دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان قطر اور پاکستان کی ثالثی میں بالواسطہ تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔
واشنگٹن سفارتی راستہ جاری رکھنا چاہتا ہے، تاہم ٹرمپ نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی آپشن بھی میز پر رکھا ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آج بدھ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان قطر اور پاکستان کی ثالثی میں بالواسطہ تکنیکی مذاکرات کا نیا دور شروع ہو گیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو آگے بڑھانا اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مذاکرات سے باخبر ایک سفارت کار نے بتایا کہ امریکی اور ایرانی حکام براہِ راست ایک دوسرے سے نہیں مل رہے بلکہ قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے تکنیکی سطح پر مختلف نکات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ کی جھیل لوسرن میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی بنیاد پر آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ دوحہ میں جاری ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے سینئر مذاکرات کار اور ماہرین پر مشتمل ٹیمیں شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی وفد نے گزشتہ روز قطر کے وزیر اعظم سے ملاقات کر کے تکنیکی مذاکرات کا فریم ورک طے کیا، تاہم وہ خود مذاکراتی اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے۔
اگرچہ دوحہ میں سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی آپشن بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کو ایران کے خلاف دوبارہ وسیع فوجی کارروائی کے مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، لیکن انہوں نے فی الحال سفارتی عمل کو جاری رکھنے کو ترجیح دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے معاونین کو یہ بھی بتایا کہ اگر جوہری معاہدے کے لیے مقررہ 18 اگست کی مہلت سے آگے جانا پڑے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک اس مرحلے پر بڑے فوجی حملے مذاکرات کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔
تاہم اگر بات چیت ناکام ہوئی تو فوجی کارروائی کا آپشن بدستور موجود رہے گا۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے واضح کیا کہ دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کسی اعلیٰ سطحی براہِ راست ملاقات کا کوئی شیڈول نہیں ہے۔
ان کے مطابق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی دوحہ آمد کا مقصد قطری حکام سے خطے کی صورتحال، ایران اور لبنان سمیت مختلف علاقائی معاملات پر مشاورت کرنا ہے۔
قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے امریکی ایلچیوں سے ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ قطر امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت سے متعلق تمام مذاکراتی عمل میں اپنی ثالثی جاری رکھے گا اور سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کرے گا۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق امریکی ایلچیوں نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ واشنگٹن مذاکراتی عمل جاری رکھنے اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔
دوسری جانب ایران نے عندیہ دیا ہے کہ دوحہ مذاکرات میں اس کے منجمد اثاثوں کی رہائی کا معاملہ بھی زیر بحث آ سکتا ہے، تاہم تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکی وفد کے ساتھ براہِ راست ملاقات نہیں کرے گا۔
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران اس وقت تک کسی نئے مذاکراتی مرحلے میں داخل نہیں ہوگا جب تک مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔