ایران میں جنگ اور اس کے بعد ہونے والی علاقائی پیش رفت نے ملکی ڈھانچے کو نئے سرے سے تشکیل دینا شروع کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق تہران کی گلیوں اور کیفیز میں اب ایک ایسی فضا ہے، جہاں ماضی کی یکسانیت کے برعکس بالکل مختلف سوچ اور متضاد طرزِ زندگی ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔
معیشت: عوام کی پہلی ترجیح
جنوبی تہران کے عوامی کیفے میں بیٹھنے والے شہریوں کے نزدیک معاشی حالات کی بہتری اب اولین مقصد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکام کو عوامی خدمات اور ملکی معیشت کی بحالی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ برسوں سے جاری بحرانوں کا خاطر خواہ حل ممکن ہو سکے۔
نوجوانوں کے مطابات میں تبدیلی
دوسری جانب جدید کیفے میں موجود نوجوان نسل معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ سماجی آزادیوں اور اظہار رائے کے حقوق پر زیادہ زور دیتی ہے۔
انٹرنیٹ تک آسان رسائی اور معلومات کی فراوانی نے نئی نسل کی سوچ کو دو دہائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ جرات مند بنا دیا ہے۔
روایتی سیاسی نظام میں نئی بحث
جنگ کے خاتمے کے بعد ملکی فیصلوں میں ’ایک آواز‘ کا تصور کمزور پڑ گیا اور اب اہم معاملات پر اختلاف رائے کی گنجائش بڑھ رہی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق حکومتی ایوانوں میں بھی اب ایسی بحثیں دیکھی جا رہی ہیں جو ماضی میں غیر معمولی سمجھی جاتی تھیں۔
سیاسی تجزیہ کار مہدی عزیزی کے مطابق جنگ میں قیادت کے بھاری نقصان کے باوجود ریاستی نظام فعال رہا، تاہم حکومتی اداروں میں یکجہتی کا وہ مثالی معیار اب بھی درکار ہے جو تعمیر نو کے اس دور میں ضروری ہے۔
ایران نئی تبدیلیوں کی جانب
تاریخ کے پروفیسر حسین دہباشی کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر اور اہم عسکری قیادت کی تبدیلیوں کے بعد ایران اب پہلے سے زیادہ بدل چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست کو اب نہ صرف داخلی معاشی مطالبات بلکہ سماجی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی کہیں زیادہ لچک دکھانے کی ضرورت ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں ہونے والی یہ خاموش تبدیلیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ملک اب ’انقلابی منطق‘ سے ’ریاستی منطق‘ کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
مستقبل میں معیشت اور معاشرتی مطالبات ہی تہران کی اندرونی اور خارجی پالیسیوں کے مرکزی محرکات ہوں گے، جن کا حتمی خاکہ فی الحال تشکیل کے مراحل میں ہے۔