امریکی ڈالر کا عالمی معیشت پر اثر و رسوخ گزشتہ ڈھائی صدیوں پر محیط ہے۔
مزید پڑھیں
4 جولائی 1776 کو آزادی کے اعلان کے بعد سے امریکی کانگریس نے مالیاتی خودمختاری کے لیے کوشاں ہو کر ڈالر کو اپنی معیشت کی بنیاد بنایا اور آج یہ کرنسی اپنے وجود کے سب سے اہم موڑ پر کھڑی ہے۔
ڈالر کا ارتقا اور وفاقی ریزرو کا قیام
آزادی کے ابتدائی برسوں میں امریکی کانگریس نے برطانوی پاؤنڈ کے اثر کو کم کرنے کے لیے اسپین کے ڈالر کو ترجیح دی۔
تاہم 1792 کے سکہ سازی قانون اور 1863 کے نیشنل بینکنگ ایکٹ کے بعد ’گرین بیکس‘ نے باقاعدہ مقبولیت حاصل کی، جس نے امریکی معیشت کو ایک نئی سمت دی۔
1913 میں امریکی فیڈرل ریزرو (مرکزی بینک) کا قیام عمل میں آیا تاکہ مانیٹری پالیسی کو کنٹرول کیا جا سکے۔
اس ادارے نے عالمی کساد بازاری کے دور میں انتہائی اہم کردار ادا کیا اور امریکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے مالیاتی اصلاحات نافذ کیں۔
برِٹن وڈز معاہدہ اور ڈالر کا سنہری دور
دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر 1944 میں ہونے والا برِٹن وڈز معاہدہ ڈالر کے لیے ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوا۔
اس معاہدے کے تحت امریکی ڈالر کو 35 ڈالر فی اونس سونے کی قیمت سے منسلک کیا گیا، جس سے ڈالر عالمی تجارت کی مرکزی کرنسی بن گیا۔
بعد ازاں یورپ اور ایشیا کی جنگ سے تباہ حال معیشتوں کے برعکس امریکی معیشت نے مستحکم بنیادوں پر ترقی کی۔
اس دور میں امریکی ڈالر نے برطانوی پاؤنڈ اور فرانسیسی فرانک جیسے حریفوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور عالمی مالیاتی نظام کا ’کنگ‘ بن کر ابھرا۔
پیٹرو۔ڈالر کا نظام اور سونے سے لاتعلقی
1971 میں صدر رچرڈ نکسن نے بڑھتے ہوئے افراطِ زر اور جنگی اخراجات کے دباؤ میں ڈالر کو سونے سے الگ کیا۔
بعد ازاں تیل کی تجارت کو ڈالر سے منسلک کر کے ’پیٹرو۔ڈالر‘ نظام متعارف کروایا گیا، جس نے عالمی سطح پر امریکی کرنسی کی مانگ کو مستقل طور پر برقرار رکھا۔
تاہم 2018 میں چین کی جانب سے ’پیٹرو۔یوآن‘ متعارف کرانے کے بعد سے اب ڈالر کی بالادستی کو پہلی بار سنجیدہ خطرات کا سامنا ہے۔
سونے سے منسلک ہونے کے باعث چینی کرنسی اب بین الاقوامی منڈیوں میں متبادل کے طور پر تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
ڈی۔ڈالرائزیشن کا بڑھتا رجحان
لندن کے مالیاتی ریسرچ فورم کے سروے کے مطابق دنیا کے 74 مرکزی بینک اپنے ذخائر میں ڈالر کا تناسب کم کر رہے ہیں۔
امریکی پابندیوں اور غیر متوقع مالیاتی فیصلوں کی وجہ سے بہت سے ممالک اب تجارت کے لیے مقامی کرنسیوں یا سونے کا رخ کر رہے ہیں۔
سی این این کے مطابق گزشتہ 2 دہائیوں میں مرکزی بینکوں کے ذخائر میں ڈالر کا حصہ اپنی نچلی ترین سطح پر آ گیا ہے۔
اگرچہ ڈالر اب بھی عالمی سطح پر ذخائر کا 58 فیصد ہے، لیکن ’ڈی۔ڈالرائزیشن‘ کا عمل اب ایک ٹھوس اور منظم حقیقت بن چکا ہے۔
امریکی قرضوں کا بوجھ اور خدشات
جون 2026 کے اختتام تک امریکی قرضہ 39 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 کے آخر تک یہ قرضہ 41 ٹریلین ڈالر تک جا سکتا ہے۔ انوی سکو کی رپورٹ کے مطابق 61 فیصد مرکزی بینکوں کو امریکی قرضوں کی سطح پر شدید تشویش ہے۔
ایران کے خلاف امریکی جنگی اخراجات اور بڑھتی ہوئی شرح سود نے عالمی مالیاتی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر امریکی معیشت نے اپنے خسارے پر قابو نہ پایا تو ڈالر عالمی تجارت کی ’واحد‘ کرنسی کا درجہ کھو دے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر ایک طویل عروج کے بعد اب تنزلی کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
چینی یوآن اور یورو جیسی کرنسیوں کا بڑھتا ہوا کردار اور سونے کی طرف عالمی رجحان واضح کرتا ہے کہ دنیا ایک کثیر قطبی مالیاتی نظام کی طرف گامزن ہے اور مستقبل قریب میں ڈالر کا اثر کم ہونا ناگزیر نظر آتا ہے۔