براہ راست نشریات

قطر نے دوحہ میں امریکا، ایران ملاقات کی تردید کر دی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات

قطر نے واضح کیا ہے کہ دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان کوئی براہِ راست یا اعلیٰ سطحی ملاقات طے نہیں ہے۔ امریکی عہدیدار اسٹیو ویتکوف اور جیرڈ کشنر قطر میں صرف ثالثوں سے مشاورت کریں گے۔
قطر کے مطابق ایران کے 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز ابھی تہران منتقل نہیں ہوئے، جبکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور کشیدگی کم کرنا اس وقت اہم ترجیح ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ نے آج منگل کے روز واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان کسی براہِ راست اعلیٰ سطحی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں، جبکہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویتکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر دوحہ میں موجود ہیں تاکہ قطری ثالثوں سے خطے کی صورتحال اور ایران سے متعلق مذاکرات پر مشاورت کر سکیں۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ویٹکوف اور کشنر ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات نہیں کریں گے، بلکہ ان کی موجودگی کا مقصد قطر میں ثالثوں کے ساتھ مختلف علاقائی معاملات، خصوصاً ایران، لبنان اور دیگر اہم فائلوں پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

مزید پڑھیں

انہوں نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق آئندہ چند روز میں امریکا اور ایران کے درمیان نہ کوئی اعلیٰ سطحی ملاقات طے ہے اور نہ ہی براہِ راست مذاکرات ہوں گے۔

ماجد الانصاری نے مزید بتایا کہ ایران کے 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز اب تک تہران منتقل نہیں کیے گئے۔ 

یہ رقم 2023 کے معاہدے کے تحت صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 

اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے مختص ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ قطر، سلطنتِ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور بحری گزرگاہوں کے حوالے سے مسلسل رابطے میں ہے۔ 

ان کے مطابق قطر کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا اور وہاں سے بارودی سرنگوں کا خاتمہ ہے۔

امریکہ ایران معاہدہ

ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک کے لیے جہاز رانی کی آزادی ایک بنیادی حق ہے، اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا اس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ 

انہوں نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے میں فرانس کے کردار کو بھی سراہا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت تمام کوششوں کا محور خطے میں جنگ سے پہلے والی امن و استحکام کی فضا بحال کرنا ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی پر قابو پانے کے لیے آبنائے ہرمز سے متعلق خصوصی ہاٹ لائن بھی استعمال کی گئی۔

دوسری جانب، مذاکرات سے متعلق تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایرانی اور امریکی وفود منگل کو دوحہ پہنچنے والے ہیں۔ 

ہم سے جڑے رہیں

امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویتکوف اور جیرڈ کشنر قطری وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ممکنہ جوہری معاہدے پر تبادلہ خیال کریں گے۔ 

امریکی ویب سائٹ Axios نے وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں امریکی عہدیدار قطری قیادت کے دیگر نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جبکہ بدھ کے روز امریکی اور ایرانی وفود قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے الگ الگ مذاکرات کریں گے۔

یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے اور آبنائے ہرمز ایک بار پھر علاقائی اور عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ توانائی کی عالمی ترسیل اور جوہری مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

ChatGPT Image 27 يونيو 2026، 01 56 55 ص

اگرچہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے 60 روز کی مہلت موجود ہے، تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جس سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوحہ میں متوقع ملاقات انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے اور اس کے نتائج سے سب جلد آگاہ ہو جائیں گے۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کی درخواست ایران نے کی تھی، جبکہ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت اسٹیو ویتکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا، بشرطیکہ امریکا بھی اپنے وعدوں کی پابندی کرے۔ 

ان کے مطابق ایران کا طرزِ عمل عقل و دانش پر مبنی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر ملک اپنے دفاع میں فیصلہ کن اقدام کرے گا۔

ٹرمپ ایران معاہدہ

ادھر ایران نے ایک مرتبہ پھر امریکی دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تکنیکی سطح پر امریکی وفد کے ساتھ کسی براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں۔ 

وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایک ایرانی تکنیکی وفد اس ہفتے کے آخر میں دوحہ جائے گا تاکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔

دریں اثنا، آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی اختلافات برقرار ہیں۔ 

ایران جنوبی بحری راستے کے بجائے اپنی مقرر کردہ گزرگاہوں پر عمل درآمد پر اصرار کر رہا ہے۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا کہ ایران اُن جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالے گا جو تہران کی مقرر کردہ بحری راہداریوں پر عمل نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نے عمان کو باضابطہ طور پر نئی بحری گزرگاہیں مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے جلد تکنیکی مذاکرات بھی متوقع ہیں تاکہ نئی بحری راہداریوں کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبریں اور رپورٹس ایک جگہ پر، کلک کریں