براہ راست نشریات

ایران کی بڑی کامیابی، قطر 6 ارب ڈالر کے اثاثے آزاد کرے گا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران کے منجمد اثاثے

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ قطر کے ساتھ معاہدے کے تحت ایران کے منجمد 12 ارب ڈالر میں سے 6 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے، جبکہ باقی رقم کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
ادھر دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم تکنیکی مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ قطر کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت دوحہ میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر ایران کو واپس کیے جائیں گے۔ 

یہ رقم قطر میں موجود ایران کے مجموعی 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کا نصف ہے۔

ایرانی ایوانِ صدر کی جانب سے آج پیر کو جاری بیان میں پزشکیان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے مطابق 6 ارب ڈالر کی منجمد رقم کا اجرا کر کے ایران منتقل کیا جائے گا، جبکہ باقی 6 ارب ڈالر کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی موجودہ توجہ بقیہ منجمد اثاثوں کی بازیابی پر مرکوز ہے تاکہ ایران اپنی تمام رقوم دوبارہ حاصل کر سکے۔

مزید پڑھیں

دوحہ میں اہم مذاکرات متوقع

دوسری جانب العربیہ کے مطابق باخبر ذرائع نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیمیں آئندہ چند روز میں دوحہ میں ملاقات کریں گی۔ 

یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے سلسلے کا حصہ ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق امریکا اور قطر ایک ایسے طریقہ کار پر بھی کام کر رہے ہیں جس کے تحت ایران اپنے منجمد اثاثوں کے ایک حصے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے استعمال کر سکے۔

ہرمز بھی ایجنڈے میں شامل

ذرائع نے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی، جہاں گزشتہ دو روز کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور جوابی حملوں نے جنگ بندی اور آئندہ مذاکرات کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

ہم سے جڑے رہیں

اسی مقصد کے لیے ثالث ممالک نے دونوں فریقوں کے درمیان ہنگامی رابطوں کے خصوصی ذرائع بھی قائم کیے ہیں، تاکہ کسی بھی غیر متوقع واقعے کی صورت میں فوری طور پر کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

امریکا اور ایران کے مؤقف میں اختلاف برقرار

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ کئی ہفتوں سے یہ مؤقف دہراتے رہے ہیں کہ امریکا ایران کو ایک ڈالر بھی نہیں دے گا اور منجمد ایرانی اثاثوں کو صرف امریکی مصنوعات کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

تاہم ایرانی حکام نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ رقم ایران کی ملکیت ہے اور تہران اسے اپنی ضرورت اور ترجیحات کے مطابق استعمال کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبریں اور رپورٹس ایک جگہ پر، کلک کریں