براہ راست نشریات

آبنائے ہرمز: ٹرمپ کا قطر میں ہنگامی مذاکرات کا اعلان، ایران کی تردید

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی کشیدگی کا نقشہ اور منظر

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔

مزید پڑھیں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، جس کے بعد منگل کو قطر میں اہم مذاکرات متوقع ہیں، تاہم ایران نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

پس منظر اور امریکی موقف

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر رواں ہفتے قطر کا دورہ کریں گے۔ 

واشنگٹن کا اصرار ہے کہ تہران کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تکنیکی سطح پر بات چیت کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا تاکہ امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی کشیدگی کا نقشہ اور منظر

ایران کا ردعمل اور تردید

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس ہفتے کوئی تکنیکی اجلاس طے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا انعقاد مناسب ماحول اور وقت کے تعین کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ 

یاد رہے کہ تہران قطر کے ساتھ اپنے مشاورت کے عمل کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اثاثوں کی بحالی اور معاشی پہلو

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق امریکہ کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر کی رہائی متوقع ہے۔

یہ رقم کل 12 ارب ڈالر کے ان اثاثوں کا حصہ ہے، جو تیل اور پیٹرو کیمیکل سیکٹر پر پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ایران کو واپس ملیں گے۔

آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی کشیدگی کا نقشہ اور منظر
امریکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے متبادل راستے چاہتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

آبنائے ہرمز اور نئی کشیدگی

ہرمز کے معاملے پر حالیہ تصادم اُس وقت شروع ہوا ہے، جب امریکی جہاز ’کیکو‘ پر حملے کے بعد امریکہ نے جزیرہ قشم اور سیریک میں ایرانی اہداف پر فضائی حملے کیے۔

اس کے جواب میں تہران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، تاہم فی الحال کشیدگی تھمی ہوئی ہے لیکن دونوں جانب سے محتاط رویہ برقرار ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبریں اور رپورٹس ایک جگہ پر، کلک کریں

مستقبل کے امکانات اور تنازعات

فی الحال دونوں ممالک کے درمیان تعطل کی بڑی وجہ مذاکرات میں مفاہمت کی شق نمبر 5 ہے۔

اس شق کے تحت امریکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے متبادل راستے چاہتا ہے، جبکہ ایران ان اقدامات کی مخالفت کر رہا ہے۔ 

یاد رہے کہ طے پانے والا یہ عارضی معاہدہ 14 نکات پر مشتمل ہے جس کا مقصد جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات پر بات چیت تک جنگ کو روکنا ہے۔

مبصرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور فریقین کے متضاد بیانات صورتحال کی پیچیدگی ظاہر کرتے ہیں۔

اگرچہ سفارتی چینلز فعال ہیں، تاہم آبنائے ہرمز پر بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ دونوں ملکوں کا بندوق پر انگلی رکھے ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عارضی جنگ بندی کو دیرپا امن میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔