امریکی معیشت اس وقت تاریخ کے سنگین ترین مالیاتی بحران سے گزر رہی ہے، جہاں قومی قرض کا حجم 39 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 2 دہائیوں پر محیط جنگوں، وبائی امراض اور ٹیکسوں میں کمی کے باعث واشنگٹن اب قرضوں کے ایسے جال میں پھنس چکا ہے جہاں سے نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔
قرضوں کے انبار: پس منظر اور وجوہات
اکیسویں صدی کے آغاز میں امریکی بجٹ سرپلس میں تھا، مگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بحران اور نائن الیون کے بعد صورتحال بدل گئی۔
افغانستان اور عراق کی مہنگی جنگوں، 2008ء کے مالیاتی بحران اور کورونا وبا نے سرکاری اخراجات کو بے قابو کر دیا، جس سے قرضوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔
اخراجات اور آمدن کا عدم توازن
ٹیکسوں میں کٹوتیوں کی پالیسیوں نے امریکہ میں وفاقی آمدنی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ، جارج ڈبلیو بش اور رونالڈ ریگن کے ادوار میں ٹیکس کم کیے گئے، جس کا مقصد معاشی نمو تھا، تاہم نتیجہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان ایک وسیع خلیج کی صورت میں نکلا، جو مستقل خسارے کا باعث بنی۔
سودی ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا بوجھ
قرضوں پر بڑھتی ہوئی شرح سود نے بالآخر صورتحال کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دیا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب امریکہ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف سود کی ادائیگی پر خرچ کر رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سالانہ سود کی ادائیگی ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو وفاقی بجٹ کا اہم حصہ بن گئی ہے۔
چیلنجز اور سماجی تحفظ
بڑھتی ہوئی آبادی اور ریٹائرمنٹ کے اخراجات، خاص طور پر ’میڈی کیئر‘ اور سوشل سیکیورٹی امریکی حکومت پر اضافی اور بڑے بوجھ بن چکے ہیں۔
کانگریس بجٹ آفس کی پیش گوئی ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے افراد کے باعث سرکاری اخراجات میں اضافہ جاری رہے گا، جس سے معیشت پر دباؤ مزید بڑھے گا اور سرمایہ کاری کی گنجائش محدود ہو جائے گی۔
کیا امریکی ڈالر اپنی حیثیت کھو دے گا؟
عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے مطابق ڈالر اب بھی عالمی ذخائر کا 56.9 فیصد ہے۔ اگرچہ امریکی قرضوں پر خدشات بڑھ رہے ہیں، لیکن ابھی تک عالمی سطح پر ڈالر کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔
فنڈ کے مطابق امریکی مارکیٹ کی وسعت اور قانونی تحفظ اسے اب بھی دنیا کی محفوظ ترین سرمایہ کاری بنائے ہوئے ہے۔
مستقبل کے امکانات اور انتباہ
’پین وارٹن بجٹ ماڈل‘ کے مطابق اگر قرض جی ڈی پی کے 210 فیصد تک پہنچ گئے تو معاشی استحکام ناممکن ہو جائے گا۔
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے 15 سے 25 برسوں میں امریکہ کو مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔