امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے چند روز بعد ہی دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھ گئی۔
آبنائے ہرمز اور جنوبی لبنان میں پیدا ہونے والے تنازعات نے معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جبکہ ثالث ممالک سفارتی کوششوں کے ذریعے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر فوجی اور سیاسی تناؤ نے سر اٹھا لیا۔
حالیہ پیش رفت نے اس معاہدے کو اس کے پہلے اور شاید سب سے کڑے امتحان سے دوچار کر دیا ہے، جسے جنگ روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا تھا۔
اگرچہ 17 جون کو طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت نے براہِ راست فوجی تصادم روکنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم بعد میں رونما ہونے والے واقعات نے واضح کر دیا کہ یہ مفاہمت ابھی انتہائی نازک مرحلے میں ہے۔
خاص طور پر آبنائے ہرمز اور جنوبی لبنان سے متعلق معاملات ایسے حساس نکات بن چکے ہیں جو کسی بھی وقت پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ یادداشت مستقل امن کا معاہدہ نہیں بلکہ جنگ روکنے کے لیے ایک عبوری فریم ورک ہے۔
اس میں فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے، 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق متعدد نکات شامل ہیں۔
الزامات کا تبادلہ
مگر یہ سکون زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔
امریکہ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز ’کیکو‘ پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے اور اس کا ذمہ دار ایران ہے۔ واشنگٹن کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت کی پہلی واضح خلاف ورزی تھی۔
دوسری جانب تہران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں اور آبنائے ہرمز میں اس کے اقدامات سمندری آمدورفت کے انتظام اور اپنی خودمختاری کے دائرے میں آتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد اتوار کی صبح امریکی افواج نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز کے اطراف دس فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کیے۔
ان حملوں میں ریڈار مراکز، ساحلی نگرانی کے نظام، میزائل ڈپو اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمان ’سینٹکام‘ نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کا مقصد بین الاقوامی جہاز رانی کا تحفظ اور تجارتی جہاز پر حملے کا جواب دینا تھا۔
ایران نے امریکی کارروائی کو مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے خود اپنے وعدوں کو پامال کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حملے اقوام متحدہ کے منشور اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
اس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے خطے میں امریکی فوج کی 8 اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں کویت کی علی السالم ایئر بیس اور بحرین میں امریکی بحری بیڑے کے پانچویں فلیٹ کا ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدے کے بعد اب تک کی سب سے خطرناک کشیدگی ہے۔
ہر فریق خود کو درست سمجھتا ہے
موجودہ صورتحال کی سب سے بڑی پیچیدگی یہ ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں بظاہر مفاہمتی عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، مگر ہر ایک کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی پہلی خلاف ورزی دوسرے فریق نے کی۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنا کر معاہدہ توڑا، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ امریکی فضائی حملے پہلے ہوئے اور اس کا ردعمل دفاعی اقدام تھا۔
ماہرین کے مطابق معاہدے میں خلاف ورزیوں کی نگرانی یا ان کی غیر جانبدارانہ جانچ کا کوئی واضح طریقۂ کار موجود نہیں، جس کی وجہ سے ہر واقعہ فوری طور پر سیاسی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز... سب سے حساس محاذ
مفاہمتی یادداشت کے بعد آبنائے ہرمز سب سے اہم اور حساس مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ معاہدے کے تحت اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے کھولنے پر اتفاق کیا گیا تھا، کیونکہ جنگ کے دوران اس کی بندش نے عالمی تیل اور گیس کی منڈیوں کو شدید متاثر کیا تھا۔
تاہم چند ہی دنوں بعد ایک بار پھر تجارتی جہازوں پر حملوں کے الزامات نے اس گزرگاہ کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
امریکہ۔ایران مفاہمت پہلے امتحان میں؛ ہرمز اور لبنان نے خطرات بڑھا دیے
17 جون کی مفاہمتی یادداشت کے چند ہی دن بعد آبنائے ہرمز میں حملوں، امریکی فضائی کارروائیوں اور لبنان کی کشیدگی نے اس عبوری معاہدے کو انتہائی نازک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
⚠️ پہلا بڑا امتحان
امریکہ اور ایران دونوں مفاہمتی عمل جاری رکھنا چاہتے ہیں، مگر ہر فریق دوسرے کو پہلی خلاف ورزی کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔
⚓ آبنائے ہرمز مرکزِ بحران
تجارتی جہاز پر حملے کے الزام اور بعد ازاں امریکی فضائی کارروائیوں نے ہرمز کو ایک بار پھر عالمی توانائی اور جہاز رانی کے لیے سب سے حساس محاذ بنا دیا ہے۔
🔥 بحران کے چار بڑے خطرات
- 🚢 آبنائے ہرمز میں نیا سکیورٹی واقعہ عالمی تیل منڈی کو ہلا سکتا ہے۔
- ⚔️ امریکی اور ایرانی جوابی حملے معاہدے کو عملی طور پر کمزور کر سکتے ہیں۔
- 🇱🇧 جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں مفاہمت کی دوسری کمزور کڑی بن چکی ہیں۔
- 🕊️ خلاف ورزیوں کی غیر جانبدار نگرانی نہ ہونے سے ہر واقعہ سیاسی بحران بن رہا ہے۔
🇺🇸 واشنگٹن کا موقف
امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنا کر معاہدہ توڑا، اس لیے فضائی کارروائیاں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے ضروری تھیں۔
🇮🇷 تہران کا موقف
ایران امریکی حملوں کو مفاہمتی یادداشت، اقوام متحدہ کے منشور اور اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔
🇱🇧 لبنان کی الجھن
ایران کے نزدیک جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں معاہدے کی روح کے خلاف ہیں، جبکہ واشنگٹن اس معاملے کو الگ زاویے سے دیکھتا ہے۔
🤝 ثالثوں کی کوشش
پاکستان اور عرب ممالک کشیدگی کم کرنے، رابطے بحال رکھنے اور متنازع نکات کی واضح تشریح کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
📌 خلاصہ
- یہ معاہدہ مستقل امن نہیں بلکہ جنگ روکنے کا عبوری فریم ورک ہے۔
- ہرمز اور لبنان معاہدے کے سب سے حساس اور کمزور نکات بن چکے ہیں۔
- دونوں فریق مذاکرات چاہتے ہیں، مگر اپنی تشریح منوانے کے لیے دباؤ بھی بڑھا رہے ہیں۔
- آئندہ چند دن اس مفاہمتی عمل کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف تیل کی ترسیل کا راستہ نہیں بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم تزویراتی دباؤ کا ذریعہ بھی ہے۔
اسی لیے یہاں معمولی کشیدگی بھی فوری طور پر عالمی توانائی کی قیمتوں اور مالیاتی منڈیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
فوجی اور اسٹراٹیجک امور کے ماہر کرنل نضال ابو زید کے مطابق پاسدارانِ انقلاب محسوس کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز پر ان کی روایتی دباؤ کی صلاحیت بتدریج کمزور ہو رہی ہے، اسی لیے وہ اس آبی گزرگاہ پر اپنا عملی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام صرف ایران کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کوئی دوسرا فریق اختیار نہیں رکھتا۔
ان کے مطابق اس سے مختلف کوئی بھی مؤقف مفاہمتی یادداشت کے منافی ہوگا۔
لبنان... معاہدے کی دوسری کمزور کڑی
ماہرین کے نزدیک جنوبی لبنان سے متعلق شقیں بھی خاصی مبہم ہیں، جس کی وجہ سے مختلف فریق انہیں اپنے اپنے انداز میں بیان کر رہے ہیں۔
اگرچہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فضائی کارروائیاں جاری رکھی ہیں اور بعض علاقوں میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر اصرار کیا ہے۔
اس کے برعکس ایران کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں اور لبنانی سرزمین پر اس کی مسلسل موجودگی معاہدے کی روح کے خلاف ہے اور اس صورتحال میں ایران اپنے اتحادیوں کی حمایت کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کسی بھی دیرپا امن معاہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔
کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ کشیدگی اس بات کا ثبوت نہیں کہ امریکہ یا ایران دوبارہ مکمل جنگ چاہتے ہیں، بلکہ دونوں فریق مذاکراتی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے اور معاہدے کی اپنی تشریح منوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی دوران کئی بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں، آبنائے ہرمز میں سلامتی کے انتظامات، خطے میں ایرانی اثر و رسوخ اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔
اسی وجہ سے بہت سے مبصرین اس مفاہمتی یادداشت کو مستقل امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک عارضی جنگ بندی تصور کرتے ہیں۔
کیا معاہدہ ٹوٹ جائے گا؟
ابھی تک نہ واشنگٹن اور نہ ہی تہران نے مفاہمتی یادداشت سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ممالک بظاہر مذاکرات جاری رکھنے کے حامی ہیں، تاہم ایک دوسرے پر مسلسل خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔
موجودہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ معاہدہ انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
آبنائے ہرمز میں کوئی نیا واقعہ، جنوبی لبنان میں مزید کشیدگی یا کسی بھی قسم کی نئی فوجی کارروائی اس مفاہمت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھتا ہے تو امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں مزید وسعت دے سکتا ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے بھی اعلان کیا ہے کہ آئندہ ہر مبینہ خلاف ورزی کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
ثالثوں کی دوڑ
اس تمام صورتحال کے درمیان ثالث ممالک کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو بچانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی سے رابطہ کرکے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان امن، سفارت کاری اور مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا۔
ادھر متعدد عرب وزرائے خارجہ کے درمیان بھی رابطے ہوئے، جن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کی راہ ہموار کی جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند روز اور ہفتے اس مفاہمتی عمل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
اگر ثالث فریق متنازع نکات کی واضح تشریح اور عمل درآمد کا قابلِ قبول طریقۂ کار وضع کرنے میں کامیاب ہو گئے تو معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے، بصورت دیگر محدود فوجی جھڑپیں ایک وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا۔
اس وقت اگرچہ سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں ہوا، لیکن حالیہ واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت ابھی مستقل استحکام سے بہت دور ہے، اور اس کی کامیابی کا انحصار دونوں ممالک کی اس صلاحیت پر ہوگا کہ وہ اپنے اختلافات کو میدانِ جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کریں۔