براہ راست نشریات

کشیدگی کے باوجود ایران، امریکہ مذاکرات: آئندہ دور دوحہ میں ہوگا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک جولائی میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں نئے مذاکرات کرنے پر آمادہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس دور میں منجمد ایرانی اثاثوں پر بات ہوگی، جبکہ بعد ازاں پاکستان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔

العربیہ ٹی وی چینل نے اپنے ذرائع سے اطلاع دی ہے کہ جولائی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات دوحہ میں منعقد ہوں گے جہاں ایران کے منجمد مالی اثاثوں کے معاملے پر بات چیت کی جائے گی۔ 

ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ بعد کے مرحلے میں پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف دو جولائی کو ایران کا دورہ کریں گے۔

مزید پڑھیں

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکا اور ایران کے درمیان پہلی مرتبہ فوجی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔

واشنگٹن نے تہران پر ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملے کا الزام عائد کیا، جس کے جواب میں امریکا نے ایران پر فضائی حملے کیے۔

بعد ازاں ایران نے بھی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی اہداف پر جوابی حملوں کا دعویٰ کیا۔

ایران نے جمعے کو ہونے والے امریکی حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے منشور اور دونوں ملکوں کے معاہدے کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

ChatGPT Image 27 يونيو 2026، 01 56 55 ص

17 جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد یہ پہلا براہِ راست فوجی تصادم ہے، جس نے اس معاہدے کے مستقبل اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت برقرار رکھنے کی کوششوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 

دونوں ممالک اس وقت 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل سیاسی حل کے لیے بھی مذاکرات کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ڈرون کے ذریعے تجارتی جہاز پر حملے کو دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی ’احمقانہ خلاف ورزی‘ قرار دیا، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔

ادھر ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں 17 جون کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی ’کھلی خلاف ورزی‘ اور اقوام متحدہ کے منشور و بین الاقوامی قانون کی پامالی قرار دیا۔