براہ راست نشریات

ایران کا دوٹوک پیغام: وعدے پورے کرو، ورنہ مذاکرات بھول جاؤ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکہ مذاکرات

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شرائط پر عمل درآمد سے پہلے کسی نئے مذاکرات کا آغاز نہیں ہوگا، جبکہ لبنان میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ایران، امریکہ اور لبنان نے مشترکہ کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔

ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے آج منگل کے روز کہا ہے کہ ایران کی موجودہ سفارتی سرگرمیوں اور مذاکرات کا واحد مقصد مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے تمام وعدوں اور شرائط پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، اور تہران اس مرحلے پر کسی نئے مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنے گا۔

قالیباف نے زور دے کر کہا کہ ایران اس وقت تک کسی نئی بات چیت یا نئے معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا جب تک مفاہمتی یادداشت میں شامل تمام شرائط عملی طور پر پوری نہیں کر دی جاتیں۔ 

مزید پڑھیں

ان کے مطابق موجودہ اجلاس صرف انہی نکات پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور ان پر عمل درآمد کی رفتار تیز کرنے کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران، امریکہ اور لبنان نے باہمی اتفاق سے ایک مشترکہ نگرانی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کا مقصد لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے، جنگ بندی پر عمل درآمد اور

 ممکنہ خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنا ہے۔ 

یہ کمیٹی آئندہ مرحلے میں سیکیورٹی اور سیاسی اقدامات کی پیش رفت کا بھی جائزہ لے گی۔

امریکا ایران مذاکرات

یاد رہے کہ 14 نکات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران اور امریکہ کو 60 روز کی مہلت دی گئی ہے تاکہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والے شدید بحران کا سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔ 

اس مدت کے دوران دونوں ممالک ایرانی جوہری پروگرام، پابندیوں، علاقائی سلامتی، کشیدگی میں کمی اور دیگر حساس معاملات پر تفصیلی مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ ایک جامع اور دیرپا معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ہم سے جڑے رہیں

4 ماہ سے جاری اس تنازع نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ 

عالمی تیل اور گیس کی رسد متاثر ہوئی، سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور خلیجی خطے کے متعدد ممالک ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں آئے، جس سے علاقائی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات جنم لے چکے ہیں۔

اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد ایران اور لبنان کے شہریوں کی ہے، جبکہ بنیادی ڈھانچے کو بھی وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

ChatGPT Image 15 يونيو 2026، 01 31 20 م

جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ 

یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔ 

ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اس کے مزید سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبریں اور رپورٹس ایک جگہ پر، کلک کریں