براہ راست نشریات

جنگ کے بعد ایرانی پالیسیاں اور سماجی ڈھانچہ کس طرح بدل رہے ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران کا بدلتا ہوا سماجی ڈھانچہ اور تہران کا سیاسی نظام
نوجوان نسل معاشی مسائل کے ساتھ سماجی آزادیوں اور اظہار رائے کے حقوق پر زیادہ زور دیتی ہے (فوٹو: اے آئی)

ایران میں جنگ اور اس کے بعد ہونے والی علاقائی پیش رفت نے ملکی ڈھانچے کو نئے سرے سے تشکیل دینا شروع کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق تہران کی گلیوں اور کیفیز میں اب ایک ایسی فضا ہے، جہاں ماضی کی یکسانیت کے برعکس بالکل مختلف سوچ اور متضاد طرزِ زندگی ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

معیشت: عوام کی پہلی ترجیح

جنوبی تہران کے عوامی کیفے میں بیٹھنے والے شہریوں کے نزدیک معاشی حالات کی بہتری اب اولین مقصد ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ حکام کو عوامی خدمات اور ملکی معیشت کی بحالی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ برسوں سے جاری بحرانوں کا خاطر خواہ حل ممکن ہو سکے۔

نوجوانوں کے مطابات میں تبدیلی

ایران کا بدلتا ہوا سماجی ڈھانچہ اور تہران کا سیاسی نظام
جنوبی تہران کے عوامی کیفے میں بیٹھنے والے شہریوں کے نزدیک معاشی حالات کی بہتری اب اولین مقصد ہے (فوٹو: اے آئی)

دوسری جانب جدید کیفے میں موجود نوجوان نسل معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ سماجی آزادیوں اور اظہار رائے کے حقوق پر زیادہ زور دیتی ہے۔

انٹرنیٹ تک آسان رسائی اور معلومات کی فراوانی نے نئی نسل کی سوچ کو دو دہائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ جرات مند بنا دیا ہے۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

روایتی سیاسی نظام میں نئی بحث

جنگ کے خاتمے کے بعد ملکی فیصلوں میں ’ایک آواز‘ کا تصور کمزور پڑ گیا اور اب اہم معاملات پر اختلاف رائے کی گنجائش بڑھ رہی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق حکومتی ایوانوں میں بھی اب ایسی بحثیں دیکھی جا رہی ہیں جو ماضی میں غیر معمولی سمجھی جاتی تھیں۔ 

سیاسی تجزیہ کار مہدی عزیزی کے مطابق جنگ میں قیادت کے بھاری نقصان کے باوجود ریاستی نظام فعال رہا، تاہم حکومتی اداروں میں یکجہتی کا وہ مثالی معیار اب بھی درکار ہے جو تعمیر نو کے اس دور میں ضروری ہے۔

ایرانی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی اور تہران صرافہ بازار میں ڈالر کی قیمت میں گراوٹ
صارفین کے مطابق معاہدے سے بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا (فوٹو: الجزیرہ)

ایران نئی تبدیلیوں کی جانب

تاریخ کے پروفیسر حسین دہباشی کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر اور اہم عسکری قیادت کی تبدیلیوں کے بعد ایران اب پہلے سے زیادہ بدل چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست کو اب نہ صرف داخلی معاشی مطالبات بلکہ سماجی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی کہیں زیادہ لچک دکھانے کی ضرورت ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں ہونے والی یہ خاموش تبدیلیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ملک اب ’انقلابی منطق‘ سے ’ریاستی منطق‘ کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ 

مستقبل میں معیشت اور معاشرتی مطالبات ہی تہران کی اندرونی اور خارجی پالیسیوں کے مرکزی محرکات ہوں گے، جن کا حتمی خاکہ فی الحال تشکیل کے مراحل میں ہے۔