دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ تکنیکی مذاکرات کے بعد واشنگٹن نے تہران کو واضح پیغام دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں موجودہ صورتحال تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
امریکا نے منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کو بھی معاہدے پر مکمل عمل درآمد اور ہرمز میں ایران کے رویے سے مشروط کر دیا ہے، جبکہ مذاکرات کا اگلا دور 18 جولائی کو متوقع ہے۔
دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ تکنیکی مذاکرات کا نیا دور اختتام پذیر ہوگیا۔
اگرچہ دونوں جانب سے جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد میں پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا، تاہم اہم اختلافی معاملات اب بھی مذاکرات کے مستقبل پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز پر واشنگٹن کا سخت مؤقف
باخبر ذرائع کے مطابق امریکا نے ایرانی وفد کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ بحری آمدورفت کی آزادی مفاہمتی یادداشت کی بنیادی شقوں میں شامل ہے۔
مزید پڑھیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں ایران کے عملی رویے کو معاہدے پر عمل درآمد کا پہلا امتحان سمجھتا ہے۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ اگر تہران نے بحری گزرگاہ پر نئی فیس، محصولات یا قواعد نافذ کرنے کی کوشش کی تو اسے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس کے مذاکراتی عمل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایران کی ہر سرگرمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کی کشیدگی کے براہِ راست سیاسی اور اقتصادی نتائج سامنے آئیں گے۔
⚠ واشنگٹن کا سخت مؤقف
امریکا نے ایران کو واضح پیغام دیا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی قبول نہیں ہوگی، کیونکہ آزاد بحری آمدورفت مفاہمتی یادداشت کی بنیادی شرط ہے۔
🚢 آبنائے ہرمز کا امتحان
واشنگٹن ایران کے عملی رویے کو معاہدے پر عمل درآمد کا پہلا امتحان سمجھتا ہے۔ نئی فیس، محصولات یا قواعد کو معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔
💰 منجمد اثاثوں کی شرط
ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی کو مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد اور ہرمز میں کشیدگی کم رکھنے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
📅 اگلا دور
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 18 جولائی کو متوقع ہے، جس میں تکنیکی امور کے بعد سیاسی اور حساس معاملات پر بات ہو سکتی ہے۔
🇮🇷 ایران کی تنبیہ
ایران نے آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں امریکی فوجی موجودگی کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کسی بھی مداخلت پر فوری جواب کی دھمکی دی ہے۔
☢ جوہری معاملہ
ذرائع کے مطابق دوحہ مذاکرات میں جوہری پروگرام زیر بحث نہیں آیا، کیونکہ یہ دور صرف مفاہمتی یادداشت کے تکنیکی نفاذ تک محدود تھا۔
- دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی سے امریکا ایران تکنیکی مذاکرات مکمل ہوئے۔
- امریکا نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی فیس یا تبدیلی کو مسترد کر دیا۔
- منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی ایران کے طرزِ عمل سے مشروط رہے گی۔
- ایران نے امریکی فوجی موجودگی کو خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت جواب کی تنبیہ کی۔
- اگلا مذاکراتی دور 18 جولائی کو متوقع ہے۔
- آبنائے ہرمز آئندہ مذاکرات کا سب سے حساس اور مرکزی موضوع رہے گی۔
- منجمد اثاثوں کے استعمال یا رہائی پر عملی پیش رفت مذاکرات کو آگے بڑھا سکتی ہے۔
- بعد کے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام پر سیاسی مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔
- اگر ہرمز میں کشیدگی بڑھی تو مفاہمتی عمل شدید دباؤ میں آ سکتا ہے۔
- قطر اور پاکستان مذاکراتی چینل کو فعال رکھنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔
اثاثوں کی رہائی بھی شرائط سے مشروط
واشنگٹن نے تہران کو یہ پیغام بھی دیا کہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی یا ان کی مرحلہ وار رہائی کا انحصار مکمل طور پر مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور بالخصوص آبنائے ہرمز میں ایران کے طرزِ عمل پر ہوگا۔
اسی دوران ایرانی وفد نے قطری حکام، جن میں مرکزی بینک کے نمائندے بھی شامل تھے، کے ساتھ تقریباً 6 ارب ڈالر کی ابتدائی رقم کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم یہ اختلاف برقرار ہے کہ ان فنڈز کے استعمال کا اختیار امریکا کے پاس ہوگا یا ایران خود اپنے مالی وسائل کے استعمال کا فیصلہ کرے گا۔
مذاکرات کا اگلا دور 18 جولائی کو
ایک اعلیٰ ذریعے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 18 جولائی کو منعقد ہوگا، جس میں تکنیکی معاملات کو آگے بڑھانے کے بعد سیاسی اور حساس موضوعات پر بات چیت متوقع ہے۔
قطری وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی کہ قطری اور پاکستانی ثالثوں نے دونوں وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور متعدد تکنیکی معاملات میں پیش رفت ہوئی، جبکہ پاکستانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک نے آئندہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایران کی امریکی موجودگی پر تنبیہ
دوسری جانب ایران کی متحدہ مسلح افواج کی قیادت نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں امریکی فوجی موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
ایرانی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی تو اس کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ایران نے تمام بحری جہازوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ محفوظ گزرگاہ کے لیے تہران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستوں کی پابندی کریں۔
آبنائے ہرمز بدستور سب سے بڑا تنازع
اگرچہ کشیدگی میں نسبتاً کمی آئی ہے، لیکن آبنائے ہرمز اب بھی دونوں ممالک کے درمیان سب سے پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔
ایران چاہتا ہے کہ اسے بحری آمدورفت کے انتظام میں کردار دیا جائے اور وہ گزرنے والے جہازوں سے خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی تجویز پیش کر رہا ہے، جبکہ امریکا بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں مکمل آزادیِ جہاز رانی پر زور دے رہا ہے۔
جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مطابق 60 روز تک آبنائے ہرمز کو کسی بھی قسم کی پابندی یا فیس کے بغیر کھلا رکھا جانا تھا۔
واشنگٹن اسے واضح اور لازمی شرط قرار دیتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ مستقبل میں سلطنتِ عمان کے تعاون سے جہاز رانی کے انتظامات پر مشترکہ نظام وضع کیا جا سکتا ہے۔
تاہم عمان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف کسی قسم کی نئی فیس کی حمایت نہیں کی جائے گی۔
جوہری پروگرام زیرِ بحث نہیں آیا
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پیش رفت کا دعویٰ کیا، لیکن ذرائع کے مطابق دوحہ مذاکرات میں جوہری پروگرام زیرِ بحث نہیں آیا، کیونکہ یہ دور صرف مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے تکنیکی معاملات تک محدود تھا۔
اس حساس موضوع پر آئندہ سیاسی مذاکرات میں گفتگو متوقع ہے۔
براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی
دوحہ میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان کوئی براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی۔ دونوں فریقوں کے درمیان تمام رابطے قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے انجام پائے، جبکہ امریکی حکام نے الگ سے قطری قیادت کے ساتھ مشاورت جاری رکھی۔
لبنان بھی پس منظر میں شامل رہا
مذاکرات کے دوران لبنان کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا، کیونکہ ایران نے اسے مفاہمتی یادداشت کا حصہ بنانے پر زور دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق لبنان میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، اگرچہ زمینی صورتحال اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکی۔
آگے کیا ہوگا؟
دوحہ مذاکرات کو کسی بڑی سیاسی پیش رفت کے بجائے تکنیکی اعتماد سازی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
آئندہ مذاکرات کی کامیابی بنیادی طور پر 3 اہم عوامل پر منحصر ہوگی:
- آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو قابو میں رکھنا۔
- ایران کے منجمد اثاثوں کے استعمال یا رہائی کے معاملے میں عملی پیش رفت۔
- بعد کے مرحلے میں جوہری پروگرام پر جامع سیاسی مذاکرات کا آغاز۔
اگرچہ قطر اور پاکستان دونوں مذاکراتی عمل کو زندہ رکھنے کے لیے سرگرم ہیں، لیکن واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی برقرار ہے، جس کے باعث مستقل امن معاہدے تک پہنچنے کا راستہ ابھی طویل دکھائی دیتا ہے۔