تہران اور واشنگٹن کے مابین منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کا معاملہ ایک پیچیدہ سفارتی اور معاشی تنازع بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں
گزشتہ 47 برس کے دوران جمع ہونے والی یہ رقوم، جن کا تخمینہ بلومبرگ کے مطابق 100 سے 120 ارب ڈالر ہے، اب دونوں ممالک کے درمیان سیاسی رسہ کشی کا مرکز ہیں۔
امریکی مؤقف: ہمدردی یا دباؤ؟
امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اثاثے ایک انسانی راستے کے تحت ہی جاری کیے جائیں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اِن رقوم سے امریکی کسانوں سے گندم، مکئی اور سویا بین خریدی جائے گی، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ رقوم کی ادائیگی براہِ راست تہران کے بجائے تصدیق شدہ سپلائرز کو کی جائے گی۔
تہران کا جواب، خود مختاری کا سوال
ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہمتی نے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اثاثوں پر ایران کا ملکیتی حق مسلمہ ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ وہ اشیائے خورونوش خرید سکتا ہے، تاہم وہ امریکی مصنوعات تک محدود رہنے کی کسی بھی شرط کو تسلیم کرنے کا پابند نہیں۔
اثاثوں کا پھیلاؤ اور پیچیدگیاں
واضح رہے کہ ایران کے یہ اربوں ڈالر کے اثاثے دنیا بھر میں بکھرے ہوئے ہیں۔
چین میں 20 ارب، عراق میں 15 ارب، جنوبی کوریا اور بھارت میں 7، 7 ارب، قطر میں 6 ارب جبکہ دیگر یورپی ممالک، جاپان اور امریکا میں 10 ارب ڈالر موجود ہیں۔
یہ رقوم پابندیوں، قانونی تنازعات اور بینکنگ رکاوٹوں کی وجہ سے جکڑی ہوئی ہیں۔
امکانات اور معاشی مجبوری
تہران اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے فوری لیکویڈیٹی کا خواہاں ہے، جبکہ واشنگٹن کسی بھی مالیاتی پیش رفت کو اپنے سیاسی اور سیکیورٹی مطالبات سے مشروط کرنا چاہتا ہے۔
اس معاملے کا دارومدار اگلے 60 دنوں میں ہونے والی سیاسی مفاہمت اور اس پر عمل کے طریقے پر منحصر ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تنازع کا بنیادی نکتہ صرف رقوم کی دستیابی نہیں بلکہ اس پر کنٹرول ہے۔
ایک جانب جہاں واشنگٹن اسے پابندیوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا ذریعہ سمجھتا ہے، وہیں ایران اسے اپنی ملکیتی اور خود مختار اثاثے قرار دیتا ہے۔
فی الحال یہ جنگ محض مالیاتی نہیں بلکہ دونوں ممالک کی سیاسی ساکھ اور اثر و رسوخ کی آزمائش ہے۔