگر یہی دولت اللہ کی رضا، خدمتِ خلق، زکوٰۃ، صدقات اور فلاحِ عامہ پر خرچ کی جائے تو دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اہلِ علم کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ قاضی منذر بن سعید کی طرح حکمت، اخلاص اور بے خوفی کے ساتھ اہلِ اقتدار اور اہلِ ثروت کو حق بات پہنچاتے رہیں۔
محض کسی کی دولت یا منصب سے مرعوب ہو کر خاموشی اختیار کرنا اہلِ علم کا شیوہ نہیں۔
دولت اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔
اس کی اصل قدر اسی وقت ہے جب اسے اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کیا جائے، غریبوں کا حق ادا کیا جائے، اسراف سے بچا جائے اور اسے تکبر و نمود کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
یہی طرزِ عمل مال کو نعمت بناتا ہے، ورنہ یہی نعمت انسان کے لیے دنیا و آخرت میں نقمت اور گرفت کا سبب بن جاتی ہے۔
متعدد آراء
اللہ ہمیں فہم عطا کرے
مال اللہ کی امانت ہے، فخر کا ذریعہ نہیں.
اسلام کا پیغام: دولت خدمت کے لیے، غرور کے لیے نہیں.
مال کی حقیقت: جب دولت اللہ کی رضا کے لیے ہو
اسراف اور تکبر کا انجام، عدل اور تقویٰ کی کامیابی
دولت کی اصل خوبصورتی خدمتِ خلق اور اللہ کی رضا میں ہے۔