امریکا اور ایران نے ایک ہفتے کے لیے مذاکرات مؤخر کر دیے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز میں عسکری کشیدگی برقرار ہے۔
ایران آبنائے کو اپنی سفارتی طاقت کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جبکہ عالمی بحری کمپنیاں بڑھتے خطرات کے باعث محفوظ عمانی راستے کو ترجیح دینے لگی ہیں۔
مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی آئندہ دنوں میں خطے کی بحری سلامتی کا رخ متعین کرے گی۔
امریکا اور ایران کے درمیان سیاسی مذاکرات میں تعطل کے ساتھ ہی خلیجی خطے میں عسکری اور سیکیورٹی کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی ہے۔
اس دوران بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی جبکہ متعدد تجارتی جہازوں کو نامعلوم ریڈیو پیغامات اور الیکٹرانک مداخلت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ واشنگٹن اور تہران نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات مکمل ہونے تک مذاکرات ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
مزید پڑھیں
ان کے مطابق اس عرصے کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے گریز کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایرانی عوام کی بڑی تعداد کو جنازے میں شریک اور غمزدہ دیکھ کر حیرت ہوئی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ عوام متوفی رہنما کی حمایت نہیں کرتے تھے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے اور
اگرچہ امریکا طاقت استعمال کر سکتا ہے، مگر مذاکرات کے لیے فریق کا موجود رہنا بھی ضروری ہے۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے مغربی اتحاد کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کی ذمہ داری صرف ساحلی ممالک کی ہے اور غیر علاقائی طاقتوں کو وہاں فوجی موجودگی یا طاقت کے مظاہرے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بحری راستوں پر نئی صف بندی
تجزیے کے مطابق آبنائے ہرمز میں اس وقت 3 اہم بحری راستے زیر استعمال ہیں۔
- شمالی نیلا راستہ، جو ایرانی پاسداران انقلاب کی نگرانی میں لارک جزیرے کے قریب سے گزرتا ہے۔
- جنوبی سبز راستہ، جسے عمان نے متبادل محفوظ گزرگاہ کے طور پر پیش کیا ہے۔
- بین الاقوامی مرکزی راستہ، جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ روٹ ہے اور آبنائے کے وسط سے گزرتا ہے۔
فوجی ماہرین کے مطابق ایرانی بحریہ کی تیز رفتار جنگی کشتیوں پر مشتمل بیڑا Mosquito Fleet بحری جہازوں کے لیے سب سے نمایاں خطرہ تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ فوری کارروائی اور روک تھام کے لیے تیار رہتا ہے۔
اسی دوران پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ کسی بھی متبادل بحری راستے میں بارودی سرنگیں موجود ہو سکتی ہیں جن کے مقامات سے صرف ایران ہی واقف ہے، جبکہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے بحری جہازوں کے تحفظ اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے مشترکہ بحری فورس تعینات کرنے کی تیاری کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی قطرہ قطرہ حکمت عملی
مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر محجوب زویری کے مطابق تہران خطے میں اپنے کم ہوتے اثر و رسوخ کی تلافی کے لیے آبنائے ہرمز کو سفارتی دباؤ کے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
ان کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ بھی مکمل اقتصادی رعایت دینے کے بجائے محدود مالی سہولتوں کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے، جسے انہوں نے امریکی قطرہ قطرہ حکمت عملی قرار دیا۔
دوسری طرف ایران اس وقت تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے یا بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ نہیں جب تک اس پر عائد تیل کی پابندیاں ختم نہ ہوں اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے بحال نہ کیے جائیں۔
دو ممکنہ منظرنامے
ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کے دو بڑے امکانات سامنے آ رہے ہیں۔
پہلا منظرنامہ:
موجودہ کشیدگی برقرار رہے، وقتاً فوقتاً بحری جھڑپیں ہوتی رہیں اور ایران شمالی بحری راستے پر اپنی گرفت مضبوط رکھے۔
ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے تقریباً 20 روز بعد بھی یہی سب سے زیادہ ممکنہ صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔
دوسرا منظرنامہ:
اگر آئندہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوتی ہے تو آبنائے ہرمز کے تمام تینوں بحری راستے دوبارہ مکمل طور پر بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھول دیے جائیں گے اور سابقہ معمولات بحال ہو جائیں گے۔
تاہم یہ امکان 11 جولائی کو متوقع جامع مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے۔
عمانی بحری راستہ کیوں اہم بن گیا؟
ماہرین کے مطابق عمان کا جنوبی بحری راستہ تقریباً 82 کلومیٹر طویل ہے اور اس کی گہرائی 65 سے 110 میٹر تک ہے، جس کی وجہ سے یہ آبنائے ہرمز کا سب سے محفوظ، گہرا اور وسیع راستہ تصور کیا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے بڑی عالمی شپنگ کمپنیاں اور بین الاقوامی بحری اتحاد اپنی تیل بردار اور تجارتی جہازوں کا رخ ایرانی نگرانی والے راستوں کے بجائے عمانی پانیوں کی طرف موڑ رہے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
اس پیش رفت نے خلیجی خطے میں بحری طاقت کے توازن اور اثر و رسوخ کی نئی تصویر بھی سامنے لانا شروع کر دی ہے۔