چین کے مرکزی بینک نے ڈیجیٹل یوآن کے عالمی اور مقامی استعمال میں اضافے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں 2019ء سے اب تک مجموعی طور پر 2.47 ٹریلین ڈالر مالیت کے ریکارڈ لین دین کیے جا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بینک آف چائنا تجارتی بینکوں کو پس پردہ خصوصی ہدایات اور مراعات فراہم کر رہا ہے تاکہ بجلی کے بلوں، لاٹری اور دیگر سرکاری اخراجات میں ڈیجیٹل یوآن کا استعمال بڑھایا جا سکے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بینکوں کی کارکردگی کا جائزہ بھی اسی بنیاد پر لیا جائے گا۔
چینی حکام بینکوں پر سرحد پار لین دین، بالخصوص بیلٹ اینڈ روڈ
منصوبوں کے تحت ڈیجیٹل یوآن کے استعمال کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ چین میں قرضوں، لیٹر آف کریڈٹ اور بانڈز کی صورت میں اس نئی ڈیجیٹل کرنسی کو تیزی سے رواج دیا جا رہا ہے۔
بیجنگ کا یہ اقدام امریکہ کی مالیاتی پالیسی کے بالکل برعکس ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیبل کوائنز کی حمایت کی ہے لیکن مقامی سطح پر مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چین کا بنیادی مقصد مغربی اداروں کے زیر اثر عالمی ادائیگیوں کے نظام اور ڈالر پر انحصار کم کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی جغرافیائی و سیاسی مسئلے کی صورت میں چین کی بین الاقوامی تجارت اور مالیاتی بہاؤ ہر صورت برقرار رہ سکے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور ایران کے تنازعات نے ڈالر کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خطرات واضح کر دیے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں ڈالر سے چھٹکارا پانے اور یوان کو اپنانے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نومبر تک ڈیجیٹل یوآن کے ذریعے 16.7 ٹریلین یوآن کا لین دین ہوا، تاہم یہ اب بھی چائنا یونین پے کے سال 2025 کے 279 ٹریلین یوان کے مقابلے میں کافی کم ہے، جسے مزید بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
چینی حکومت نے حال ہی میں ڈیجیٹل یوآن پر سود کی ادائیگی کی اجازت دے کر ایک بڑی پالیسی تبدیلی کی ہے، جبکہ اس کرنسی کے ساتھ کام کرنے والے لائسنس یافتہ بینکوں کی تعداد بھی دگنی سے زائد کر کے 22 تک پہنچا دی گئی ہے۔
مرکزی بینک اسمارٹ کنٹریکٹس کے ذریعے خودکار ادائیگیوں کے تجربات کر رہا ہے، جن کا مقصد طبی انشورنس میں دھوکہ دہی کی روک تھام، گرین بجلی کے استعمال کی نگرانی اور سپلائی چین فنانسنگ جیسے شعبوں میں شفافیت اور درستگی کو یقینی بنانا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ عالمی معیشت کے 2 بڑے انجن ہیں جو اپنے اپنے مالیاتی معیار نافذ کر رہے ہیں، تاہم ڈیجیٹل یوان فی الحال بینکنگ نظام کے لیے تو موزوں ہے لیکن غیر ملکیوں کے لیے ابھی زیادہ آسان نہیں۔