براہ راست نشریات

سنگین خطرہ: کیا امریکہ پر قرضوں کا بوجھ عالمی معیشت کو لے ڈوبے گا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی معیشت پر بڑھتے ہوئے قرضوں اور مالیاتی بحران کا دباؤ
امریکی قومی قرض کا حجم 39 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے (فوٹو: اے آئی)

امریکی معیشت اس وقت تاریخ کے سنگین ترین مالیاتی بحران سے گزر رہی ہے، جہاں قومی قرض کا حجم 39 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 2 دہائیوں پر محیط جنگوں، وبائی امراض اور ٹیکسوں میں کمی کے باعث واشنگٹن اب قرضوں کے ایسے جال میں پھنس چکا ہے جہاں سے نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔

قرضوں کے انبار: پس منظر اور وجوہات

اکیسویں صدی کے آغاز میں امریکی بجٹ سرپلس میں تھا، مگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بحران اور نائن الیون کے بعد صورتحال بدل گئی۔

افغانستان اور عراق کی مہنگی جنگوں، 2008ء کے مالیاتی بحران اور کورونا وبا نے سرکاری اخراجات کو بے قابو کر دیا، جس سے قرضوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔

معیشت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر نظر رکھیں، کلک کریں

اخراجات اور آمدن کا عدم توازن

ٹیکسوں میں کٹوتیوں کی پالیسیوں نے امریکہ میں وفاقی آمدنی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ، جارج ڈبلیو بش اور رونالڈ ریگن کے ادوار میں ٹیکس کم کیے گئے، جس کا مقصد معاشی نمو تھا، تاہم نتیجہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان ایک وسیع خلیج کی صورت میں نکلا، جو مستقل خسارے کا باعث بنی۔

عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر کی بالادستی اور ڈی۔ڈالرائزیشن کے رجحان کا ایک تصویری خاکہ
آج امریکی کرنسی اپنے وجود کے سب سے اہم موڑ پر کھڑی ہے (فوٹو: اے آئی)

سودی ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا بوجھ

قرضوں پر بڑھتی ہوئی شرح سود نے بالآخر صورتحال کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دیا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب امریکہ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف سود کی ادائیگی پر خرچ کر رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سالانہ سود کی ادائیگی ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو وفاقی بجٹ کا اہم حصہ بن گئی ہے۔

امریکی معیشت پر بڑھتے ہوئے قرضوں اور مالیاتی بحران کا دباؤ
وفاقی قرضہ سن 2000ء میں تقریباً 5.6 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں 39 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا (فوٹو: رائٹرز)

چیلنجز اور سماجی تحفظ

بڑھتی ہوئی آبادی اور ریٹائرمنٹ کے اخراجات، خاص طور پر ’میڈی کیئر‘ اور سوشل سیکیورٹی امریکی حکومت پر اضافی اور بڑے بوجھ بن چکے ہیں۔

کانگریس بجٹ آفس کی پیش گوئی ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے افراد کے باعث سرکاری اخراجات میں اضافہ جاری رہے گا، جس سے معیشت پر دباؤ مزید بڑھے گا اور سرمایہ کاری کی گنجائش محدود ہو جائے گی۔

امریکی معیشت پر بڑھتے ہوئے قرضوں اور مالیاتی بحران کا دباؤ
2025ء کے آخر تک امریکہ میں قابل تجارت قرض پر اوسط شرح سود بڑھ کر 3.36 فیصد ہو گئی (فوٹو: رائٹرز)

کیا امریکی ڈالر اپنی حیثیت کھو دے گا؟

عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے مطابق ڈالر اب بھی عالمی ذخائر کا 56.9 فیصد ہے۔ اگرچہ امریکی قرضوں پر خدشات بڑھ رہے ہیں، لیکن ابھی تک عالمی سطح پر ڈالر کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔

فنڈ کے مطابق امریکی مارکیٹ کی وسعت اور قانونی تحفظ اسے اب بھی دنیا کی محفوظ ترین سرمایہ کاری بنائے ہوئے ہے۔

امریکی معیشت پر بڑھتے ہوئے قرضوں اور مالیاتی بحران کا دباؤ
کانگریس بجٹ آفس کے مطابق بڑھتی ہوئی عمر کے افراد کے باعث سرکاری اخراجات میں اضافہ جاری رہے گا (فوٹو: اے پی)

مستقبل کے امکانات اور انتباہ

’پین وارٹن بجٹ ماڈل‘ کے مطابق اگر قرض جی ڈی پی کے 210 فیصد تک پہنچ گئے تو معاشی استحکام ناممکن ہو جائے گا۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے 15 سے 25 برسوں میں امریکہ کو مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں