حال ہی میں ایک ایسی تاریخی اور غیر معمولی لہر سامنے آئی ہے، جس نے عالمی بینکوں اور دولت کے انتظام سے وابستہ کمپنیوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
مزید پڑھیں
’بھاری رقوم کی منتقلی‘ (Great Wealth Transfer) کے نام سے معروف اس رجحان کے تحت ’بے بی بومرز‘ نسل کی دسیوں ٹریلین ڈالر کی دولت اب ’ملینیئلز‘ (Millennials) اور جنریشن زی (Gen Z) نسل کو منتقل ہو رہی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 2048 تک صرف امریکہ میں 60 ٹریلین ڈالر سے زائد کی دولت نئی نسل کے ہاتھوں میں منتقل ہو جائے گی۔
روایتی سرمایہ کاری اور نئی ترجیحات
مالیاتی ادارے دولت کی منتقلی سے زیادہ اس بات سے پریشان ہیں کہ نئی نسل پرانی حکمتِ عملیوں کو مسترد کر رہی ہے۔
نوجوان سرمایہ کار روایتی شیئرز اور بانڈز کے بجائے کرپٹو کرنسی، ٹیک اسٹارٹ اپس اور متبادل اثاثوں میں سرمایہ کاری کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور خود مختاری
نئی نسل مالی مشیروں پر انحصار کرنے کے بجائے ڈیجیٹل ایپس اور کم قیمت پلیٹ فارمز کو ترجیح دے رہی ہے۔
بینک آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 21 سے 45 سال کے 90 فیصد سرمایہ کار متبادل اثاثوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، جو بزرگ نسل کے 15 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
بینکنگ سیکٹر کو اربوں ڈالر کا نقصان
فرانسیسی کمپنی کیپ جیمنی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2022 سے 2025 کے درمیان روایتی بینکوں اور ویلتھ مینجمنٹ کمپنیوں نے اپنے زیر انتظام 1.5 ٹریلین ڈالر کے اثاثے کھو دیے ہیں۔
اس دوران نوجوانوں نے اپنی دولت لچکدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی نئی کمپنیوں میں منتقل کر دی ہے۔
کمپنیوں کا بقا کا سوال
بلوم برگ کے مطابق یہ تبدیلی خاندانی کاروباروں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ کمپنیاں جو اپنے بانیوں کی شخصیت سے جڑی ہوئی تھیں، نئی نسل کی قیادت میں قائم رہ سکیں گی؟
ماہرین کے مطابق اس منتقلی کا انحصار اب پیشہ ورانہ انتظام اور جانشینوں کی اہلیت پر ہے۔
وال اسٹریٹ کے ہنگامی فیصلے
روایتی ادارے اب نوجوانوں کو راغب کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔
مورگن اسٹینلے اور چارلس شواب جیسی بڑی کمپنیوں نے بھی نجی کمپنیوں کے اسٹاک اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری شروع کر دی ہے تاکہ وہ اس تبدیلی کو سنبھال سکیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دولت کی اس منتقلی نے وال اسٹریٹ کے روایتی اصولوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اب بینکوں کے درمیان مقابلہ صرف دولت کے انتظام تک محدود نہیں، بلکہ یہ جنگ اس بات پر ہے کہ کون سی تنظیم نوجوانوں کے ڈیجیٹل کلچر اور ان کی سوچ سے ہم آہنگ رہ پاتی ہے۔