قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے، جس میں دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں شریک تھیں جبکہ اطلاع ہے کہ آج جمعرات کو بھی یہ مذاکرات جاری رہیں گے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے معاملات پر پیش رفت کرنا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق ان مذاکرات کا انعقاد سیاسی عمل کو بچانے کے لیے ایک ہنگامی اقدام ہے۔
دعویٰ کر چکا ہے، جن میں سے 6 ارب ڈالر قطر میں موجود ہیں، تاہم ان کی منتقلی مذاکرات سے مشروط ہے۔
سیاسی تجزیہ کار محمد صالح صدقیان کا کہنا ہے کہ اگر اثاثوں کے معاملے پر تعطل برقرار رہا تو ایران پر اندرونی دباؤ بڑھے گا۔
ایسی صورت میں تہران دوبارہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا عسکری محاذ آرائی کی طرف جا سکتا ہے، جس سے خطے میں جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے اندر مفاہمت کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ حکومت نے بغیر کسی ٹھوس معاوضے کے سب کچھ دے دیا ہے۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلنے اور عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی سے فائدہ اٹھایا ہے، جبکہ ایران کو وعدے کے مطابق اپنے اثاثے تاحال مکمل طور پر حاصل نہیں ہوئے۔
دریں اثنا ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ اگر منجمد اثاثوں پر پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو ایران مذاکرات روک دے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایران کی جانب سے امریکہ پر مزید دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے تاکہ وہ اپنی شرائط منوا سکے۔
دوسری جانب ڈاکٹر لقا مکی کا کہنا ہے کہ ایران کو بھی اس صورتحال سے نقصان ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مفاہمت کے بعد سے ایران 50 ملین بیرل تیل فروخت کر چکا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کا مطلب امریکی پابندیوں کی واپسی اور جنگ کا دوبارہ آغاز ہوگا، جو کسی فریق اور خطے کے مفاد میں نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مذاکرات صرف مالیاتی نہیں بلکہ آبنائے ہرمز پر ایرانی تسلط کے گرد گھومتے ہیں۔
ایران اس آبی گزرگاہ کو صرف چلانا نہیں بلکہ اس پر مکمل کنٹرول چاہتا ہے، جس سے نہ صرف امریکہ بلکہ خطے کے دیگر ممالک پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ کار ایاد الرفاعی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کے معاہدے کی بنیادیں کمزور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ سیاسی حکمت عملی اور فریقین کی عدم دلچسپی اس پورے عمل کو کسی بڑے دھماکے یا بحران کی طرف لے جا سکتی ہے۔