براہ راست نشریات

امریکا، ایران مذاکرات میں پیش رفت، ثالثوں نے راستہ ہموار کر دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات

پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی کے نتیجے میں دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔
دونوں فریقوں نے ایران میں سوگ کی تقریبات کے بعد جلد از جلد مذاکرات کا نیا دور شروع کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ رابطے کا مستقل چینل قائم کرنے اور اہم متنازع امور پر بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

پاکستان، جو گزشتہ کئی ماہ سے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے تصدیق کی ہے کہ دوحہ میں ثالثوں کے ذریعے ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک نے مثبت پیش رفت حاصل کی ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ پاکستانی اور قطری ثالثوں نے دوحہ میں ایرانی اور امریکی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت اور اس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی لوسرن سربراہی کانفرنس کے نتائج پر مثبت پیش رفت ہوئی۔

مزید پڑھیں

مذاکرات کی جلد بحالی

وزارتِ خارجہ کے مطابق اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کی سرکاری تقریبات کے اختتام کے فوراً بعد مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔ 

یہ تقریبات 4 جولائی سے شروع ہو کر 9 جولائی تک ملک بھر میں جاری رہنے کا امکان ہے۔

اس سے قبل قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی تھی کہ قطری اور پاکستانی ثالثوں نے امریکی اور ایرانی مذاکراتی وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں مکمل کر لی ہیں، جن میں اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اور سوئٹزرلینڈ کی لوسرن کانفرنس کی روشنی میں اہم امور پر مثبت پیش رفت ہوئی۔

دوحہ میں سفارتی سرگرمیاں

منگل اور بدھ کو دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے سفارتی اور تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوئے۔ 

ان کا مقصد گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔

ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کی۔ 

انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مستقل رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ 

ان کے مطابق مذاکرات میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

دوسری جانب امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی منگل کو دوحہ پہنچے، جہاں انہوں نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کی اور امریکا و ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا، تاہم وہ تکنیکی مذاکرات میں شریک نہیں ہوئے۔

کشیدگی کے باوجود مذاکرات جاری

واضح رہے کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے تھے۔ 

دونوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جس کی وجہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ایران سے منسوب حملے قرار دیے گئے۔

آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی کشیدگی کا نقشہ اور منظر

اس کے بعد امریکا نے جنوبی ایران میں فوجی اہداف پر حملے کیے، جبکہ ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی مفادات سے وابستہ اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

ایران اب بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر اپنی خودمختاری برقرار رکھنے اور خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کے مؤقف پر قائم ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے تحت بین الاقوامی آبناؤں میں جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کی ضمانت دی گئی ہے، اگرچہ ایران نے اس معاہدے کی توثیق نہیں کی۔

اسی تنازع کے ساتھ ساتھ ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی جیسے معاملات بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے اہم ترین نکات میں شامل ہیں۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag