براہ راست نشریات

ہرمز میں ایرانی حملے پر سعودی عرب اور قطر کا سخت ردعمل

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز حملہ
مملکت سعودی عرب کا پرچم (فوٹو: انٹرنیٹ)

آبنائے ہرمز کے قریب سعودی آئل ٹینکر ’ودیان‘ اور قطری ایل این جی ٹینکر ’الرکیات‘ کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب، قطر اور خلیجی تعاون کونسل نے ایران کے خلاف سخت سفارتی مؤقف اختیار کر لیا ہے۔
ریاض نے حملوں کو عالمی جہاز رانی اور توانائی کی فراہمی پر حملہ قرار دیتے ہوئے ایران کو مکمل ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ قطر نے ایرانی نائب سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا اور وضاحت طلب کی۔

آبنائے ہرمز کے قریب سعودی آئل ٹینکر ’ودیان‘ اور قطری مائع قدرتی گیس LNG بردار جہاز ’الرکیات‘ پر حملوں کے بعد خلیجی کشیدگی نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ 

سعودی عرب، قطر اور خلیجی تعاون کونسل نے ایران کے خلاف سخت سفارتی اقدامات اور شدید مذمت کا اعلان کیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں ایران کی جانب سے دونوں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں نہ صرف عالمی جہاز رانی کے تحفظ بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔

مزید پڑھیں

ریاض نے کہا کہ ایران کی جانب سے ایسے حملوں کا تسلسل بین الاقوامی قانون، عالمی روایات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے، جو بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں محفوظ آمدورفت کی ضمانت دیتی ہیں۔

سعودی عرب نے ایران سے فوری طور پر ایسے تمام اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا جو خطے کے امن، عالمی بحری سلامتی اور توانائی کی 

سپلائی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، اور ان حملوں کے تمام نتائج کی مکمل ذمہ داری بھی تہران پر عائد کی۔

ادھر قطر نے بھی فوری سفارتی ردعمل دیتے ہوئے ملک میں تعینات ایرانی نائب سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کیا اور انہیں باضابطہ احتجاجی مراسلہ حوالے کیا۔

 دوحہ نے ’الرکیات‘ پر حملے کو عالمی جہاز رانی، علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کی سلامتی کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا۔

ہم سے جڑے رہیں

قطری حکومت نے ایران سے فوری وضاحت طلب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ واضح کیا کہ قطر بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے قومی مفادات اور وسائل کے تحفظ کے لیے ہر مناسب قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوحہ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو ایسی تمام کارروائیاں فوری بند کرنا ہوں گی جو خطے کے امن، عالمی بحری راستوں اور توانائی کی سپلائی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، اور ان کے تمام قانونی اور عملی نتائج کی ذمہ داری بھی تہران پر ہوگی۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطری ایل این جی بردار جہاز ’الرکیات‘ اور سعودی خام تیل بردار جہاز ’ودیان‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران حملے کا نشانہ بنے۔ 

ذرائع کے مطابق ’الرکیات‘ کے بائیں حصے پر میزائل لگنے کے بعد جہاز نے امدادی سگنل بھیجا، جبکہ انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی اور دھواں بھر گیا۔ 

تاہم عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور انہیں بحفاظت نکالنے کا عمل جاری ہے۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

اسی دوران خلیجی تعاون کونسل GCC نے بھی ایران کے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیا۔

 کونسل کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بحری جہازوں کو نشانہ بنانا نہ صرف عالمی تجارت بلکہ بین الاقوامی توانائی کی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔